لاک ڈاﺅن کے دوران امیر زیادہ امیر اور غریب کے غریب ترہونے کا انکشاف، لیکن کیسے؟ جان کر آپ کو بھی دکھ ہوگا

لاک ڈاﺅن کے دوران امیر زیادہ امیر اور غریب کے غریب ترہونے کا انکشاف، لیکن ...
لاک ڈاﺅن کے دوران امیر زیادہ امیر اور غریب کے غریب ترہونے کا انکشاف، لیکن کیسے؟ جان کر آپ کو بھی دکھ ہوگا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس اور لاک ڈاﺅن نے جہاں کاروبار اورممالک کی معیشت کو نقصان پہنچایا وہیں انفرادی طور پر لاک ڈاﺅن کے دوران امیر لوگ مزید امیر اور غریب لوگ غریب تر ہونے کا حیران کن انکشاف سامنے آ گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق برطانیہ میں 20لاکھ سے زائد خاندان لاک ڈاﺅن کے بعد پہلے سے زیادہ بہتر مالی حالت کے ساتھ سامنے آئے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے غریب خاندان قرضوں کے طوفان کا سامنا کر رہے ہیں۔

ریزولوشن فاﺅنڈیشن کے ماہرین نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ جن گھرانوں کی آمدنی خاطر خواہ تھیں، ان کی مالی حالت اس لیے بہتر ہو گئی کہ لاک ڈاﺅن کے دوران ان کے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہو گئے اور انہیں بہت زیادہ بچت ہوئی۔ دوسری طرف جن خاندانوں کی مالی حالت اچھی نہ تھی یا ان کا روزگار ہی لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ختم ہو گیا انہوں نے قرض لے کر لاک ڈاﺅن کے دن گزارے اور اب ان پر پہلے سے کئی گنا زیادہ قرض چڑھ چکا ہے۔ لاک ڈاﺅن سے خاص طور پر ایسے لوگ متاثر ہوئے ہیں جن کی آمدنی 30ہزار پاﺅنڈ سالانہ سے کم تھی۔

فاﺅنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو فل اینڈریو کا کہنا تھا کہ ”ہماری تحقیق کے مطابق امیر خاندانوں میں سے 38فیصد لوگوں کا بینک بیلنس پہلے سے بہت بہتر ہو گیا ہے جبکہ غریب لوگوں میں یہ شرح صرف 12فیصد رہی۔ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے کم ترین آمدنی والے افراد کے اخراجات میں صرف 30فیصد کمی ہوئی جبکہ زیادہ آمدنی والے لوگوں کے اخراجات میں 51سے 57فیصد کمی واقع ہوئی۔ اخراجات کم ہونے کی یہ شرح اور آمدنی متاثر ہونے کا پہلو دو ایسے عوامل تھے جن کی وجہ سے امیر لوگ لاک ڈاﺅن کے دوران امیر تر اور غریب غریب تر ہوئے اور مزید مقروض ہو گئے۔“

مزید :

برطانیہ -