بچوں میں غذائیت کی کمی سنگین مسئلہ ہے،کاشف شمیم صدیقی 

  بچوں میں غذائیت کی کمی سنگین مسئلہ ہے،کاشف شمیم صدیقی 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر) معروف شاعر، کالم نگار، مصنف اورادیب کاشف شمیم صدیقی کا میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کی عرصہ دراز سے ماؤں اور بچوں میں غذائیت کی کمی کا مسئلہ موجودہ وقت میں سنگین شکل اختیار کر چکا ہے، نہ صرف بڑے، بڑے شہروں میں بسنے والے متوسط طبقے میں یہ مسئلہ پایا جاتا ہے بلکہ پسماندہ اور دور دراز کے علاقوں میں موجود غربت زدہ ماؤں میں خون کی کمی،بچوں میں بے پناہ کمزوری،  پستہ قد اور وزن کاکم ہونا جیسے مسائل عام ہیں، اور پھر جب  صحت سے جُڑے مسائل شدت اختیار کر جاتے ہیں تو مائیں اور بچے  سسکتے،سسکتے  بے بسی،  بیچارگی، مایوسی اور اذیت کی موت مر جاتے ہیں۔ اور پھر سننے میں آتا ہے کہ بہت کام ہو رہا ہے،  دن رات کی مصروفیت،  جذبوں کی صداقت، خلوص، ایمانداری اور فرض شناسی کی باتیں سماعتوں سے ٹکراتی ہیں، عزم، ارادوں،بلندو بانگ دعوں کا پرچار کیا جاتا ہے  اور کروڑوں، اربوں کے مختص ہونے کی خبریں نگاہوں کو خیرہ کر دیتی ہیں، کیا غریب ماؤں اور بچوں کی جانوں کی کوئی قدروقیمت، کوئی اہمیت نہیں، وہ اسی طرح سے بے بسی اور بیچارگی کی موت مرتے رہے گے۔کاشف شمیم صدیقی نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ غذائیت کی کمی کے مسئلے کے حل میں انفرادی اور اجتماعی طور پر کیا ضروری اقدامات عمل میں لائے جاسکتے ہیں، میڈیا اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے کرائم، ہیلتھ اور خصوصی انویسٹیگیشن سے وابستہ رپورٹرز مربوط اور موثر حکمت عملی کے تحط تمام تر حالات و واقعات کا جائزہ لے کر معاملے کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں اور پھر ایک جامع رپورٹ مرتب کی جاسکتی ہے، اخبارات اور ٹیلی ویژن کے زریعے غذائیت کی کمی کے مسئلے اور اس سے جڑے پہلوؤں پر بات ہوتی رہے گی تو مسئلے کی شدت میں کمی کا رونما ہونا متوقع ہوگا، ہوسکتا ہے ختم ہی ہو جائے، بہرحال یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ ایک انسان کا خون ِ ناحق تمام انسانیت کا قتل ہے اور ایک زندگی کا بچا لیا جانا تمام زندگیوں کو سانسیں فراہم کر دینے کے مترادف ہے۔  

مزید :

پشاورصفحہ آخر -