کورونا وائرس، عالمی ادارہ صحت کی وہ معلومات جو سائنسدانوں نے غلط قرار دیدیں، ٹرمپ بھی برس پڑے

کورونا وائرس، عالمی ادارہ صحت کی وہ معلومات جو سائنسدانوں نے غلط قرار دیدیں، ...
کورونا وائرس، عالمی ادارہ صحت کی وہ معلومات جو سائنسدانوں نے غلط قرار دیدیں، ٹرمپ بھی برس پڑے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس پھیلنے کی ابتداءمیں اس کے متعلق کچھ ایسی معلومات دنیا کو دیں جو بعد میں غلط ثابت ہوئیں۔ اسی معاملے پر امریکی صدر ٹرمپ عالمی ادارہ صحت پر برس پڑے اور اس کی امداد بندکرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ اب ایک بار پھر عالمی ادارہ صحت کی ایک ایسی ہی غلط اطلاع پکڑی گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق گزشتہ پیر کے روز عالمی ادارہ صحت نے بتایا تھا کہ کورونا وائرس ایسے لوگوں سے بہت کم یا نہ ہونے کے برابر پھیلتا ہے جن میں اس کی علامات نہیں ہوتیں۔ یہ انہی لوگوں سے دوسروں کو منتقل ہوتا ہے جن میں اس کی علامات نمایاں ہوں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان اس غلط اطلاع پر عالمی ادارہ صحت پر برس پڑے اور الزام عائد کر دیا کہ عالمی ادارہ دنیا کو غلط اطلاعات دے کر کنفیوژن پھیلا رہا ہے۔ چند روز قبل ہی ہارورڈ یونیورسٹی کے انہی سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کے نتائج میں بتایا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا 70سے 80فیصد سبب وہی لوگ بن رہے ہیں جن میں اس کی علامات موجود نہیں ہوتیں۔ سائنسدانوں نے ایسے لوگوں کو ’سپر سپریڈرز‘ (Super spreaders)کا نام دیا تھا۔

ہارورڈ کے سائنسدان کے اس سخت ردعمل کے بعد عالمی ادارہ صحت نے اپنے پہلے موقف سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے۔ ادارے کی طرف سے گزشتہ روز جاری ہونے والے ایک بیان میںادارے کی عہدیدار ڈاکٹر ماریا وین کرخووے کا کہنا تھا کہ ”کورونا وائرس کے پھیلاﺅ سے متعلق پہلے دیا گیا بیان غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔ درحقیقت وائرس ان لوگوں سے زیادہ پھیل رہا ہے جن میں اس کی علامات موجود نہیں ہوتیں، چنانچہ ایسے لوگ جو بظاہر صحت مند ہوں ان کے لیے سماجی رابطے کی پابندی پر عمل از حد ضروری ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -