کتابوں کی دنیا

     کتابوں کی دنیا
     کتابوں کی دنیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  کتابیں انسانی شعور کے ارتقاء کا سب سے بنیادی اور موثر ذریعہ ہیں۔کوئی دوسرا ذریعہ چاہے کتنا ہی مقبول اور طاقتور ہو جائے کتاب کی جگہ پھر بھی نہیں لے سکتا۔یہ صرف پاکستان کی بات نہیں، ترقی یافتہ ممالک میں بھی کتاب آج بھی مطالعے کی تشنگی کو مٹانے کے لئے سب سے بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان میں کتاب کی اہمیت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آنے سے کم ہوئی ہے،اعداد و شمار اُٹھا کر دیکھیں تو اندازہ ہو گا،اس دور میں کتابیں پہلے کی نسبت کئی گناہ زیادہ چھپ رہی ہیں،کتابوں کی دنیا کے اس سلسلے کی مقبولیت کا سبب بھی یہی ہے کہ قارئین نئی کتابوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تاکہ ان تک رسائی حاصل کر کے اپنے مطالعے کی تشنگی دور کر سکیں۔آج کے کالم میں دو کتابوں کو تذکرہ مقصود ہے،پہلی کتاب عالمی شہرت یافتہ شاعر، ادیب، نقاد اور محقق ڈاکٹر اسلم انصاری کی تصنیف ”ملتان، شہر طلسمات“ ہے، جبکہ دوسری کتاب ملتان سے لاہور جا بسنے والی شاعرہ اور افسانہ نگار شہناز نقوی کی آپ بیتی ”جو گذر گئی وہ حیات ہے“ ہے۔

ڈاکٹر اسلم انصاری دنیائے ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اردو، فارسی، انگریزی  اور سرائیکی زبانوں میں انہوں نے گراں قدر تخلیقی، تحقیقی اور تنقیدی کام کیا ہے۔اُن کا سب سے مضبوط اور بے مثل حوالہ شاعری ہے،وہ ناصر کاظمی اور احمد مشتاق کی تثلیث کا ایک ناگزیر ستون ہیں،حال ہی میں ان کی فارسی کلیات، ”گلیانگ آرزو“ کے نام سے شائع ہو کر پاکستان ہی نہیں،بلکہ ایران اور بھارت میں بھی بھرپور پذیرائی حاصل کر چکی ہے، انہیں تمغہئ حسن ِ کارکردگی اور صدارتی تمغہئ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے،اُن کی آج کا موضوع بننے والی کتاب”ملتان‘ شہر طلسمات“ ملتان کے بارے میں غالباً اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے،جس میں اس ہزاروں سال پرانی تہذیب کے مالک شہر کی مختلف جہتوں کو یکجا کر دیا گیا ہے اس میں ملتان    کی صرف ادبی تاریخ نہیں ملتی،بلک  پورا جیتا جاگتا ملتان نظر آتا ہے، اسے آپ بیکوقت ملتان کی تاریخ بھی کہہ سکتے ہیں اور ایک ملتانی کا سفرنامہ بھی اس میں تہذیب و ثقافت کی خوشبو بھی رچی بسی ہوئی ہے اور اس دھرتی سے جڑی شخصیات کی زندگی اور فکر و فلسفے کا احوال بھی،جو اسے بہت دلچسپ اور موقر بنا دیتا ہے۔ ڈاکٹر اسلم انصاری کی ساری زندگی ملتان میں گزری ہے۔اُن کے پاس پوری صدی کے ملتان کی یادیں ہیں، انہوں نے اس شہر کی طلسمی گلیوں میں اپنے شب و روز بھی گزارے ہیں۔ ملتان ایک شہر طلسمات تو ہے ہی تاہم یہ کتاب بھی کتاب طلسمات ہے کہ جس میں مصنف نے متنوع موضوعات کو بڑی خوبصورتی سے آپس میں یکجا کر  دیا ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہو۔ایک طرف ملتان کے فن تعمیر،آثار و مقامات کا دلچسپ تحقیقی احوال بیان کیا گیا ہے تو دوسری طرف ملتان کی اُس تاریخ کا خوبصورتی سے ذکر ملتا ہے، جو ڈاکٹر اسلم انصاری کے سامنے گزری۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر اسلم انصاری کے سامنے ملتان ایک کھلی کتاب کی صورت موجود ہے، انہوں نے جو بھرپور زندگی گزاری اُس میں ایک طرف اپنے تخلیقی عمل کو جاری رکھا۔دوسری طرف اپنے ذوق مشاہدہ کو بھی مرنے نہیں دیا۔ وہ ایک زندہ اور بڑی آنکھ رکھنے والے تخلیق کار ہیں اس لئے یہ ممکن نہیں وہ ملتان کے کسی تہذیبی، تاریخی پہلو کو نظرانداز کر پائے ہوں۔ اس کتاب کا ایک اہم باب علامہ عتیق فکری سے جڑی یادوں پر مبنی ہے۔ علامہ عتیق فکری ملتان کا ایک بہت بڑا علمی اور تاریخی حوالہ ہیں،اُن کا اس کتاب میں تفصیلی ذکر واقعی اس کتاب کے شہر طلسمان کی تاریخ ہونے کو ثابت کرتا ہے اس کتاب کے 19 ابواب ہیں۔ہر باب موضوع کے اعتبار سے اپنی جگہ مکمل اور ملتان کے تہذیبی، ادبی، ثقافتی، معاشرتی اور تاریخی پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ ملتان کو جاننے کے لئے اس کا مطالعہ ضروری ہے اسے کتاب فکر ملتان نے شائع کیا ہے۔

”جو گزر گئی وہ حیات ہے“ شہناز نقوی کی آپ بیتی ہے جس میں خود نوشت، سوانح عمری، رپورتاژ اور جگ بیتی کے عوامل بھی شامل ہیں۔یہ کتاب درحقیقت اُن یادوں سے مزین ہے،جو ملتان کے حوالے سے مصنفہ کی زندگی میں موجود ہیں۔ شہناز نقوی آج کل لاہور میں مقیم ہیں اور وہاں کی ادبی زندگی میں شامل ہو چکی ہیں تاہم یہ کتاب اُن کی اس زندگی کا پر تو ہے جو انہوں نے بچپن سے لے کر چند سال پہلے تک ملتان میں گزاری،اس میں وہ ملتان نظر آتا ہے جو اب ترقی کے ثمرات اور کمرشل ازم کی وجہ سے معدوم ہو چکا ہے۔ خاص طور پر ملتان کے علاقے گلگشت کا اس کتاب میں جو تذکرہ ملتا ہے،وہ ایک جیتی جاگتی زندگی جو محبتوں اور رشتوں سے عبارت تھی، کا احوال ہے۔ شہناز نقوی کے شریک زندگی سید حسن یوسف نقوی چونکہ وفاقی سروس کے افسر تھے،اس لئے انہیں شوہر کے تبادلوں کی وجہ سے سبی، بہاولپور، سیالکوٹ، رحیم یار خان، کوئٹہ اور راولپنڈی بھی قیام کا موقع ملا۔اُن دونوں کا احوال بھی شہناز نقوی نے بڑے دلچسپ پیرائے میں بیان کیا ہے تاہم اس کتاب میں جو ذکر ملتان کا ملتا ہے، وہی اس کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔سکول کے زمانے سے لے کر کالج کے زمانے تک اور پھر شادی کے بعد اس شہر میں ایک عرصہ گزارنے کے دوران شہناز نقوی نے ملتان کے ادبی منظر کو جس طرح قریب سے دیکھا،اُس میں خود بھی ایک عملی کردار ادا کیا،اُس کا احوال پڑھنے والے کو ایک خاص فضاء میں لے جاتا ہے۔ شہناز نقوی نے پرانی یادوں کو جس طرح جزئیات کے ساتھ لکھا ہے،  وہ تحریر کا مزہ دو آتشہ کر دیتا ہے۔اس کتاب میں ادبی، تقریبات کا احوالے بھی موجود ہے اور ادبی شخصیات کے بارے میں مضامین بھی۔تاہم اُن سب میں بھی ذاتی ملاقاتوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ادبی رسالہ ”تخلیق“ کے بانی اظہر جاوید سے پہلی اور آخری ملاقات کئی یادوں کو وا کر دیتی ہے۔سب سے اہم پہلو اس کتاب کا اسلوب اور شہناز نقوی کی سادہ نثر ہے۔قاری انہیں پڑھتے ہوئے کبھی خود کو بوجھل محسوس نہیں کرتا۔وہ قاری کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہیں اور قاری اُس ماحول میں خود کو محسوس کرتا ہے۔خاص طور پر ملتان کے بارے میں انہوں نے جو ابواب لکھے ہیں وہ بڑی دلچسپی کے حامل ہیں۔ملتانیوں کے لئے ان میں دلچسپی کا سامان اس لئے بھی زیادہ ہے کہ وہ سب کچھ اُن کی اپنی زندگیوں کا حصہ بھی رہا ہے۔

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -