البغدادی فضائی حملے میں کس طرح بچ نکلا؟اصل حیرت انگیز کہانی سامنے آگئی

البغدادی فضائی حملے میں کس طرح بچ نکلا؟اصل حیرت انگیز کہانی سامنے آگئی
البغدادی فضائی حملے میں کس طرح بچ نکلا؟اصل حیرت انگیز کہانی سامنے آگئی

  


بغداد (نیوز ڈیسک) داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو امریکی اور عراقی حکومتیں مطلوب ترین افراد میں شمار کرتی ہیں اور اس کے خاتمے کے لئے ہمہ وقت کوشاں نظر آتی ہیں مگر جب البغدادی ان کے نشانے پر آیا تو سیکیورٹی ایجنسیوں کی آپسی چپقلش نے اسے صاف بچ نکلنے کا موقف فراہم کردیا۔

اخبار ’’دی سنڈے ٹائمز‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ عراقی اور شامی سرحد پر واقع علاقے القائم کے ایک سکول میں البغدادی اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ موجود تھا اور نئے بیعت کرنے والے اس کے ارد گرد جمع تھے۔ عراقی انٹیلی جنس یونٹ فیلکنز سیل کو البغدادی کی موجودگی کی خبر مل چکی تھی اور اس نے عراقی فضائیہ کو حملہ کرنے کا کہا مگر یہ نہیں بتایا کہ ٹارگٹ کون ہے۔ ٹارگٹ کی معلومات نہ ہونے پر وزارت دفاع نے حملہ نہ کیا اور یوں البغدادی کی موجودگی کی درست معلومات دستیاب ہونے کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

مزیدپڑھیں:کینیڈاکی یخ سردی لیکن پھر بھی یہ مرد او رخواتین پانی میں بیٹھے ہیں ،وجہ انتہائی دلچسپ

تقریباً ایک گھنٹے بعد عراقی وزیراعظم کے دفتر کی طرف سے مداخلت کی گئی اور حملے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس وقت تک البغدادی کا قافلہ روانہ ہوچکا تھا۔ اطلاعات کے مطابق قافلے پر کی گئی فضائی کارروائی کے نتیجے میں 10 گاڑیاں تباہ ہوئیں اور البغدادی کو سر اور پیٹ پر زخم آئے مگر اسے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔ آج عراق، شام اور مغربی ممالک متحد ہوکر البغدادی کے خاتمے کی کوشش کررہے ہیں مگر جب یہ عین نشانے پر تھا تو سرخ فیتے نے اسے بچ نکلنے کا موقع فراہم کردیا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...