جی 20 سے پاکستان کیلئے سب سے بڑی خوشخبری آ گئی ، قرض کی ادائیگی میں ریلیف مل گیا

جی 20 سے پاکستان کیلئے سب سے بڑی خوشخبری آ گئی ، قرض کی ادائیگی میں ریلیف مل گیا
جی 20 سے پاکستان کیلئے سب سے بڑی خوشخبری آ گئی ، قرض کی ادائیگی میں ریلیف مل گیا

  

پیرس(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کو باضابطہ طور پر ان ممالک میں شامل کرلیا گیا ہے جو قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرسکتے ہیں.پیرس کلب نے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں مہلت دینے کی منظوری دے دی ہے۔

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق  پاکستان کو باضابطہ طور پر قرضوں کی ادائیگی میں مہلت حاصل کرنے والے ممالک میں شامل کرلیاگیاہے۔ قرضوں کی ادائیگی میں مہلت جی 20قرض ریلیف ڈیل کے تحت ممکن ہوئی ہے۔ ریلیف حاصل کرنے والے ممالک میں چاڈ، ایتھوپیا اور ری پبلک آف کانگو بھی شامل ہیں۔

جی 20 گروپ اورفرانسیسی وزارت خزانہ کی معاونت سے کام کرنے والے پیرس کلب نے اپریل میں 77غریب ترین ممالک کی جانب سےرواں سال  قرض کی ادائیگیوں کو روکنے پر رضامندی ظاہر کردی تھی تاکہ وہ ممالک کورونا وائرس سے نبرد آزما ہوسکیں۔

تازہ ترین معاہدے کے تحت بارہ ممالک قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف حاصل کرسکیں گے۔پیرس کلب کے مطابق اس سہولت کے لیے کل تیس ممالک نے درخواست کی تھی۔

مئی کے آغازمیں پاکستان نے جی ٹوئنٹی ممالک سے مزید کسی قسم کے مراعاتی قرض نہ لینے  کی یقین دہانی کے ساتھ  قرض کی ادائیگی میں ریلیف کی درخواست کی تھی ۔یہ درخواست قرضوں کی ادائیگی میں التوا کے اقدام کے تحت جی ٹوئنٹی گروپ کے ممبران کو الگ الگ بھیجی گئی تھی ۔ گزشتہ ماہ قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف کی اس درخواست پر پاکستان نے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور پیرس کلب کو بھی اعتماد میں لیا تھا۔ 

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی نمائندہ خصوصی  ٹیریسا ڈیبن نے بیان دیا تھا کہ پاکستان نے جی 20ممالک کو قرض کی ریلیف کے لیے کوئی درخواست ہیں کی تھی۔

وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان پرجی 20کے 11ممالک کے بیس اعشاریہ سات ارب واجب الادا ہیں جبکہ دسمبر دوہزار بیس میں اسے ایک اعشاریہ آٹھ ارب ڈالرز اداکرنا ہیں۔

پندرہ اپریل کو جی ٹوئنٹی ممالک نےرواں سال مئی سے دسمبر تک76 ممالک کو قرض اور سود کی ادائیگی میں تاخیر کی منظوری دی تھی جن میں پاکستان  بھی شامل ہے تاہم قرض کی ادائیگی میں التوا کے لیے درخواست دائر کرنا ضروری قراردیا گیاتھا۔

آئی ایم ایف کی سولہ اپریل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کورونا کے ع اپنے بیرونی اخراجات کی مد میں 52اعشاریہ 8ارب  ڈالرضرورت ہو٘ں گے جن میں سے آئندہ مالی سال کے دوارب ڈالرزبطور فنانسنگ گیپ شامل ہیں۔آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان پاکستان کو مجموعی فنانسنگ کے طور پر مجموعی طور پر 29.3ارب ڈالرز درکارہوں جبکہ ایک اعشاریہ پانچ ارب کا فنانسنگ درکارہوگا۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کو ایمرجنسی قرض سکیم کے تحت ایک اعشاریہ چار ارب ڈالرز جاری کیے ہیں مگر وہ پاکستان کی ضروریات سے کم ہیں۔

قبل ازیں12 مئی کو حکومت نے کہا تھا کہ پاکستان کے جی 20 ممالک کے دسمبر تک قابل ادا 1.8 ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈولنگ کے مرحلے میں ہے اور وہ کسی کمرشل قرضوں کی ری شیڈولنگ طلب نہیں کر رہے۔

ڈان نیوز کے مطابق مجموعی طور پر قرضوں میں ریلیف کا مطلب یہ ہوگا کہ اس سال مئی سے جون کے دوران 11 ممالک کو پاکستان کی جانب سے 1.8 ارب ڈالر کی ادائیگی معطل ہوجائے گی، یہ دونوں، قرض کی اصل رقم اور اس کے سود کی شکل میں ہیں، بعدازاں اس رقم کو دوبارہ ادائیگی کے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

پاکستان پر ان ممالک کے کل 155 قرضوں کے تحت قابل ادا رقم تقریباً 20.7 ارب ڈالر ہے، جی 20 ممالک کے باقی 9 ممبران کی جانب سے پاکستان پر کوئی قرض نہیں۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -کورونا وائرس -