چینی، گھی نہ آٹا، سہولت بازارویران، شہری خالی ہاتھ واپس 

چینی، گھی نہ آٹا، سہولت بازارویران، شہری خالی ہاتھ واپس 

  

  ملتان (  نیوز  رپورٹر  ) حکومت پنجاب کی جانب سے ہوشربا مہنگائی سے عوام کو ریلیف دینے کے لیئے ملتان سمیت صوبہ بھر میں سہولت بازاروں کے قیام کی نوید سنائی گئی لیکن صوبائی دارالحکومت میں براجمان بیوروکریٹس صوبہ بھر کے سہولت بازاروں کے لیئے فنڈز مختص کرنا (بقیہ نمبر54صفحہ7پر)

یکسر فراموش کرگئے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام شہر بھر میں لگائے جانیوالے سہولت بازار بنیادی اشیائے ضروریہ اور سبسڈائز اشیا کے فقدان کی وجہ سے اجڑے دیار کا منظر پیش کررہے ہیں اور بازاروں کے اطراف گندگی کے ڈھیر انتظامیہ کی کارکردگی و دعووں کا منہ چڑا رہے ہیں ان سہولت بازاروں میں چینی، گھی اور نہ ہی آٹا دستیاب ہے بلکہ جن دکانداروں کو بالجبر ان سہولت بازاروں میں بٹھایا گیا ہے وہ بھی اپنے نصیبوں کو روتے دکھائی دیتے ہیں ڈبل پھاٹک چوک پر واقع سہولت بازار میں ریلیف نام کو کچھ نہیں ہے اور نہ ہی صارفین ان بازاروں کا رخ کررہے ہیں شہریوں کے مطابق اگر پنجاب حکومت نے صوبہ بھر سہولت بازاروں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے تو پھر اس پر عملدرآمد بھی کیا جائے تاکہ شہری اس ہوشربا مہنگائی میں ان سہولت بازاروں سے سبسڈائز نرخوں پر اشیائے خورونوش کی خریداری کرسکیں لیکن حکومت کی جانب سے ایک ماہ قبل سہولت بازاروں کا اعلان تو عجلت میں کردیا گی ہے لیکن ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان بازاروں کے ثمرات صارفین تک پہنچنا ابھی باقی ہیں دوسری طرف سہولت بازار میں جبری بٹھائے گئے دکانداروں کے مطابق حکومت ان بازاروں میں سبسڈائز چینی، آٹا، گھی، اور خوردنی آئل فراہم کرے تاکہ شہریوں کا رجحان سہولت بازاروں کی طرف ہو تاہم بغیر سبسڈائز اشیا خریدنے کوئی نہیں آئے گا اس نے بتایا کہ یہاں سٹال پر صبح سے سہہ پہر تک خریدار نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث ہم غریبوں کا نقصان ہورہا ہے صارفین نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ سہولت بازاروں میں سبسڈائز اشیا کی فراہمی کو یقینی بن کر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کی جائے ناکہ پینافلیکس آویزاں کرکے ہوشربا مہنگائی میں پسے ہوئے عوام کا مزید مذاق اڑایا جائے۔

غائب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -