طلاق کے مقدمہ میں بھارتی عدالت نےایسا فیصلہ دیا کہ مردوں کو خوشی پاگل کر دیا

طلاق کے مقدمہ میں بھارتی عدالت نےایسا فیصلہ دیا کہ مردوں کو خوشی پاگل کر دیا
طلاق کے مقدمہ میں بھارتی عدالت نےایسا فیصلہ دیا کہ مردوں کو خوشی پاگل کر دیا

  


 نئی دلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ایک فیملی کورٹ نے اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کی نان و نفقہ کی درخواست رد کرکے مردوں کو خوش کرنے والا فیصلہ سنادیا ہے۔ خاتون نے درخواست دائر کی تھی کہ اس کا سابقہ خاوند کامیاب بزنس مین ہے اور ماہانہ 15 لاکھ سے بھی زائد کماتا ہے لہٰذا اسے دو لاکھ ماہانہ نان و نفقہ ادا کرنے کا پابند کیا جائے۔ سابقہ شوہر نے موقف اختیار کیا تھا کہ خاتون نیوٹریشن سائنس کی اعلیٰ ڈگری رکھتی ہے اور بڑی بڑی کمپنیوں میں کام کرتی رہی ہے لہٰذا وہ ماہانہ 50 ہزار تک بآسانی کماسکتی ہے۔

جو کام فرعون اپنی زندگی میں کرتا تھا مرنے کے بعد مغربی خواتین ارد گرد کرنے لگیں

عدالت نے یہ کہتے ہوئے خاتون کی درخواست رد کردی ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین ملازمت کرکے اپنے اخراجات بآسانی پورے کرسکتی ہیں لہٰذا انہیں سابقہ خاوند پر نان و نفقہ کا بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ درخواست گزار خاتون گزشتہ سال ستمبر میں طلاق لے چکی ہیں اور اس وقت اپنے والدین کے ہاں مقیم ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...