فنڈزکی عدم فراہمی: جنوبی پنجاب میں 400سے زائد قدیمی سائیٹس پر کام بند 

فنڈزکی عدم فراہمی: جنوبی پنجاب میں 400سے زائد قدیمی سائیٹس پر کام بند 

  

ملتان (رانا عرفان اسلام سے)فنڈز کی عدم فراہمی، کھدائی نہ ہونے کے باعث محکمہ آثار قدیمہ کے سیکنڑوں تاریخی مقامات معدوم ہونے لگے ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کی اپنی ریسرچ کے مطابق جنوبی پنجاب میں 400سے زائد قدیمی سائٹس پر کام نہ ہو سکاہے جس میں ضلع ملتان میں 50، ضلع خانیوال میں 51، ضلع وہاڑی میں 39 اور ضلع لودھراں میں 36سائٹس موجود ہیں۔ ضلع بہاولپور میں زمانہ قدیم کی 60، ضلع(بقیہ نمبر43صفحہ7پر)

 راجن پور میں 11، ضلع ڈیرہ غازیخان میں 14، ضلع مظفر گڑھ میں 20، ضلع لیہ میں 11 اور ضلع جھنگ میں 55 سائٹس موجود ہیں۔ چولستان میں قلعہ ڈراوڑ سے 40 کلومیٹر دور“گویری والا سائٹ”اور“کڈھ والا سائٹ”یزمان کی تاریخ ہڑپہ دور کی ہے جہاں کھدائی کی جائے تو قدیم شہر کی باقیات برآمد ہو سکتی ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق یہ مقامات پنجاب میں ہڑپہ اور سندھ میں موہن جو داڑو کے درمیانی قدیمی شہر کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں مگر سرکاری طور پر ان مقامات کی کھدائی کے لئے آج تک کوئی اقدامات ہی نہیں کئے گئے۔ ضلع خانیوال میں زیادہ تر سائٹس تحصیل کبیر والا میں موجود ہیں۔ کبیر والا میں آدم بھڑ، امیر گڑھ بھڑ، اجلا بھڑ، بارہ قلعہ، داد سیال بھڑ، ڈنڈی سرگانہ بھڑ، دین پناہ بھڑ، فقیر والا بھڑ، گل دریا بھڑ، حاجی پور بھڑ، حشمت مرالی بھڑ (قبل مسیح)، حسن پور بھرکی، عنائت پور بھڑ، جلیل پور ماؤنڈ (ہڑپہ پیریڈ)، کالکاں والا بھڑ، ماہنی سیال بھڑ، مائی مٹھو بھڑ، مبارک پور بھڑ، نواں شہر بھڑ، رام والا بھڑ، رتہ بھڑ، سمندری والا بھڑ، تحصیلدار والا ماؤنڈ (قبل مسیح) سمیت کئی مقامات ہیں جہاں سے دیوتاؤں کی تصاویر پر مشتمل ہندو بادشاہ“اشوکا”کے دور کے سکے، زیور اور دیگر قیمتی اشیا آج بھی نکل رہی ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ اس کی تصدیق بھی کر چکا ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق اگر محکمہ کی جانب سے ان مقامات کی کھدائی شروع کرائی جائے تو قبل مسیح میں بعض وجوہات کی بنا پر دفن ہو جانے والے شہر منظر عام پر آسکتے ہیں۔

ماہرین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -