ٹڈی دل سب چٹ کر گئی، پاکستان میں قحط کا خدشہ، بلوچستان میں غذائی قلت، قومی ادارہ صحت

ٹڈی دل سب چٹ کر گئی، پاکستان میں قحط کا خدشہ، بلوچستان میں غذائی قلت، قومی ...

  

کوئٹہ (آن لائن)غذائی قلت کے حوالے سے قومی ادارہ صحت کے ایک سروے کے مطابق بلوچستان کی50.3فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے جبکہ ہر10میں چار بچوں کو نشوو نما کی کمی کا سامنا ہے،پاکستان میں کرونا وبا کے بعد ٹڈی دل کے حملے نے غذائی قلت کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے اور ماہرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ ملک میں خوراک کے حوالے سے قحط کی صورتحال پیش آسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور زراعت، نیشنل فوڈ سکیورٹی اور ایگری کلچر ورکنگ گروپ کے اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر حبیب وردگ بھی حالیہ صورتحال کو تشویش ناک قرا ر دیتے ہیں پاکستان میں خوراک کی قلت کی صورتحال پہلے سے موجود ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق 6کروڑ لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں پاکستان میں 34اضلاع ایسے ہیں، جن میں 40فیصد لوگ شدید غذائی عدم تحفظ یا درمیانے درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، لیکن اب معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے کیونکہ اب ٹڈی دل انسانوں اور مویشیوں دونوں کی غذا کھا رہے ہیں۔ پاکستان میں دو قسم کی فصلیں کاشت ہوتی ہیں جن کو ربیع اور خریف کہا جاتا ہے۔حبیب وردگ کے مطابق ٹڈی دل کے حملے سے کاٹن انڈسٹری سمیت قومی زرمبادلہ پر بھی برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اگر ٹڈی دل ربیع کی 25فیصد فصلوں کو نقصان پہنچاتی ہے تو 400ارب روپے کا نقصان ہوگا اور خریف میں یہ 600ارب روپے اور 50فیصد ہونے پر ربیع میں 700ارب اور خریف میں 900ارب روپیسے زائد کا نقصان کا خدشہ ہے۔

قومی ادارہ صحت 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -