سعودی عرب نے خواتین کیلئے ایک اور تاریخی قدم اٹھالیا، اجازت دیدی

سعودی عرب نے خواتین کیلئے ایک اور تاریخی قدم اٹھالیا، اجازت دیدی
سعودی عرب نے خواتین کیلئے ایک اور تاریخی قدم اٹھالیا، اجازت دیدی

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں حقوق نسواں کے حوالے سے ایک تاریخی قدم اٹھا لیا گیا۔ تاریخ میں پہلی بار سعودی حکومت نے خواتین کو مرد گارڈین کی اجازت کے بغیر اکیلے رہائش پذیر ہونے کی اجازت دے دی۔ گلف نیوز کے مطابق اس نئے قانون کے تحت سعودی عرب کی غیرشادی شدہ، طلاق یافتہ یا بیوہ خواتین اپنی مرضی سے کسی رہائش گاہ میں اکیلے مقیم ہو سکتی ہیں اور اس کے لیے انہیں ماضی کے برعکس اپنے باپ، بھائی یا کسی دوسرے مرد گارڈین کی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔

رپورٹ کے مطابق اس نئی قانون سازی کا مسودہ جوڈیشل حکام کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس کا پیراگراف ’بی‘ جوڈیشل حکام نے حذف کرکے نیا پیراگراف اس میں شامل کر دیا۔ پہلے پیراگراف میں کہا گیا تھا کہ ”بالغ غیرشادی شدہ، طلاق یافتہ یا بیوہ خواتین کو ان کے مرد گارڈین کے حوالے کیا جائے گا۔“ جوڈیشل حکام نے اس پیراگراف کو تبدیل کرکے اس کی جگہ جو پیراگراف شامل کیا اس میں کہا گیا ہے کہ ”ایک بالغ خاتون اپنی رہائش کا انتخاب کرنے کا حق رکھتی ہے۔ اس کا گارڈین صرف اس صورت میں حکام کو رپورٹ کر سکتا ہے جب خاتون کسی طرح کے جرم کا ارتکاب کرے۔ اگر کسی خاتون کو قید کی سزا ہوتی ہے تو سزا پوری ہونے کے بعد اسے اس کے مرد گارڈین کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔“ 

اس قانون کے متعلق معروف سعودی وکیل نائف المنسی کا کہنا تھا کہ ”اس نئے قانون کے لاگو ہونے کے بعد ماں باپ اب اپنی بیٹیوں کے خلاف اکیلے رہنے پر مقدمات قائم نہیں کر سکتے۔اب سعودی خواتین اپنی مرضی سے جہاں چاہیں اکیلے رہائش اختیار کر سکتی ہیں۔“

مزید :

عرب دنیا -