چک جھمرہ، صحافی پر قاتلانہ حملہ کے ملزم بے نقاب،پولیس پر گرفتار نہ کرنے کا الزام

چک جھمرہ، صحافی پر قاتلانہ حملہ کے ملزم بے نقاب،پولیس پر گرفتار نہ کرنے کا ...

  

چک جھمرہ (نمائندہ خصوصی)مقامی صحافی نمائندہ روزنامہ پاکستان پر قاتلانہ حملہ کے ملزم بے نقاب پولیس پکڑنے سے انکاری، پلاننگ چک مولوآنی میں ہوئی اسلحہ لیکر آنے اور وصول کرنے والے اور قا تلوں کو سہولیات فراہم کرنے والے عیاں ہو چکے ہیں، اس حملہ میں عمران رحمانی نمائندہ پاکستان زخمی اور سیٹھ منیر سابق کونسلر ہلاک ہوئے تھے،مدعی نے ایک سازش کے تحت ملزمان کو بچاتے ہوئے مقدمہ حملہ میں مضروب عمران رحمانی کے خلاف درج کروا دیا تھا، میڈیکل رپورٹ سے بھی مدعی کے موقف کی نفی ہوتی ہے، تفصیلات کے مطابق ستائیس رمضان المبارک کی رات موٹر سائیکل سوار افراد نے نمائندہ روزنامہ پاکستان عمران رحمانی پر حملہ کیا جسکے نتیجہ میں قریب کھڑے سیٹھ منیر گولیاں لگنے سے ہلاک جبکہ عمران رحمانی زخمی ہو گیا تھا ملزمان نے ایک سوچھی سمجھی سازش کے تحت مقدمہ عمران رحمانی کے خلاف درج کروا دیا جب موبائل ڈیٹوں کا سہارا لیا گیا تو اس سے نہ صرف چک مولونی آنی سے حملہ میں استعمال ہونے والی کلاشنکوف وہاں سے لانے والا رکشہ ڈرائیور اور ستارہ چوک سے اسلحہ وصول کرنے والے دونوں افراد بے نقاب ہوگئے بلکہ اصل ملزمان بھی سامنے آگئے، لیکن پولیس ان ملزمان کو گرفتار کرنے سے انکاری ہے جبکہ چک مولوآنی سے اسلحہ جھمرہ لانے والے شخص نے گرفتاری کے دوران تمام معاملہ پولیس کو بتا دیا کیس کے تمام پہلو کلیئر ہونے کے باوجود نہ جانے پولیس اصل قاتلوں پر ہاتھ ڈالنے سے کیوں خاموش ہے چک جھمرہ کی صحافی تنظیموں،جھمرہ پریس کلب کے عہدیداران کا ممبران نے آئی جی پنجاب پولیس، آر پی او فیصل آباد سے اپیل کی ہے کہ نمائندہ پاکستان عمران رحمانی پر سے فوری قتل کا جھوٹا مقدمہ خارج کرکے اصل قاتلوں اور انکے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جائے ۔

چک جھمرہ

مزید :

صفحہ آخر -