آزاد کشمیر انتخابات ،تاثرات، خدشات اور توقعات 

آزاد کشمیر انتخابات ،تاثرات، خدشات اور توقعات 
آزاد کشمیر انتخابات ،تاثرات، خدشات اور توقعات 

  

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے ریاست میں عام انتخابات کا اعلان کردیا ہے ۔ یوں تو الیکشن 25 جولائی سے ہوں گے لیکن انتخابات قبل سے ہی دوستوں ، رشتہ داروں اور عزیزوں کے سوشل میڈیا پر دلچسپی دیکھ کر دل مچل سا جاتا ہے۔۔۔ لاہور میں رہ کر جی کشمیر کیساتھ دھڑک رہا ہوتا ہے۔۔۔۔ برصغیر پاک و ہند کا مزاج بھی انوکھا  ہے ،یہاں جمہوریت کے بیج تو  ڈال دئیے گئے لیکن ان کی کھاد اور پرورش کا نظام ’اپنے ‘ہاتھ ہی رکھا ۔۔ ۔چونکہ آزاد کشمیر کے سیاسی افق پر پاکستان کی سیاست کا بادل منڈلاتا رہتا ہے  جو پارٹی پاکستان میں برسراقتدار ہوتی ہے وہ  آزادکشمیر میں اپنے تعلقات بنانے اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی کہ انکی  ہمنوا پارٹی ہی کشمیر میں برسراقتدار آئے۔۔۔

تو ایک سرسری سا  جائزہ پاکستانی سیاست کا دیکھ لیتے ہیں یقیناً آزادکشمیر میں رہنے والو ں کے لئے اس میں ایک سبق پوشیدہ ہے۔۔۔ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے قیام میں برسرپیکار سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ان ستر سالوں میں بیسیوں ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی، جو خود  اقتدار کی خاطر  بیسیوں ٹکڑوں میں  تقسیم ہوگئے ان میں نظریہ کہاں باقی رہا ہوگا ؟؟؟موروثیت اور خاندانی سیاست نے  رہی سہی کسر نکال دی،پاکستان میں سب سے زیادہ عرصہ  حکومت کرنے والی پارٹی ن لیگ اسمبلیوں میں   قانون سازی نہ کرسکی ،عوام کی حقیقی مشکلات پر توجہ دینے کی بجائے سارا بجٹ ایک دو شہروں پر لگادیا۔۔۔عوامی پذیرائی ملی بھی تو کارگل جیسا دھبہ انکے شریف  دامن پر لگا۔۔۔

مزید دیکھیں تو  کچھ بائیں بازو کی جماعتوں نے نظریہ پاکستان سے متفق نہ ہوتے ہوئے بھی سر اٹھایا  ۔روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے لاڑکانہ کی آلودہ گلیوں میں دم توڑ گئے ۔۔۔جہاں غریبوں سے بیگار کے نام پر ان سے جینے کا  حق تک چھین لیا جاتا ہے اور بھٹو زندہ  ہے۔۔۔ یہ جب کشمیر پہنچے تو لوگوں کی پارٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والوں نے کشمیر میں خونی سیاست میں سکہ جمایا ۔۔۔سیاسی جماعتوں کے پرانے مہروں کے ملغوبے سے نیا پاکستان بنانے کے دعویدار  پاکستان میں ہر نیا آنے والا دن  عام آدمی کے لئے مشکل سے مشکل تر کرتے جارہے ہیں  کہ وہ بلبلا اٹھتا ہے کہ بھائی ’نیا پاکستان‘ اپنے پاس رکھو ہمیں ’پرانا پاکستان‘ واپس دے دو۔۔۔دینی جماعتوں کو دیکھیں تو اول ان میں اتحاد  ناپید نظر آتا ہے۔۔۔ اکھٹے ہوجائیں تو جلد الگ ہوجاتے ہیں کہ کچھ مدرسے چلانے والوں کو تھوڑے اور وقتی  فائدے پر ہمنوا بنالیا جاتا ہے۔۔۔عرصہ دراز کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہنے کے باوجود آزاد کشمیر اور آزادی کشمیر  کے لئے اقدامات  سے ان کا دامن بھی خالی نظر آتا ہے۔

گزشتہ دنوں  ساری اپوزیشن جماعتیں سوائے جماعت اسلامی کے پی ڈی ایم نامی اتحاد سے نئے پاکستان کی حکومت کا تختہ الٹنے کو ہر نئے دن نیا  مضحکہ خیز کلپ لئے میدان میں آتے ہیں۔۔۔کبھی سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں کبھی پرانی ازلی دشمنی سر اٹھاتی ہے تو مخالف بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے،کبھی ہاں کبھی ناں۔کبھی یہاں کبھی وہاں  ۔سلسلہ  ہنوز جاری ہے۔۔۔

عوام کا یہ حال ہے کہ مہنگائی بڑھتی جارہی ہے کہ بنیادی ضروریات زندگی کا حصول مشکل ترین ہوگیا ہے۔ ۔۔۔آلو پیاز ٹماٹر مہنگے تو سبزی مرغی مناسب۔۔۔۔سبزی مرغی مہنگی تو آلو پیاز ٹماٹر سستے۔۔کبھی آٹے ۔۔۔چینی ۔۔۔کا بحران تو کبھی گھی اور کوکنگ  آئل مہنگا۔۔۔پٹرول ہو کہ بچوں کے تعلیمی اخراجات ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جبکہ تنخواہوں میں اضافہ  انتہائی کم۔۔۔۔جان مال کے تحفظ،عدل و انصاف کی فراہمی  میں ناکام۔۔۔سفر ہو یا علاج معالجہ انسان کے بس سے باہرہوتا  جارہا  ہے ۔عام آدمی کے لئے زندگی ایک مسلسل عذاب بن گیا ہے تو کوئی بچوں سمیت خودکشیاں کرلیتا ہے تو کوئی سیکرٹریٹ کے باہر خود کو جلانے لگتا ہے ۔۔۔نفسیاتی مسائل کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔۔۔نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا۔۔۔شادیاں تاخیر کا شکار ۔۔۔ فراغت اور فرسٹریشن مل جل کر  حیوانیت میں اضافہ کررہے ہیں۔۔۔آزاد کشمیر  کی سیاست پر پاکستانی سیاسی پارٹیوں کا غلبہ   اور اثر و رسوخ اسے ترقی کی جانب بڑھنے میں معاون نہیں ہےجیسےوہ دوغلے،کرپٹ حکمران پاکستان کے ساتھ وفاداری نہیں کرسکے کشمیر کے ساتھ بھی وفاداری نہیں کرتے نہ ہی کریں گے۔۔۔کشمیریوں کو اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔

کشمیری ووٹ کسے دیں؟

سب سے پہلے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ووٹ ایک فرض ۔۔۔ایک ذمہ داری ہے۔۔ہرفرض اور ہر ذمہ داری ایک امانت ہوتا ہے چنانچہ رب  رحیم قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ " امانتیں  اہل امانت کے سپرد کرو" ہر فرض اور ہر وہ ذمہ داری جو ہمارے سپرد اس دنیا میں ہے ۔۔۔ہمیں اس کا حق ادا کرنا ہے اس لئے کہ آخرت میں ہم سب کو اللہ کے سامنے اس کی جوابدہی کرنا ہے۔۔۔ہمارے ووٹ  یعنی اس امانت کا حق دار کون ہے؟

سورۃ الحج  آیت 41’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو یہ نماز قائم کریں اور زکوۃ کی ادائیگی  کریں ،نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں بے شک  سب کاموں  کا  انجام کار اللہ ہی کے ہاتھ ہے"

سادہ الفاظ میں ہمارے ووٹ جیسی امانت کا اہل وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کا وفا دار اور اطاعت گزار ہو۔۔۔سود کھانے والا نہ ہو۔۔۔کرپٹ نہ ہو۔۔۔ایسی پارٹی سے تعلق نہ ہو جس کی تاریخ کرپشن ،سود خوری،ظلم اور ناانصافی سے بھری ہو۔۔۔

جو اللہ کا خوف رکھے گا،آخرت کی جوابدہی کا احساس رکھے گا۔۔۔اللہ سے ڈر کر بندوں سے معاملات کرے گا۔۔۔وہی ووٹ جیسی اہم امانت اہم فرض اہم ذمہ داری کا اہل ہے۔۔۔

پاکستان کی پارٹیوں میں جمہوریت  کا تجزیہ پبلش ہو۔۔۔کرپشن سے شفاف دامن کی بات ہو۔۔۔اسمبلیوں میں کارکردگی کی بات آئے ۔۔یا منتخب نمائندوں کے حلقہ جاتی فلاح و بہبود کے منصوبے، موروثی سیاست سے پاک ،تعلیمی و خدمتی سرگرمیاں،۔۔۔۔سرسرفہرست صرف اور صرف جماعت اسلامی ہے۔الیکشن میں کھڑے ہوتی ہے تو اللہ اور اسکے رسول ﷺ کا نام بلند کرنے۔۔۔جیتے یا ہار جائے دونوں صورتوں میں عوام کے بیچ موجود رہتی ہے۔۔۔ایک اہم بات یہ بھی ہے جماعت اسلامی اقامت دین کی   عالمگیر جماعت ہے اس نظریہ پر  عرب میں الاخوان،کہیں النہضہ،کہیں اسلامی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی،اسلامی تحریک،تحریک اصلاح،حماس،اسلامی پارٹی  جبکہ بھارت،پاکستان،بنگلہ دیش ،جموں کشمیر و آزاد کشمیر میں جماعت اسلامی کے نام سے نبویﷺ فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔۔۔

قائداعظم محمد علی جناح نے  پاکستان کو مسجد قرار دیا تھا ۔۔۔کشمیر کو  اس کی شہ رگ قرار دیا۔۔۔کشمیر الیکشن 2021ء کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس بار جماعت اسلامی اپنے نشان اپنے جھنڈے کے ساتھ الیکشن کے میدان میں اتری ہے تو جن لوگوں کو یہ اعتراض تھا کہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ مل جاتی ہے ،اپنا نشان اپنا جھنڈا نہیں وہ اعتراض بھی نہ رہا لہذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوت کے ساتھ جماعت اسلامی کو سپورٹ کیا جائے اور کامیابی  سے ہمکنار کیا جائے۔

جماعت اسلامی کا نصب العین حقیقتا رضائے الہٰی و فلاح اخروی اور عملا  حکومت الہٰیہ کا قیام ہے،اللہ کی حکامیت اعلیٰ کا علم بلند کئے  میدان میں ترازو کے نشان کے ساتھ اتری ہے۔۔۔آپ کے ووٹ کی حق دار یقین رکھیں جیت کر اسمبلیوں میں پہنچے گے تو عوام کی ہمدرد و غمگسار پائیں گے۔۔۔بالفرض کہیں جیت نہ سکے تو بھی آپ کا ووٹ ضائع نہیں ہوگا۔۔اللہ کے ہاں میزان میں لکھا جائے گا کہ آپ نے اللہ کی رضا کو مقصد رکھنے والی جماعت کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔۔۔

جماعت اسلامی نے اتحادی سیاست سے کنارہ کشی کی پالیسی کا اعلان کیا ہے،کسی بھی اتحاد کا حصہ نہیں  بنے گی۔جماعت اسلامی کا دعویٰ ہے کہ جماعت اسلامی صرف الیکشن کے دنوں میں آپ کو نظر نہیں آئے گی۔۔۔ یہ ایک سڑک بنواکر غائب نہیں ہوجائے   گی۔۔۔  یہ یقین رکھیں کیونکہ اس وقت  آزادکشمیر میں جماعت اسلامی کے زیرانتظام 385 سکول کام کررہے ہیں جن میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ اور 7 ہزار سے زائد اساتذہ ہیں۔۔۔

گزشتہ سالوں کشمیر بورڈ میں نمایاں پوزیشن انہی سکولوں کے حصے میں آئی۔۔۔ہزاروں مستحق طلبہ کو مفت تعلیم ،یونیفارم،کتابیں فراہم کی جاتی ہیں۔ خدمت کے میدان میں الخدمت کے توسط سے صرف سال 2020ٗء میں 19 کروڑ مالیت  کے منصوبے مکمل ہوئے ،پانی کے 200 سے زائد منصوبے،3 ہسپتال  و ڈسپنسریاں ، واٹرفلٹریشن پلانٹ  3 عدد۔۔۔زلزلہ زدگان کی امدادی سرگرمیوں میں ڈیڑھ ارب سے زائد رقم خرچ۔۔۔۔کرونا کے دوران الخدمت فاؤنڈیشن کی مثالی سرگرمیوں پر آزادکشمیر  کے صدر اور وزیراعظم کی جانب سے شاندار خراج تحسین اور ایوان صدر میں تقریب کا اہتمام۔۔۔

یہی نہیں بلکہ  تحریک آزادی کشمیر میں اول روز سے جماعت اسلامی آزادکشمیر  ہراول دستہ ہے۔۔۔ہزاروں شہداء کی قربانیوں کے ساتھ خاندان  ِشہداء اور کشمیری مہاجرین کی سرپرستی  میں بھی پیش پیش رہی ہے ۔۔

گزشتہ الیکشن میں  جماعت اسلامی آزادکشمیر کے   2 ایم ایل اے کشمیر اسمبلی میں پہنچے۔۔۔۔جماعت اسلامی آزادکشمیر کی نامی گرامی شخصیت عبدالرشید ترابی اور محترمہ رفعت محمود  ۔۔

عبدالرشید ترابی صاحب  نے تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کی لازمی تعلیم  ،اسمبلی میں موجود ختم نبوتﷺ کی قرارداد کو باضابطہ قانون کا حصہ  بنانا،شرعیت اپیلٹ بنچز کا قیام،عالم دین جج  پر کاوشیں اسمبلی کے فلور پر پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔این ٹی ایس ،پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 73 سالوں میں پہلی بار غریبوں کے بچے میرٹ پر بھرتی ہوئے،13 ویں آئینی ترمیم  آزاد کشمیر کو بااختیار،باوسائل بنوانے،کشمیر کونسل  کی متوازی حکومت ختم کروانے میں اہم کردار،غیر جریدہ ملازمین کے مسائل کاحل،سرکاری اداروں کے ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق،حلقہ انتخاب کے 400 منصوبوں سمیت آزادکشمیر کے دیگر حلقہ جات کی سکیمیں مکمل کروائیں،سرکاری محکموں میں میرٹ کی بنیاد پر ترقیات کو ممکن بنانا اور سیاسی انتقامی کلچر کے خاتمے کے لئے کوششیں،تحریک آزادی کشمیر کے لئے نہ صرف کشمیر اسمبلی میں کاوشیں بلکہ دنیا بھر میں کشمیریوں کی نمائندگی کا فریضہ سرانجام دیا ۔۔ دنیا بھر میں کشمیر اسمبلی کی منظور شدہ قراردادوں کا پہنچایا۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی   کا 40 سال  بعد متحرک کردار،اداروں میں مالیاتی ڈسپلن کو ممکن بنایا،کروڑوں روپے کی ریکوری کروائی، متاثرین بنگہ ڈیم،اوورسیز کے مسائل  کے حل کے لئے کوششیں اور میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی   میں این او سی لازمی قرار کروائی۔

خاتون ایم ایل اے رفعت محمود نے کشمیر میں خواتین کے حقوق اور مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی۔فیملی کورٹس کے قیام ،دوردراز علاقوں میں میٹرنیٹی سینٹرز،نوزائیدہ بچوں کے لئے جدید نرسریوں کے قیام کی کوششون کے ساتھ ساتھ خواتین ٹیچرز کے تبادلے و تقرریاں انکی مقامی یونین کونسل سے باہر نہ کروانے پر قانون سازی،ورکنگ ویمن اور تعلیمی اداروں میں ڈے کئیر سنٹرز کے قیام کی خصوصی کوششیں۔پاکستان و برطانیہ میں خواتین کانفرسز میں کشمیری خواتین کی نمائندگی،جبکہ ترقیاتی سکیموں کے لئے ملنے والے فندز کا دیانتدارانہ استعمال کرتے ہوئے آزادکشمیر میں 250 سکیمیں مکمل کروائیں۔۔۔

جماعت اسلامی نےآزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2021ء کے 31امیدوران کی فہرست جاری کردی ہے جبکہ  باقی حلقوں کے امیدوران کا اعلان بعد میں کیا جائے گا ۔۔۔۔

  جماعت اسلامی کے آزادکشمیر مہاجرین کے حلقوں میں 33 امیدواران میدان میں موجود ہیں۔۔ باقی حلقوں کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔جماعت اسلامی کی نامزد کردہ قیادت میں 2 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز،13 وکلاء،2 پروفیسرز،3ماہر تعلیم،3 دینی سکالرزسمیت 10 اعلیٰ تعلیم یافتہ شامل ہیں۔انتخابات میں جماعت اسلامی کے سوا کسی پارٹی نے بھی اس سطح کی باصلاحیت،باکردار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ قیادت پیش نہیں کی ،عوام اس قیادت کو منتخب کرے تا کہ آزاد خطے کا نظام تبدیل کیا جاسکے اور کشمیرکی آزادی کو یقینی بنایا جاسکے ۔اہل کشمیر کے پاس اس وقت جماعت اسلامی کی صورت   دیانت دار امیدواران کا بہترین آپشن موجود ہے،آزمائے ہوئے   کھوٹے سکوں سے دھوکہ نہ کھائیں۔۔۔جو رب کا وفا دار نہیں وہ کسی کا وفادار نہیں۔۔۔جماعت اسلامی اپنی  شفاف کارکردگی اور دیانتداری  کو ترازو کے نشان کے ساتھ لے کر آپ کی دہلیز تک آئی ہے ۔آزادکشمیر کو جماعت اسلامی جیسی ندر،بےباک،دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے، آپ کا  ووٹ ایک امانت ہے اسے اہل امانت کے سپرد کیجئے۔ اپنی نسلوں کے لئے گھر مال دولت کا بندوبست تو کرتے ہیں اچھے اور دیانتدار حکمرانوں کے ہاتھوں ملک کی باگ دوڑ بھی دیں۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -