میرے صحرا جل رہے ہیں  

 میرے صحرا جل رہے ہیں  
 میرے صحرا جل رہے ہیں  

  

 بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہو تا ہے جنہیں مستقبل میں پانی کی قلت کا شدید سامنا ہوگا پاکستان میں اس وقت پانی کے ذخائر کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے اس پریشانی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے فوری اور موثر اقدامات ہونے چاہئیں جو اقدامات اب تک کیے گئے ہیں اس ضمن میں بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے نے تحقیق کے بعد رپورٹ مرتب کی ہے ملاحظہ فرمائیے ان کے مطابق ملک میں پانی کی کمی اس وقت شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جس کے حل کے لیے بلا تاخیر اقدامات کی اشد ضرورت ہے (ایم ڈی پی آئی) کی تحقیق کے مطابق پاکستان اس وقت پانی کے بحران والے  ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے پاکستان میں ہر سال سینکڑوں افراد پینے کے پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں گزشتہ چار سالوں میں خشک سالی اور پینے کے پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پاکستان میں اٹھارہ سو سے زائد افراد اور بچے زندگی کی بازی ہار گئے ان کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مویشی بھی شامل ہیں اس رپورٹ میں  اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں تقریبا دو کروڑ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے جبکہ پاکستان کے بڑے شہروں میں اسی فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا اس  میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کی وجوہات میں سب سے پہلا پانی کے لیے ذخائر یعنی ڈیمو ں کا نہ ہونا ہے، ہندوستان کی طرف سے آبی جارحیت،آبادی میں بے پناہ اضافہ، تیزی سے تبدیل ہو تے موسم،آ بپا شی کا ناقص نظام، تیزی سے زمینوں پر پھیلتی ہوئی ہاؤسنگ کالونیاں اور سیاسی عدم استحکام بھی ہے لیکن ڈیرے دار کا خیال (ایم ڈی پی آئی) کی رپورٹ سے تھوڑا مختلف ہے وہ یہ ہے کہ شاید قدرت ہم سے بدلہ لے رہی ہے جس بے دردی سے ہم نے قدرت کے اس انمول تحفے کو ضائع کیا ہے وہ انتہائی قابل افسوس ہے ہم نے اپنی نسلوں کو یہ شعور ہی نہیں دیا کہ پانی ضائع نہیں کرنا چاہیے دیکھنے میں آتا ہے کہ گاڑیاں دھونے کے لئے ہزاروں لیٹر پانی ضائع کردیا جاتا ہے یقین کریں ملائیشیا میں وہ دو بوتل پانی سے  گاڑی صاف کر لیتے ہیں،وہاں پر جتنے بھی سروس سٹیشن لگائے جاتے ہیں ان میں پانی کوریسائیکل کرنے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے لیکن  یہاں پانی کو ری سائیکل کرنے کا تصور ہی نہیں ہمارے دریاؤں میں پانی جمع کرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمارا سا ٹھ فیصد پانی سمندر برد ہو جاتا ہے شاید ہمیں علم ہی نہیں کہ زیر زمین پانی کی سطح دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے  اس وقت چولستان،تھر اور تھل میں جانور انسان اور پودے پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ دم توڑ رہے ہیں اور حکمرانوں کی توجہ کا عالم ملاحظہ فرمائیے کے ایوانوں میں اس گمبھیر صورتحال کا ذکر تک نہیں ملتا ایوانوں میں کبھی پانی پر کوئی آواز بلند نہیں کی گئی اور ہمارے حکمران ملکی مسائل کو پس پشت ڈال کر تو چور میں محب وطن کی صدائیں بلند کر تے نظر آتے ہیں اس مشکل گھڑی میں ریسکیو اہلکاران کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان کے ساتھ ان تمام لوگوں کو جنہوں نے اتنے سخت موسم کی پرواہ کیے بغیر چولستان کے باسیوں کے لئے پانی کا بندوبست کیا میں اپیل کرناچاہوں گا ان تمام دوستوں سے جو ہر سال جیپ ریلی کے لیے چولستان جاتے ہیں کہ برائے کرم ان کے لیے پانی کا انتظام کرنے میں جہاں تک ہو سکے مدد کریں بالخصوص اپیل کرنا چاہتا ہوں پاک ویلز کے سی ای او جناب سنیل سرفراز منج صاحب سے کہ آپ کی ایک کال ایک کمپین سے ہزاروں افراد چولستان میں جمع ہو جاتے ہیں برائے کرم ایک کمپین ان کے پانی کے لئے بھی چلا دیں آپ کی آواز تو حکومتی ایوانوں تک پہنچ جاتی ہے اپنی اس طاقت کا استعمال انسانوں اور جانوروں کی زندگیاں بچانے کے لیے بھی کر لیں اللہ کریم اس کا آپ کو بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم پاکستان،وزیر اعلی سندھ، وزیر اعلی پنجاب اور تمام حکومتی اراکین سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ برائے کرم دکھ کی اس گھڑی میں تھر،چولستان اور وہ تمام علا قے جہاں پانی کی قلت ہے ان کی مدد کے لیے نکل آئین پنجاب سمیت سارے ملک کے شہریوں کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آپ خود اور اپنے بچوں کو بھی پانی بچانے کی تلقین کریں اس شعور کو لازمی طور پر اجاگر کریں اس کے ساتھ ساتھ حکومت سے گزارش ہے کہ برائے کرم زیادہ سے زیادہ چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کریں جو پہلے سے موجود ہیں ان کی صفائی کا انتظام کر یں اگر پاکستان میں مصنوعی بارش کی ٹیکنالوجی آ چکی ہے تو برائے کرم  استعمال کریں اس وقت درجہ حرارت میں بہت اضافہ ہو چکا ہے ایک کمپین کے تحت درخت لگانے کا کام شروع کریں جہاں کہیں بھی جگہ ملے اسے جنگلات میں تبدیل کر دیں صحرا کو جنگلات میں تبدیل کرنے کا طریقہ چین سے سیکھ لیں جس نے گذشتہ چند سالوں میں لاکھوں کلومیٹر ریگستانوں کو ٹیکنالوجی کی مدد سے جنگلات میں تبدیل کر دیا ہے ہندوستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کے مطابق مذاکرات کریں اگر بات چیت کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوتے تو پیش گوئی تو پہلے سے ہی موجود ہے کہ آنے والے وقت میں جنگ پانی پر ہوگی لیکن کسی بھی طرح معاملات کو جنگ سے پہلے حل کرنے کی کوشش کریں دیر تو پہلے ہی بہت ہو چکی ہے لیکن اب اس میں مزید دیر  نہیں ہے اس لئے برائے کرم پانی کے معاملات کو پاکستان کی زرخیزی ختم ہونے سے پہلے حل کرلیں پانی کے ذخائر پاکستان کی بقا کے لیے بہت ضروری ہیں اور ساری قوم سے اپیل ہے کہ برائے کرم رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر دعا کریں کہ یا رب اپنی رحمت کی بارش برسا دے میرے صحرا جل رہے ہیں میرا رب ہی ہماری مدد فرما سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -