" 2 ہزار سالہ تاریخ میں کسی حکیم نے سینے کے انفیکشن کیلئے سنا مکی  تجویز نہیں کی" معروف حکیم نے سنامکی کو کورونا کا علاج سمجھنے والوں کو وارننگ دے دی

" 2 ہزار سالہ تاریخ میں کسی حکیم نے سینے کے انفیکشن کیلئے سنا مکی  تجویز نہیں ...

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں سنا مکی کو کورونا کے علاج کے طور پر پیش کیا جارہا ہے لیکن حکماء کا کہنا ہے کہ 2 ہزار سالہ تاریخ میں سنا مکی کو کبھی بھی سینے کے انفیکشن کا علاج کرنے کیلئے استعمال نہیں کیا گیا۔

راولپنڈی میں ہمدرد دواخانہ کے سربراہ حکیم مقبول احمد شاکر کا کہنا ہے کہ سنا مکی میں کورونا کے جرثومے کے خلاف کوئی فائدہ موجود نہیں ہے، اگر اس کا قہوہ کورونا کے مریضوں کو مسلسل استعمال کرایا جائے تو اس سے جان جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انفیکشن کنٹرول سوسائٹی آف پاکستان کے صدر ڈاکٹر رفیق خانانی کا کہنا ہے کہ بعض ڈاکٹر کرونا وائرس کے انسانی جسم پر حملہ کے ابتدائی وقت میں سنا مکی کو مفید سمجھتے ہیں تاہم اس کا زیادہ استعمال انسانی صحت کیلئے مضر ہے۔

انڈیپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے حکیم آغا عبدالغفار نے کہا کہ  2 ہزار سال کی تاریخ میں کسی حکیم یا طبیب نے سینے کے انفیکشن کا علان کرنے کیلئے سنامکی کے استعمال کی تجویز نہیں دی۔ "  کورونا وائرس کے علاج کے لیے سنا مکی کا علاج ایک بیوقوفانہ فعل ہے۔ اور لوگوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔"

پاکستان میں سوشل میڈیا پر سنامکی کے قہوے کو کورونا کا علاج قرار دیے جانے کے بعد اس کی قیمتیں بھی ماسک اور دیگر چیزوں کی طرح آسمان کو چھونے لگی ہیں۔  پہلے سنامکی کے پتے 300 روپے کلو ملتے تھے لیکن اب ہر شخص ان کی خریداری کر رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمت 1500 سے 2 ہزار روپے فی کلو ہوگئی ہے۔

مزید :

تعلیم و صحت -کورونا وائرس -