پنجاب کا بجٹ کیسا ہو گا ؟ صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے چھوٹے تاجروں اورسرمایہ کاروں کو بڑی خوشخبری سنا دی 

پنجاب کا بجٹ کیسا ہو گا ؟ صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے چھوٹے تاجروں ...
پنجاب کا بجٹ کیسا ہو گا ؟ صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے چھوٹے تاجروں اورسرمایہ کاروں کو بڑی خوشخبری سنا دی 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)صوبائی وزیرخزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت 14جون کو آئندہ مالی سال کا بجٹ اسمبلی سے منظوری کے لیے پیش کرےگی،معاشی پالیسیوں کی کامیابی کے لیے موجودہ حکومت نے اپنا سیاسی سرمایہ داؤ پر لگایا،اس وقت جب عالمی معیشتوں کی شرح نمو منفی ہے،پاکستان کا مثبت گروتھ ریٹ حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے،2021-22کا وفاقی و صوبائی بجٹ عوامی امنگوں کا عکاس اور کاروبار دوست ہو گا، کورونا سے بحالی کے لیے اختیار کی گئی کامیاب معاشی پالیسیوں کو آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھا جائے گا، چھوٹے کاروباروں کے تحفظ اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ٹیکسز میں دی گئی رعایت برقرار رکھی جائے گی،آئندہ بجٹ میں صنعتکاروں کے مسائل کے حل اور عالمی سطح پر دستیاب سہولیات کی فراہمی کے لیے 10ارب روپے کا اضافی پیکج متعارف کروایا جا رہا ہے، انفراسٹرکچر سیس سے متعلق سفارشات پر عمل درآمد کے لیے فزیبیلٹی رپورٹ تین ماہ میں مکمل کر لی جائے گی، وسائل میں اضافے کے لیے ٹیکس کی شرح میں اضافے کی بجائے ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ کی حکمت عملی برقرار رکھی جائے گی۔

 لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام پری بجٹ سیمینار سے خطاب کے دوران صوبائی وزیرخزانہ پنجاب نے شرکا کو بتایا کہ ٹیکسز میں ریلیف کے باوجود پنجاب ریونیو اتھارٹی نے اپنا ہدف پورا کیا جس میں ادارے کی کارکردگی کے ساتھ کاروباری برادری کا تعاون شامل ہے۔واسا کے ٹیرف کے حوالے سے صنعتکاروں کے تحفظات کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح میں کمی اور پانی کی تقسیم کے لیے موزوں پالیسی اور مانیٹرنگ سسٹم کا فقدان مسائل کا سبب بن رہا ہے،صنعتوں کو پانی کی فراہمی کے لیے واسا کے ٹیرف پر نظر ثانی کی جائے گی اور تمام اضلاع میں یکساں ٹیرف کے اطلاق کو یقینی بنایا جائے گا۔

پبلک سیکٹر میں میٹریل ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی فراہمی کے حوالے سے سفارشات پر صوبائی وزیر نے شرکا کو بتایا کہ لاہور میں فوڈ اینڈ ڈرگز ٹیسٹنگ لیب پر کام جاری ہے، پیکج کےتحت صنعتکاروں کو لیبارٹریز کی سہولت بھی مہیا کی جائے گی۔ صوبائی وزیرنےاراکین کےمسائل کےصوبائی مسائل کےحل اور وفاقی حکومت کے ساتھ مسائل کے حل ترجمانی کی یقین دہانی کرواتے ہوئےبتایاکہ موجودہ حکومت صنعت کاروں اور تاجروں کی آسانی کے لیے برسوں سے رائج فرسودہ قوانین کےخاتمے کو یقینی بنا رہی ہے، اس کے ساتھ ٹیکس وصولیوں کے نظام میں کی مکمل آٹومیشن بھی صوبائی حکومت کے ٹاپ ایجنڈے کا حصہ ہے۔

بعد ازاں صوبائی وزیر نے کابینہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کے 59ویں اجلاس کی بھی صدارت کی۔مختلف محکموں کی جانب سے ضمنی گرانٹس کی سفارشات کا جائزہ لیتے ہوئے صوبائی وزیر صوبائی وزیر نے اجلاس کو بتایا کہ بجٹ2021-22 کے تحت تمام سرکاری محکموں کو مالی سال کے آغاز پرہی فنڈز کی فراہمی کا سلسلہ جاری کر دیا جائے گا۔ فراہم کردہ فنڈز کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی۔ آئندہ سال معاشی ترقی کا سال ہو گا۔ترقیاتی فنڈز کے موثر استعمال کی استعداد نہ رکھنے والے محکموں کو مزید فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -