پولیس افسر کے قتل کے الزام میں خاتون گرفتار لیکن ایسی جیل میں بند کردیاگیا کہ تفصیلات سن کر کوئی بھی وحشت زدہ رہ جائے

پولیس افسر کے قتل کے الزام میں خاتون گرفتار لیکن ایسی جیل میں بند کردیاگیا کہ ...
پولیس افسر کے قتل کے الزام میں خاتون گرفتار لیکن ایسی جیل میں بند کردیاگیا کہ تفصیلات سن کر کوئی بھی وحشت زدہ رہ جائے

  

بیلموپن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کی جیزمین ہارٹن نامی خاتون کو وسطی امریکہ کے ملک بلیز(Belize)میں ایک پولیس آفیسر کو گولی مار کر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کرکے ایسی جیل میں قید کر دیا گیا ہے کہ جس کی تفصیلات سن کر آدمی وحشت زدہ رہ جائے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق جیزمین ہارٹن پر ہنری جیموٹ نامی پولیس آفیسر کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اسے ایک ہفتہ قبل گرفتار کرکے بلیز سنٹرل جیل میں بند کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بلیز کی یہ جیل دنیا کی خطرناک ترین جیلوں میں شمار کی جاتی ہے جن کے اندر قتل سے منشیات فروشی اور حتیٰ کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں تک کے جرائم ہوتے رہتے ہیں۔ اس جیل میں مخالف گینگز کے کارندے قید ہیں جن کے درمیان اکثر خون خرابہ ہوتا رہتا ہے۔جیل میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں جنہیں انتہائی ناقص کھانا دیا جاتا ہے۔

 اس جیل کا موازنہ وینزویلا کی سیبانیتا جیل سے کیا جاتا ہے جو 700قیدیوں کے لیے بنائی گئی تھی مگر اس میں ایک وقت میں 3700سے زائد لوگ رکھے جاتے ہیں اور ان میں اکثریت قاتلوں کی ہوتی ہیں، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وینزویلا میں قتل کے جرم کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔وینزویلا کی اس جیل میں 1994ءمیں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور 150قیدی موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے تھے۔ 2013ءمیں ایک بار پھر 69قیدیوں کو قتل کر دیا گیا، جسے بعد بالآخر یہ جیل ہی بند کر دی گئی۔

پیراگوئے کی تیکومبو جیل، تھائی لینڈ کے دارالحکومت میں واقع بینگ کوینگ جیل، روس کی پیتک آئی لینڈ جیل، برازیل کی پورتو ویلوجیل اورہونڈراس کی ڈینلی جیل دنیا کی خطرناک ترین جیلوں میں شمار ہوتی ہیں جن میں قتل سے جنسی زیادتی اور بچوں کے جنسی استحصال تک کی وارداتیں ہوچکی ہیں۔ یہ تمام جیلیں چند سو قیدیوں کے لیے بنائی گئی تھیں تاہم ان میں ہزاروں کی تعداد میں قیدی رکھے جا رہے ہیں، جنہیں سہولیات نہ ہونے کے برابر دی جاتی ہیں۔

پیراگوئے کی تیکومبو جیل میں بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا ایک گینگ پکڑا گیا تھا۔ یہ گینگ جیل کے اندر منشیات سمگل کرنے کے لیے بھی انہی بچوں کا استعمال کرتا اور پھر جیل میں انہیں درندگی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ روس کی پیتک آئی لینڈ جیل میں سرے سے ٹوائلٹس ہی نہیں ہیں اور نہ ہی نہانے دھونے کا کوئی خاطرخواہ انتظام ہے۔ اس جیل میں قیدیوں کو 22گھنٹے تک سیلز میں ہی بند رکھا جاتا ہے۔ اس جیل کی حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہے اور قیدیوں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے کہ اس جیل میں جو شخص چند سال قید کاٹ لیتا ہے وہ ذہنی مریض بن کر ہی باہر نکلتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -