بے لوثی، سادگی، قناعت کیا مسلمانوں سے دور ہو گئی؟

بے لوثی، سادگی، قناعت کیا مسلمانوں سے دور ہو گئی؟
بے لوثی، سادگی، قناعت کیا مسلمانوں سے دور ہو گئی؟
کیپشن: syed fiaz ud din

  

پچھلے دنوں انٹرنیٹ پر دو تصویریں گردش کر رہی تھیں۔ ایک حضور رسالت کے حجرہ کی اور دوسری عبدالستار یدھی کی ایک کمرہ پر مشتمل رہائش کی۔نبی پاک کے حجرئہ مبارک کی کسی عرب ملک میں ایک جگہ اُس کی نقل بنائی گئی اور ایدھی کا رہائشی کمرہ جو کراچی میں موجود ہے۔مقصد غالباً یہی ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ ہمیں کس کی پیروی کرنی چاہئے اور یہ کہ آج بھی اس کی پیروی کرنے والے موجود ہیں۔عالم اسلام میں آج بھی کئی علماءاور فضلاءایسے ملیںگے جو نہایت ہی معمولی طرز رہائش اختیار کئے ہوئے ہیں اور اُن کی پوشاک اور رہن سہن بالکل عام آدمی جیسا ہے۔

ہمارے بزرگوں نے تو ایسی ایسی اعلیٰ مثالیں پیش کی ہیں، جن کو سن کر ہی لوگ کانپ جاتے ہیںاور بھاری پتھر سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ”بھائی ہم اس مقام تک کہاں پہنچ سکتے ہیں، ہم کہاںدال دلیہ پر گذارہ کر سکتے ہیں۔ یہ تو بڑے خدا پرست لوگ تھے۔ ہم تو بھائی کاروباری آدمی ہیں، اللہ معاف فرمانے والا ہے۔ سادگی، قناعت، اسراف سے پرہیز ایسا لگتا ہے کہ اب صرف میوزیم میں رکھنے کی صفات ہیں۔

اب دیکھئے کہ جس نے بھی جس عقیدت سے جناب رسالت مآب کے حجرے کی شبیہہ اپنے ملک میں بنائی ہے، کیا وہاں کے حکمرانوں، فضیلت مآبوں، صاحب ِ ثروت و اہل عقد و دل حضرات کے اپنے گھر،اپنی آسائشوں اور اپنے طرزِ زندگی میں سرکارِ دوعالم تو رہے ایک طرف، ان کے جلیل القدر صحابہ ؓ کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں، ہمارے حکمرانوں کو تو چھوڑئے، وہ تو حکمرانی کرتے ہیں، اس لئے مال و متاع کے ساتھ ساتھ انسانوں پر حاکمیت کریں، حالانکہ حاکمیت تو صرف اُس ذات ِ ہمتا کے لئے مختص ہے۔

ہماری سماجی محفلوں کو دیکھئے وہاں کتنا اسراف ہوتا ہے،شادی، بیاہ اور آج کل برتھ ڈے ۔ یہ ڈے، وہ ڈے اور پھر ہر تھوڑے عرصے بعد کوئی روایت مغرب سے آ جاتی ہے، جوہماری معاشرتی زندگی اور اس کی رہی سہی قدروں کو بھی پامال کر دیتی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔شہروں کو چھوڑئے، اب تو انٹرنیٹ اور ٹی وی کے ذریعے دنیا بھر کی خرافات سے گاﺅں کے گاﺅں خراب و برباد ہو رہے ہیں۔مغربی ممالک میں صرف برائیاں نہیں ہیں، ابھی حالیہ سیلاب میں بھی یہاں برطانوی وزیراعظم خود کالے بوٹ پہن کر سیلاب زدہ علاقوں میں گئے اور اپوزیشن کی تنقید کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ250سالہ سردی کی بارشوں کا ریکارڈ توڑنے والی بارش نے جو سیلابِ عظیم برپا کیا اس پر پوری مشینری حتیٰ کہ شہزادگان حرکت میں آ گئے۔ شریعت پر عمل کرنے کے لئے پہلی ترجیح ہمارے معاشرے کو سادہ ،کفایت ،غریب پرور اور رفاہ عامہ کے کاموںسے بھرپور بنانا چاہئے۔

ایسا معاشرہ جہاں حضرت عمر فاروق ؓ سے عام آدمی ان کی چادر کے بارے میں سوال کر سکتا ہو اور جواب بھی ملتا ہو اور پوچھنے والے کا حشر نشر نہ ہوا ہو، بلکہ اُس کا ذکر اچھے الفاظ میں ہوتا ہے، اُس وقت بن سکتا ہے جب ہم اپنی ذات کے خول سے نکل کر اُمت کے فرد کی حیثیت اختیار کر لیں ،جہاں ہر فرد اپنے آپ کو اللہ کے آگے ہر چھوٹے بڑے عمل کے لئے جوابدہ سمجھتا ہو اور زندگی میں اسے ہر دم اس کا لحاظ ہو۔ایسا لگتا ہے کہ ہماری مثالوں سے دوسرے سیکھ رہے ہیں اور اُن کو اپنا رہے ہیں، کیا عجب کہ بھارت میں عام آدمی پارٹی ہی ہمیںآئینہ دکھا سکے۔

مزید :

کالم -