سندھ میں گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کتنے نئے کیسز تشخیص اور کتنے افراد جان کی بازی ہار گئے؟وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں

سندھ میں گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کتنے نئے کیسز تشخیص اور کتنے افراد جان کی ...
سندھ میں گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کتنے نئے کیسز تشخیص اور کتنے افراد جان کی بازی ہار گئے؟وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے 9100 ٹیسٹوں کے نتیجے میں 2487 نئے کیسز سامنے آئے جوکہ مجموعی تعداد کا 27.3 فیصد بنتا ہے جبکہ اب تک سب سے زیادہ 42 مزید مریضوں کی ہلاکتوں کے بعد تعداد 738ہوگئی ہےجونئےکیسز کی سب سے زیادہ شرح ہے، اب صورتحال تشویشناک بن گئی ہے،گذشتہ 24 گھنٹوں میں 42 مریضوں کے جاں بحق ہونے کی افسوسناک رپورٹ  نے مجھے بہت غمزدہ کیا ہے۔

کورونا کے حوالے سے تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ٹیسٹوں کی گنجائش میں اضافہ کیا ہے اور 9100 ٹیسٹ کئے گئے جن سے 2487 کیسز کی تشخیص ہوئی ہے،یہ شرح 27.3 فیصد ہے اور یہ سب سے زیادہ تشخیصی تناسب ہے جو کہ عوام کے تعاون سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 255617 ٹیسٹ کروائے گئے جن سے 43790 کیسز سامنے آئے، 42 مزید مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کورونا  سے ہونے والی اموات کی تعداد 738 ہوگئی ہے اس کے بعد شرح 1.7 فیصد ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 42 مریضوں کی موت اب تک کی سب سے زیادہ رپورٹ ہے اور اس نے مجھے بہت غمزدہ کیا ہے، اس وقت 22045 مریض زیر علاج ہیں ان میں سے 20471 گھروں میں، 48 آئسولیشن مراکز میں اور 1526 مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں،مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ 493 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جن میں 77 مریضوں کو وینٹیلیٹرز پر منتقل کیا گیا ہے۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1111 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جسکے بعد صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 21007 ہوگئی ہے جوکہ 48.3 فیصد ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ عید الفطر کے 15دن کے بعد کیسز اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور بدھ کے روز ہماری 42 اموات ہوئیں جو اب تک کی سب سے زیادہ اموات ہے،ہسپتال میں مریضوں کے داخل ہونے کی تعداد میں 15دن کی نسبت چار گنا اضافہ ہوا ہے، پچھلے 15 دنوں کے دوران مریضوں کی تعداد میں بھی 10 بار اضافہ ہوا ہے۔مراد علی شاہ کے مطابق 75 فیصد اموات کموربیڈیز کے ساتھ ہوئی ہیں اور 75 فیصد 50 سال سے زیادہ عمر کی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پورے پاکستان میں ہیلتھ کیئر عملے کی 34 اموات کی اطلاع ملی ہے ان میں سے 12 کا تعلق سندھ سے ہے۔ ضلعی سطح پر کیسز سے متعلق وزیر اعلی نے کہا کہ 2487 میں سے کراچی میں 1755 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضلع شرقی 498، ضلع جنوبی 443، ضلع وسطی 409، ضلع ملیر 173، ضلع غربی 117 اور ضلع کورنگی 115 شامل ہیں، حیدرآباد میں 80، گھوٹکی 69، سکھر 43، لاڑکانہ 40، سانگھڑ 37، خیرور 29، دادو اور جامشورو 25-25، سجاول 23، کشمور 22، شکارپور 17، میرپورخاص 13، شہید بینظیر آباد 13، ٹھٹھہ 12، قمبر 11، ٹنڈو محمد خان 11، عمرکوٹ 9، جیکب آباد 8، بدین 4، ٹنڈو الہ یار ایک نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مختلف لیبز کی ٹیسٹنگ گنجائش کو 110 گنا بڑھا کر 80 سے 9000 کردیا گیا ہے،ہمارے پاس 9مختلف اضلاع میں 21 لیبز ہیں جہاں فی ملین کے قریب ٹیسٹ لیا جاتا ہے،225000 ٹیسٹوں میں سے 80 فیصد ٹیسٹ سندھ حکومت نے بلا معاوضہ یعنی مفت کئے ہیں۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے 8000 ہزار بستروں کی سہولیات والے 203 ڈیزائینٹڈ ہسپتالوں کا انتظام کیا گیا ہے، ہم نے 670 ایچ ڈی یو بستروں سمیت وینٹیلیٹروں کے 334 آئی سی یو بیڈ قائم کیے ہیں اور ان کی سہولیات میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

وزیر اعلٰی سندھ نےاپنے بیان کے اختتام میں کہا کہ ان کی حکومت نے کوویڈ 19 کے علاج معالجے اور رہنمائی کے سلسلے میں 1021، 1025، 9123، 021-99204452 اور 021-99206565 ہیلپ لائن قائم کی ہیں۔ انہوں نے صوبے کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس نازک صورتحال کو سمجھیں اور غیرضروری اخراجات سے گریز کریں اور حقیقی معنوں میں ایس او پیز کی پیروی کریں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -کورونا وائرس -