ضم اضلاع کی ترقی و خوشحالی اور عوام کو درپیش مسائل کا ازالہ حکومت کی ترجیح ہے: محمود خان 

    ضم اضلاع کی ترقی و خوشحالی اور عوام کو درپیش مسائل کا ازالہ حکومت کی ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ضم اضلاع کی ترقی و خوشحالی اور عوام کو درپیش مسائل کا ازالہ موجودہ حکومت کی شروع دن سے ترجیح رہا ہے، اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بھی ضم اضلاع میں جاری منصوبوں کی تکمیل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ صحت، تعلیم، آبنوشی، مواصلات، صنعت، زراعت اور اہم خدمات کے دیگر شعبوں میں مسائل کے حل کیلئے متعدد سکیمیں آئندہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کی جائیں گی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ضم اضلاع کے تمام شعبوں میں ترجیحی منصوبوں کو پہلی فرصت میں مکمل کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار اْنہوں نے ضم اضلاع سے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کیلئے ضم اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ضم اضلاع میں جاری منصوبوں کی تکمیل ترجیح ہو گی، تمام بنیادی شعبوں میں خدمات کی موثر فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اے ڈی پی اور اے آئی پی کے تحت تمام تر ترجیحی منصوبوں کو 2023 تک مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے ازالے اور ضرورت کی فراہمی کیلئے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان بھی مجوزہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبے منتخب عوامی نمائندوں کی مشاورت سے شروع کئے جائیں گے۔ متعلقہ عوامی نمائندے اپنے حلقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کرنا گزیر منصوبوں کی بروقت نشاندہی کریں تاکہ اس کے مطابق ضم اضلاع کے ترقیاتی پلان کو بلا تاخیر حتمی شکل دی جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ضم اضلاع کے طبی مراکز میں عملے کی کمی کوپورا کرنے، معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی اداروں کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اسکے علاوہ ضم اضلاع میں سیاحت کے فروغ کیلئے بھی منصوبے ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔ اْنہوں نے کہاکہ ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر قائم لائن کے مطابق عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے جائزہ اجلاس کے انعقاد کا سلسلہ حسب سابق جاری رہے گا۔ اصل مقصد ضم اضلاع کی ترقی ہے اور اس مقصد کیلئے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ اس موقع پر ضم اضلاع سے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے مشاور ت کرنے پر وزیراعلیٰ محمود خان کا شکریہ ادا کیا۔ 

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ایگرکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت صوبے میں جاری اقدامات پرا ب تک کی پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ڈیجٹیل سبسڈی میکنزم کے تحت آئندہ دو ماہ کے اندر کسان کارڈکا اجراء یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ایگر یکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کو شعبہ زراعت کے فروغ و ترقی کیلئے ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق مذکورہ پلان کے تحت اپنے اہداف کے حصول کیلئے کامیابی کے ساتھ گامزن ہے، صوبے میں شعبہ زراعت کی دیر پا ترقی، کسانوں کی معاونت اور فوڈ سکیورٹی موجودہ صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں اور اس مقصد کیلئے دستیاب وسائل کے مطابق ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان پر پیشرفت کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر زراعت محب اللہ خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سید ظفر علی شاہ، سیکرٹری زراعت محمد اسرار اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو مذکورہ پلان کے تحت خیبر پختونخوا میں جاری اقدامات پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی کے پروگرام کے تحت بیج کی خریداری پر کام جاری ہے۔ ابتدائی طور پر دس سے بار ہ ہزار میٹرک ٹن گندم کے بیج خریدے جارہے ہیں جو کسانوں میں تقسیم کئے جائیں گے۔ اسی طرح آئی سی ٹی بیسڈ ایکسٹنشن سروسز کیلئے ٹیلی فارمنگ اور ایگریکلچر سسٹم پہلے سے فعال ہیں اور صوبہ بھر میں ماڈل فارم سروسز سنٹرز قائم کئے جا چکے ہیں۔ ماڈل فارم سروسز سنٹرز میں کسانوں کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے سہولیات دی جارہی ہیں جبکہ ٹیلی فارمنگ سسٹم کے تحت فارمر ٹیلی فسلٹیشن سنٹر قائم کیا گیا ہے اس کے علاوہ ویب پورٹل، موبائل اپیلیکشن، مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور ایس ایم ایس سروس وغیرہ ٹیلی فارمنگ سسٹم کے اہم فیچرز ہیں۔ نجی شعبہ کے تعاون سے آئی سی ٹی بیسڈ  ایکسٹنشن سروسز کا صوابی سے بطور پائلٹ پراجیکٹ اجراء کیا جا چکا ہے، مذکورہ ماڈل کو بعدازاں دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔ ڈیجٹیل سبسڈی میکنزم کے تحت کسان کارڈ کے اجراء کی تیاریاں جاری ہیں۔ اگست 2021 تک کسان کارڈ کا اجراء کردیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا اریگیٹڈ ایگر یکلچر پراجیکٹ کے تحت پہلے مرحلے میں بطور پائلٹ پراجیکٹزمین کی نمی معلوم کرنے کیلئے  150 موئسچر میٹرز لگائے جائیں گے۔شرکاء کو مزید آگاہ کیا گیا کہ ویئر ہاؤس آپریٹرز کیلئے سروسز پر سیلز ٹیکس 16 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کیا جارہا ہے جسے فنانس بل میں شامل کیا جائے گا۔ ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹوٹس ترناب اور مینگورہ کی اپ گریڈیشن کے سلسلے میں مجوزہ ایکٹ نظر ثانی کیلئے محکمہ قانون کو دیا گیا ہے جسے کلیئرنس کے بعد منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کو پیش کیا جائے گا۔ مزید برآں مویشیوں کی جنیاتی بہتری کے پروگرام کے تحت مجوزہ منصوبے کے پی سی ون کی تیاری پرکام جاری ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پانچ سالہ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت مجوزہ اقدامات کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی رضا مندی اور مجوزہ پلان کے حوالے سے متعلقہ فورم کوآگاہ کردیا گیا ہے جس سے اتفاق کی صورت میں تفصیلی پی سی ون بھی پیش کر دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پلان کے تحت تمام جاری سرگرمیوں کی مکمل تفصیلات دو ہفتوں کے اندر پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ شعبہ زراعت ملکی معیشت میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت اس شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ موثر حکمت عملی اور کسانوں کی مالی و تکنیکی معاونت کے ذریعے زرعی پیداوار کو کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم کا ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔محمود خان نے کہاکہ صوبائی حکومت پلان کے تحت پانچ سالہ مجوزہ منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے نہ صرف پرعزم ہے بلکہ دستیاب وسائل کے مطابق نظر آنے والے اقدامات بھی کررہی ہے۔ 

مزید :

صفحہ اول -