بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی کا معاملہ ،حکومتی بڑوں نے سرجوڑ لیے

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی کا معاملہ ،حکومتی بڑوں نے سرجوڑ لیے
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی کا معاملہ ،حکومتی بڑوں نے سرجوڑ لیے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپیکرقومی اسمبلی اسدقیصر نےکہاہےکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کاقیمتی سرمایہ ہیں ، بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو ہنگامی بنیادوں پر واپس لانے کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہارپارلیمنٹ ہاؤس میں بیرون ملک پاکستانی تاراکین وطن کی واپسی کے امور کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،وزیر اعظم کے معاون برائے اوورسیز پاکستانیزسید ذلفی بخاری، بیرون ملک پھنسے ہوئے تاراکین وطن کی واپسی کے لیے قائم قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے کنوینر شاہد حسین، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی براے خارجہ امور اور قائمہ کمیٹی براے اوورسیز پاکستانیز کے چیئرمینوں ملک احسان اللہ ٹوانہ اور شیخ فیاض الدین نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں ، زیادہ تر بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی ویزوں کی معیاد ختم ہو چکی ہے اور انہیں رہائش کے سلسلے میں مشکلات کاسامناہے،بیرون ملک پھنسےپاکستانیوں کوہنگامی بنیادوں پرواپس لانےکےاقدامات اٹھائےجائیں۔سپیکر اسد قیصر

نے وزارت خارجہ کے بیرون ملک قائم مشنز اوروزارت براے اوورسیزپاکستانیز کی جانب سے بیرون ملک پھنسے ہوئے تاراکین وطن کی رہائش کے لیے انتظامات اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جو تارکین وطن واپس آنا چاہتے ہیں ان کی واپسی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں۔

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کو بتایا کہ وزارت خارجہ متحرک انداز میں بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے اقدامات اٹھارہی ہے اور اس مقصد کے لیے وزارت خارجہ میں کرائسس مینجمنٹ یونٹ قائم کیا گیا ہے جو 24 گھنٹے خدمات سرانجام دے رہا ہے، کورونا وائرس وبا کے شروع ہونے سے ابتک60ممالک سے 62000پاکستانیوں جن میں 1712بیرون ملک قید پاکستانی بھی شامل ہیں کو وطن واپس لایا گیا ہے، 2054میں سے 2018تبلیغی جماعت کے اراکین کو بھی واپس لایا جا چکا ہے ۔وزیرخارجہ نےکہاکہ باقی ماندہ90000سےزائد پاکستانیوں کی واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھا جارہے ہیں،وزارت خارجہ نے بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی واپسی اور ان کے رہائش کے بندوبست کے سلسلے میں تمام تر انتظامات اپنے بجٹ سے کیے جس پر 150ملین روپے کی لاگت آئی،بیرون ملک  پاکستانی سفارتخانوں نے 479میتیں پاکستان پہنچانے کے انتظامات بھی کیے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ وزارت خارجہ کا ائیر ٹکٹوں کی بکنگ اور فروخت میں کوئی کردار نہیں ہے۔

اجلاس کے دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی استعداد میں اضافہ کرتے ہوئے ہفتہ وار استعداد کو 2000ہزار سے بڑھ کر 18000 کر دیا گیا ہے اوراس مقصد کے لیے 6ائیر پورٹس کوفعال کیا گیاہے۔انہوں نے لاک ڈاؤن سے پہلے سے جاری فلائٹ آپریشن کو 40فیصد تک بحال کرنے کی منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان اقدامات سے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس پہنچنے کے لیے درپیش مشکلات میں خاطر خواہ کمی ہو گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 580طلبا کو چین سے رعایتی ٹکٹوں پر وطن واپس لایا گیاہے۔

اراکین قومی اسمبلی کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے بتایا کہ ان تاراکین وطن جن کا وزٹ ویزا ختم ہو گیا تھا یا وہ بے روزگار ہو گے تھے کو ترجیحی بنیادوں پر واپس لایا گیاہے۔ انہوں نے پاکستانی سفارتخانوں اور قونصلیٹ جنہوں نے محدود افرادی قوت کے ہوتے ہوئے اس مشکل وقت میں بہترین خدمات سرانجام دیں کو سراہا۔سپیکر قومی اسمبلی نے وزارت خارجہ اور اوورسیز پاکستانیزکی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے انہیں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کے لیے طریق کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید :

قومی -