پاکستان میں اب تک کتنے اراکین اسمبلی کورونا وائرس سے متاثرہوئے ہیں؟ افسوسناک خبرآگئی

پاکستان میں اب تک کتنے اراکین اسمبلی کورونا وائرس سے متاثرہوئے ہیں؟ ...
پاکستان میں اب تک کتنے اراکین اسمبلی کورونا وائرس سے متاثرہوئے ہیں؟ افسوسناک خبرآگئی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہا، امیر ہو یا غریب، سیاستدان ہوں یا عوام غرض ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا شخص اس کے نشانے پر رہا ہے۔

اگر پاکستان میں سیاستدانوں کا ذکر کیا جائے تو اب تک ملک بھر کی مختلف سیاسی جماعتوں کے 75افراد اس موذی وائرس سے متاثرہوچکے ہیں جبکہ افسو س کے ساتھ لکھنا پڑرہا ہے کہ دو سابق اراکین صوبائی اسمبلی سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل سات اراکین لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق کورونا سے متاثرہونے والوں میں مختلف جماعتوں کے رہنما شامل ہیں۔

 اردونیوز کے مطابق کورونا سے سب سے زیادہ متاثر پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی اخونزادہ چٹان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرچ اور چاکلیٹ کا ذائقہ یکساں محسوس ہو رہا ہے۔ منہ کا ذائقہ اتنا کڑوا ہے کہ کنویں میں تھوک پھینک دوں تو وہ ایک مہینہ تک کڑوا رہے۔ 

پاکستان کی قومی اسمبلی کے تین سو 42 ارکان میں سے 21 کورونا کا شکار ہوئے جن میں سے 10 کا تعلق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف سے ہے جبکہ چار مسلم لیگ ن سے ہیں۔ ان ارکان میں سے سپیکر قومی اسمبلی سمیت کچھ دیگر صحت یاب ہو چکے ہیں۔ 

قومی اسمبلی کے جو ارکان کورونا کا شکار ہوئے ان میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزیر شیخ رشید، شہریار آفریدی کے علاوہ پی ٹی آئی کے ملک عامر ڈوگر، پیر ظہور حسین قریشی، ملک کرامت علی کھوکھر، گل ظفر خان، محبوب شاہ، راحت امان اللہ بھٹی، عثمان خان ترکئی، وجیہہ اکرم، جے پرکاش، نزہت پٹھان، رائے مرتضیٰ اقبال شامل ہیں۔ 

مسلم لیگ کے دیگر ارکان میں مریم اورنگزیب، ان کی والدہ طاہرہ اورنگزیب اور سید جاوید حسین شامل ہیں۔ 

ایم کیو ایم کے اسامہ قادری، جمہوری وطن پارٹی کے شاہ زین بگٹی اور آزاد رکن علی وزیر بھی کورونا وائرس کا شکار ہونے والوں میں شامل ہیں۔ 

ایوان بالا یعنی سینیٹ کے پانچ ارکان وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں جن میں جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عطا الرحمان، پی ٹی آئی کے فدا محمد، فاٹا کے آزاد رکن مرزا محمد آفریدی اور پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی سینیٹر عابدہ عظیم شامل ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری سمیت 11 ارکان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ دیگر ارکان دو صوبائی وزراء، وزیر انرجی ڈویلپمنٹ اختر ملک،  وزیر خواندگی راجہ راشد حفیظ کے علاوہ چودھری علی اختر، مسلم لیگ ن کے خواجہ سلمان رفیق رانا عارف اقبال، مظفر علی شیخ، میاں نوید علی اور سیف الملوک کھوکھر شامل ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی رکن شاہین رضا چیمہ اور مسلم لیگ ن کے شوکت منظور چیمہ کورونا سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 

صوبائی اسمبلیوں میں سے سندھ اسمبلی کے سب سے زیادہ 19 ارکان کرونا وائرس کا نشانہ بنے ہیں۔ جن میں صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی، شرجیل انعام میمن، لیاقت علی اسکانی، ساجد جوکھیو، نور محمد بھرگڑی، تاج محمد ملاح، محمد سلیم بلوچ، سہراب خان سرکی، رانا ہمیر سنگھ، سعدیہ جاوید، ایم کیو ایم کے علی خورشیدی، شاہانہ اشعر، منگلا شرما، غلام جیلانی، جی ڈی اے کے معظم علی عباسی، راشد شاہ، پی ٹی آئی کے شاہ نواز جدون اور جماعت اسلامی کے عبدالرشید شامل ہیں۔

سندھ کے وزیر کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا کے باعث دم توڑ چکے ہیں۔ 

خیبر پختونخوا اسمبلی کے 13 ارکان کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔  صوبائی وزیر ہاؤسنگ امجد علی، وزیراعلیٰ کے مشیر ضیا اللہ بنگش، معاون کامران بنگش، سابق صوبائی وزیر ایم ایم اے کے عنایت اللہ خان، پی ٹی آئی کے عبدالسلام آفریدی، ہمایوں خان، مدیحہ نثار، اے این پی کے فیصل زیب خان، حاجی بہادر خان، صلاح الدین، مسلم لیگ ن کے جمشید خان مہمند اور آزاد رکن شفیق آفریدی میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن میاں جمشید الدین کاکاخیل کورونا سے ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ 

بلوچستان اسمبلی کے متعدد ارکان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی جن میں صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی، صوبائی وزیر داخلہ سلیم احمد کھوسہ، وزیراعلیٰ کے مشیر عبدالخالق ہزارہ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ خان بریچ، جے یو آئی کے رکن یونس عزیزاور ایم ایم اے کے میر یونس عزیز زہری شامل ہیں۔ 

بلوچستان اسمبلی کے رکن سید فضل آغا بھی کورونا ہی سے ہلاک ہوگئے۔  

سابق رکن بلوچستان اسمبلی مصطفیٰ ترین کا بھی کورونا سے انتقال ہوچکا ہے۔ 

ان کے علاوہ کورونا نے پنجاب اسمبلی کے سابق رکن اللہ یار انصاری اور بلوچستان کے سابق وزیر در محمد ناصر کی جان لے لی ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -