ہالینڈ اور سوئٹزرلینڈ کے لوگ قدرے بہتر تھے، جرمن اور فرانسیسیوں کو کافی بد لحاظ پایاکسی کو راستہ تک نہیں بتاتے،پیرس اسی لیے ذرا نہ بھایا

  ہالینڈ اور سوئٹزرلینڈ کے لوگ قدرے بہتر تھے، جرمن اور فرانسیسیوں کو کافی بد ...
  ہالینڈ اور سوئٹزرلینڈ کے لوگ قدرے بہتر تھے، جرمن اور فرانسیسیوں کو کافی بد لحاظ پایاکسی کو راستہ تک نہیں بتاتے،پیرس اسی لیے ذرا نہ بھایا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:297
 جرمنی اور لکسمبرگ سے ہوتے ہوئے 2ہفتے بعد دوبارہ لندن واپس پہنچ گئے،جہاں آکر بڑا سکون ملا کہ وہاں کے لوگ اپنے جیسے ہی تھے جب کہ یورپ میں معاملہ قدرے مختلف تھا اور وہاں کے لوگ واضح طور پر اگر بداخلاق نہیں تو کوئی ایسے خوش اخلاق بھی نہیں تھے۔ ہالینڈ اور سوئٹزرلینڈ کے لوگ قدرے بہتر تھے تاہم جرمن اور فرانسیسی باشندوں کو سیاحوں کے حق میں کافی بد لحاظ پایا۔وہ کسی کو راستہ تک نہ بتاتے تھے۔پیرس تو اسی لیے ذرا نہ بھایا۔
کچھ روز لندن میں رہ کر ایک بار پھروہاں کی زندگی سے لطف اٹھایا اور پھر ایک دن امریکہ جانے کے لیے ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچ گئے۔ یہاں ہم سے واضح طور پر امتیازی سلوک روا رکھا گیا، دوسری قومیتوں کے برعکس ہمیں یہاں بٹھا کر ہمارے سارے حوالے چیک کیے گئے، ان ہوٹلوں سے، جہاں ہم نے پچھلے دنوں قیام کیا تھا، تصدیق کی گئی اور کوئی ایک گھنٹے بعد کلیئر کر کے بورڈنگ پاس دے دئیے گئے۔ اور یوں ہم عازم امریکہ ہوئے۔
چونکہ میں یہاں پہلے بھی کچھ عرصہ رہ چکا تھا اور تقریباً سارا ہی امریکہ دیکھا بھالا تھا اس لیے کم از کم میرے لیے کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ بڑے اعتماد سے نیو یارک پہنچ کر ہم نے جہاز کے ٹکٹ بھی ایک پیکج کی صورت میں خرید لیے جس میں منزل کی کوئی قید نہیں تھی اور 15دن میں آپ جہاں بھی اور جتنی دفعہ بھی جاناچاہیں، جا سکتے ہیں۔ 
امریکہ کے کافی سارے شہر دیکھنے کے بعد ایک دن منصوبہ بنا کہ اب کینیڈا چلنا چاہیے۔ دونوں نے ایک ایک چھوٹا بیگ اٹھایا اور ہاتھوں میں کیمرے لیے ہم بفلو تک جہاز پر گئے۔ مزے دار بات یہ تھی کہ پورے جہاز میں صرف ہم 2 ہی مسافر یعنی میں اور فرزانہ تھے، اس کے باوجود پرواز اپنے مقررہ وقت پر نیویارک سے روانہ ہوئی اور راستے میں اکلوتے مسافر ہونے کی وجہ سے جہاز کے عملے نے ہم پر خدمات کی انتہا کر دی اور ہمیں بار بار اور اتنا کھلایا پلایا گیا کہ ہم تنگ پڑ گئے۔ خالی جہاز اپنی منزل کی طرف اڑا جا رہا تھا، بعض اوقات جب وہاں موجود     ایئر ہوسٹس بھی دوسرے سیکشن میں چلی جاتی تو یوں محسوس ہوتا کہ جیسے یہ جہاز صرف ہم دنوں کے لیے ہی بنا تھا۔ ہم دونوں شاہی مہمانوں کی طرح سفر کر رہے تھے۔ بفلو پہنچ کر ہماری یہ بادشاہت ہم سے چھن گئی اور ہمیں اپنی اوقات میں آنے میں ذرا بھی دیر نہ لگی۔ ہلکا پھلکا سامان اٹھایا اور ایئرپورٹ سے نیاگرا جانے کی بس میں سوار ہو گئے۔ نیاگرا آبشار کے پہلو میں واقع ہوٹل کے ایک ہال نما کمرے میں 2دن بِتائے، موسم خزاں عروج پر تھا، میپل کے رنگ برنگے پتے درختوں پر لہرا رہے تھے اور زیادہ تر نیچے زمین پر بچھے ہوئے تھے۔ بڑا ہی خوبصورت منظر تھا۔ یہاں اس وقت بھی درجہ حرارت نقطہ انجماد سے دو درجہ نیچے گر گیا تھا اور آبشار کی اڑتی ہوئی پھوار جہاں گرتی فورا ًہی جم جاتی اور سفید چادر کی طرح قریبی عمارتوں اور جھاڑیوں پر پھیل جاتی۔ خون جما دینے والی سردی سر شام ہی سیاحوں کو محفوظ ٹھکانوں کی طرف جانے پر مجبور کر دیتی۔ہم بھی شام کو آتش دان کے سامنے بیٹھے مسلسل کافی پیتے رہتے۔
اگلے روز بس میں ہی مسی ساگا اور ٹورنٹو گئے اور وہاں چار خوبصورت دن گزار کر اسی راستے سے واپس امریکہ کی طرف لوٹ آئے۔ امریکہ اور کینیڈا کی کسٹم پوسٹ پر ہمیں دھر لیا گیا وہ اس بات پر حیران تھے کہ بے سروسامان یہ جوڑا کینیڈا میں 4 روز کیسے گزار آیا تھا۔بار بار پوچھتے تھے کہ کیا واقعی تمہارے پاس اور کوئی سامان نہیں ہے۔ بوسٹن سے نیویارک آ کر ہم نے چند اور دن وہاں گزارے اور شہر کی خوب سیاحت کی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -