ضلع کرم میں کورونا کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے‘ صدائے مظلومین

  ضلع کرم میں کورونا کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے‘ صدائے مظلومین

  

پاراچنار (نمائندہ پاکستان) صدائے مظلومین ضلع کرم کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ضلع کرم میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور ڈاکٹروں سمیت ہر شعبے کے لوگ متاثر ہورہے ہیں مگر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سمیت متعلقہ حکام کی جانب سے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے کرونا کا مسلہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے پاراچنار میں صدائے مظلومین کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدائے مظلومین کے رہنماؤں علامہ مزمل حسین،شفیق مطہری اور شبیر حسین ساجدی نے کہا کہ کرونا وائرس سے جہاں ایم این اے منیر خان اورکزئی جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ ایم این اے ساجد طوری کا کرونا ٹیسٹ بھی پازیٹو آگیا ہے اسی طرح جو جو لوگ کرونا ٹیسٹ کررہے ہیں ان کے نتائج پازیٹیو آرہے ہیں جن میں محکمہ صحت کے نامور ڈاکٹرز بھی شامل ہیں انہوں نے کہا کہ علاقے میں کرونا وائرس کے وار روز بروز شدید تر ہوتے جارہے ہیں اور ہسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات درپیش ہیں اور آئے روز مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر ذمہ داران کی باہمی اختلافات اور چپقلش کے باعث مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بدقسمتی سے ہسپتالوں میں کسی قسم سہولیات موجود نہیں ہیں رہنماؤں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاراچنار میں میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کا پوسٹ کافی عرصہ سے خالی ہونے کی وجہ سے بھی ہسپتال کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں اور ڈاکٹرز و پیرامیڈیکس ناکافی سہولیات کے باوجود مریضوں کی زندگی بچانے میں مصروف ہیں اور لائف سیونگ کٹس اور دیگر سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث ڈاکٹرز خود کرونا کا شکار ہورہے ہیں جس کے باعث لوگ ہسپتال جانے سے کتراتے ہیں انہوں نے ڈاکٹروں کو ہیرو کا درجہ دیتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ڈاکٹروں کو سہولیات نہ دینا انہیں قتل کرنے کے مترادف ہے رہنماؤں نے کہا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اپر کرم کو جاری شدہ تیرہ کروڑ روپے کا فنڈ کہاں استعمال ہوا جبکہ شہر سے باہر قائم شدہ قرنطینہ سنٹر بھی بند ہوچکا ہے اور کرونا وائرس سے لوگوں کو بچاؤ اور سہولیات دینے کی بجائے دو سو تابوتوں کا آرڈر دینا کیا معنی رکھتا ہے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بدانتظامی کا یہ حال ہے کہ بیشتر متاثرہ مریض گھروں میں ائسولیٹ کیے گئے ہیں مگر انہیں کسی قسم ادویات راشن اور دیگر ضروریات فراہم نہیں کیا جارہا حتی کہ اپنے پیسوں پر بھی انہیں ادویات اور راشن فراہم نہیں کیا جارہا جو کہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت حکام گھروں میں بیٹھنے کی بجائے میدان عمل میں آئیں اور باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے کیلئے اقدامات ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -