سیاستدان کا چہرہ؟

 سیاستدان کا چہرہ؟
 سیاستدان کا چہرہ؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 وطن عزیز میں کرپشن کا ایک دریا بہہ رہا ہے۔بالائی طبقے میں ہر کوئی بالواسطہ،یا بلا واسطہ اس میں تھوڑایا زیادہ حصہ دار ہے کس کس کا نام لیا جائے اور کس کس کا نام نہ لیا جائے؟لیا جائے تو کیسے اور اگر نہ لیا جائے تو کیوں؟ معاملہ اس قدر سنگین ہے کہ اگر کسی بے گناہ پر الزام آجائے تو وہ بھی سچ لگتا ہے، حالانکہ استثنیٰ ہر جگہ ہوتا ہے اور پاکستان کے موجودہ منظر نامے میں بھی صاف وشفاف ہاتھ رکھنے والے موجود ہیں بدقسمتی سے مملکت خداداد پاکستان میں سفارش کلچر عام ہے اور ذاتی پسند اور ناپسند کا اس درجہ رواج ہے کہ مفاد و عناد کے بغیر کوئی ایک شخص بھی ”خاص فہرست“میں اپنا نام لکھوا اور خود کو منوانہیں سکتا اگر وقت کے حکمران ان پر مہربان نہ ہوتے تو کیا یہ کسی کونے کھدرے میں پڑے رہ جاتے؟ایسا تو بہرطور نہیں کہ سابق چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ سید آصف اختر ہاشمی صاحب کسی عہدے یا منصب کی اہلیت نہیں رکھتے تھے تاہم ان کی قابلیت وصلاحیت کا اظہارباقاعدہ خوش قسمتی ہے 


مصلحت نے زبان کو روک دیا
یاد آئی تھی کوئی بات مجھے اپنے دیس میں 
میں وقتا وفوقتاً ”میرٹ“زیر بحث آ جایا کرتا ہے،اور پھر ہر ایک گویا لٹھ اٹھائے اس موضوع کے پیچھے پڑ جاتا ہے سوا ل فی الحقیقت یہ ہے کہ ”میرٹ“ہے کیا؟شہر اقتدار میں ذاتی یا سیاسی تعلق ہی میرٹ پر اترتا ہے وفاداری بشرط استواری!یہ مفہوم کل بھی تھا، آج بھی ہے،اور آئندہ کل میں بھی رہے گا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ پاک وطن میں وہ کون ہے جس کو خاص میرٹ پر ہی اعزاز حاصل ہوا؟یا ہوگا؟
میں درد دل کا قصہ پورا نہ کہہ سکوں گا
اندازہ آپ کر لیں سن کے کہیں کہیں سے


ایک عام شہری کی حیثیت سے سوچتا ہوں اور کھوجتا ہوں کہ اعلی مرتبہ پر فائز کسی ایک کی فرد کا نام مل جائے جس کا تقرر میرٹ پر ہو اہو؟اور یہ بھی کہ اے کاش!کوئی ہمیں میرٹ کی تعریف بتلائے اور سمجھائے اس کے پیچھے کون ہے اور کس کے پیچھے کون نہیں ہے!!میرٹ کے حوالے سے یاد آیا کہ سید آصف اختر ہاشمی کی نسبت سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے ایک فیصلہ صادر فرمایا تھا جس میں نیب کے سابق متنازعہ چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کوان کے خلاف کرپشن کے کیسز کی تحقیقات کا حکم دیا۔وہ تقریباً دوسال پابندسلاسل رہے کرپشن کے ریفرنس دائر ہوئے جو ٹرائل کورٹ میں زیرسماعت رہنے کے  بعد عدالت سے باعزت بری ہوگئے جو وہ بے گناہ پابندسلاسل رہے اس کا حساب کون دے گا؟  ان کے فرزند ارجمند بیرسٹر شیراز آصف ہاشمی ابھی تک نیب کی انتقامی کاروائیوں کی زد میں ہیں،یہ سلسلہ تھمانہیں حال ہی میں ایف آئی اے نے متعدد مقدمات قائم کرکے گرفتار کرلیا عدالت عالیہ سے ضمانت پر رہا ہوگئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نوٹس لیں سیاسی،بے بنیاد مقدمات کی منصفانہ تفتیش کے لئے جے آئی ٹی بنائی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ا ن کا بنیادی تعار ف ایک باوقار سیاست دان کا ہے، جس کے صبح وشام عوام کی خدمت میں گزرتے ہیں سب سے قیمتی اور بڑا ہتھیار خدمت خلق!جناب سید آصف اختر ہاشمی کی سیاست کا دورانیہ تقریباً نصف صدی پر محیط بے داغ ہے ایک نکھرا اور اجلاہوا سیاست دان!ان کے ہزاروں ووٹرتعلق دار  دل میں حسرت لئے پھرتے ہیں ان کی عزت،شفقت اور عظمت کے اقرار کا بھی کوئی سامان ہو اس کا اختیار  صرف چیف جسٹس آف پاکستان عزت مآب جسٹس عمرعطابندیال صاحب کوحاصل ہے  اے کاش قانوناًکوئی ایسی صورت نکل آئے آصف اختر ہاشمی کا چہرہ تاریخ میں چمکتا دمکتا رہے۔ وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے نیب ترمیمی آرڈیننس بل 1999ء قومی اسمبلی میں پیش کیا جو کثرت رائے سے منظور ہوگیا یہ خوش آئند بات ہے۔

مزید :

رائے -کالم -