نائیجریا کا بوکو حرام کے خلاف آپریشن

نائیجریا کا بوکو حرام کے خلاف آپریشن

ابو جا (این این آئی)افریقی ملک چاڈ اور نائجر کی سکیورٹی فورسز نے نائجیریا کے شمالی علاقوں میں شدت پسند گروہ بوکوحرام کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائی شروع کر دی ہے۔حکام کے مطابق اس کارروائی کا ہدف نائجیریاکی ریاست بورنو ہو گی۔چاڈ اور نائجر نے بوکوحرام کے خلاف کارروائی کا آغاز ایک ایسے وقت کیا جب ایک دن پہلے اس نے عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا اعلان کیا تھا۔چارڈ، نائجر اور کیمرون اس سے پہلے بھی بوکوحرام کے خلاف نائجیریا کی مدد کر رہے تھے۔افریقی یونین نے بوکوحرام کا مقابلہ کرنے کیلئے آٹھ ہزار اہلکاروں پر مشتمل علاقائی فورس تشکیل دینے کی منظور دی تھی تاہم یہ فورسز نائجیریا کے اندر تک جانے کی بجائے جھیل چاڈ کے نائجیریائی حصے کی حفاظت کریں گی۔بوکوحرام کے خلاف نئی کارروائی اتوار اور پیر کی رات گئے شروع ہوئی مقامی افراد اور ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ نائجر اور نائجیریا کی سرحد کے قریب شدید فائرنگ ہو رہی ہے۔ایک مقامی ریڈیو سٹیشن نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کا دو سو گاڑیوں پر مشتمل قافلہ علاقے کی جانب بڑھ رہا ہے اور علاقے میں فضائی حملے بھی کیے گئے۔نائجیریا اور ہمسایہ ممالک کے فوجی حکام نے بوکوحرام کے خلاف کارروائیوں میں کچھ کامیابیوں کا دعویٰ کیا جبکہ نائجیریا کے حکام کے مطابق بوکوحرام کی جانب سے دولت اسلامیہ سے وفاداری کا اعلان کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ کمزور ہو رہی ہے۔نائجیریا کی فوج کے ترجمان کرنل سمیع عثمان کوکاشیکا کے مطابق بوکوحرام کا سربراہ ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی طرح ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ وہ دنیا بھر میں دیگر شدت پسند تنظیموں سے مدد مانگ رہا ہے۔ بنیادی طور پر وہ صرف بے چینی پیدا کر رہا ہے تاکہ مدد مانگی جا سکے اور یہ کبھی نہیں آ سکے گی کیونکہ ہم جلد ہی نائجیریا میں اس کی سرکشی کا خاتمہ کر دیں گے۔نائجیریا کی حکومت کے ترجمان مائیک عمری نے بتایا کہ بوکوحرام کو مدد کی ضرورت ہے کیونکہ جانی نقصان اور بمباری کی وجہ سے ان کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ۔

مزید : عالمی منظر


loading...