بہاولپور میں سرکاری، پرائیویٹ ہسپتالوں کی سکیورٹی بہتر کرنیکا حکم

بہاولپور میں سرکاری، پرائیویٹ ہسپتالوں کی سکیورٹی بہتر کرنیکا حکم

  

بہاولپور (بیورو رپورٹ،ڈسٹرکٹ رپورٹر)ڈی پی او محمد فیصل کامران نے ضلع بھر میں سرکاری و نجی ہسپتالوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دئیے،سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکو لیگل کیلئے آنے والے متحارب فریقین میں تصادم(بقیہ نمبر53صفحہ7پر)

 کے خدشات ہوتے ہیں،ہسپتالوں کے اندر ہر قسم کے تصادم کو روکنے کیلئے یقینی انتظامات کئے جائیں،ڈاکٹرز قوم کے مسیحا ہیں ان کا مستحکم احساس تحفظ معاشرتی صحت مندی کیلئے ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد فیصل کامران نے ضلع بھر کے پولیس افسران کو خصوصی ہدایات دیتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ ضلع بھر کے ایسے سرکاری ہسپتال جہاں پر میڈیکو لیگل کا اجراء ہوتا ہے یا جہاں پر مقتولین کا پوسٹ مارٹم ہوتا ہے ان کی حساسیت دیگر ہسپتالوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے،کیوں کہ میڈیکولیگل کے اجراء کے مقام پر متحارب فریقین کے ٹکراؤ اور تصادم کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے کہا کہ اسی طرح پوسٹ مارٹم کے مقامات بھی کسی بھی وقت نا خوشگوار صورتحال کو ابھار سکتے ہیں،پولیس نے ایک طرف متحارب فریقین کے ٹکراؤ سے ہسپتالوں کو بچانا ہے تو دوسری طرف ان ڈاکٹروں کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرنا ہے جو قانون اور میرٹ کے مطابق میڈیکو لیگل جاری کرتے ہیں،ڈی پی او فیصل کامران نے کہا کہ ڈاکٹرز قوم کے مسیحا ہیں ان کے جان ومال کا تحفظ بھی پولیس کی ترجیحات میں ہے تاکہ یہ کمیونٹی مکمل احساس تحفظ کے ساتھ مسیحائی کا فریضہ سرانجام دے تاکہ معاشرتی صحت مندی تیزی سے پروان چڑھے،ڈی پی او نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکار پوری جانفشانی کے ساتھ محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ محافظ کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دیں،انہوں نے کہا کہ جو پولیس اہلکار سرکاری و نجی ہسپتالوں میں سیکیورٹی ڈیوٹی انجام دے رہے ہوں ان کی فرض شناسی کو مجاز ہائیر پولیس اتھارٹی روزانہ کی بنیاد پر چیک کرے،معاشرتی تغیر و تبدل کے زوایے سے انہیں جدید رجحانات کے تحت اپ ڈیٹ کرتے ہوئے ہدایات دے،ڈی پی او محمد فیصل کامران نے کہا کہ ہسپتالوں کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا کوئی کمپرومائیز نہیں کیا جائیگا۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ویژن اور آئی جی پنجاب انعام غنی کی ہدایات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد فیصل کامران ضلع بھر میں قیام امن کو یقینی،مستحکم اور مسلسل بنانے کیلئے پریکٹیکل پولیسنگ میں مصروف ہیں۔انہوں نے ضلع بھر کے پولیس افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ سنیپ چیکنگ قانون شکنی کی عملی مانیٹرنگ کی پہلی نتیجہ خیز سیڑھی ہے،سنیپ چیکنگ کو اگر اس کے سپرٹ کے ساتھ عمل میں لایا جائے تو اس کے مثبت نتائج بہت سی قانون شکنیوں کو قبل از وقت روک لیتے ہیں،ڈی پی او نے کہا کہ ضلع کے داخلی اور خارجی راستوں پر مؤثر سنیپ چیکنگ قانون شکنوں کے خلاف ایک بڑا قانونی ہتھیار ہے،سنیپ چیکنگ کرنے والے افسران اگر ماہرانہ انداز میں یہ کام کریں تو ضلع کے داخلی اور خارجی راستوں سے نہ کوئی قانون شکن ضلع میں آ سکتا ہے اور نہ جا سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ ناجائز اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے کیلئے ضلع کے انٹری اور ایگزٹ پوائنٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں،قانون نافذ کرنے والے دیگر ادروں کے ساتھ اطلاعات اور معلومات کے تبادلے کی روشنی میں اگر ضلع کے داخلی اور خارجی راستوں پر سنیپ چیکنگ کی جائے تو اس سے قانون شکنوں کے بڑے گینگز بھی پکڑے جا سکتے ہیں جبکہ منشیات اور ناجائز اسلحہ کی اسمگلنگ کو ناکام بنا کر اس سے معاشرے کو بچایا جا سکتا ہے۔

حکم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -