ہاف فرائی اور فل فرائی

ہاف فرائی اور فل فرائی
 ہاف فرائی اور فل فرائی

  


 ہاف فرائی اور فل فرائی وہ اصطلاح ہے جو آج کل سندھ میں بہت مشہور ہے۔ اس اصطلاح کا تعلق براہ راست سے بنتا ہے۔ جرائم کی دنیا میں جو بھی بدنام زمانہ ہیں وہ اس اصطلاح سے خوف زدہ ہیں۔ پولیس ا نہیں گرفتار کر کے ہاف فرائی کر دیتی ہے اور جو ضرورت سے زیادہ بدنام ہیں اور جن کے کھاتے میں لوٹ مار، ڈاکہ زنی، اغواء برائے تاوان، قتل، جیسے درجنوں جرائم ہوں تو انہیں فل فرائی کر دیا جاتا ہے۔ مطلب واضح ہو گیا ہوگا ورنہ وضاحت یہ ہے کہ انہیں جعلی مقابلوں میں پولیس اس دارفانی سے کوچ کرا دیتی ہے۔ ہاف فرائی کئے جانے والوں کو گھٹنوں یا ٹخنوں پر گولی مار کر زخمی کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ بقایا تمام زندگی لنگڑاتے ہی رہیں۔ ہاف فرائی اور فل فرائی کی صورت میں بظاہر جرائم میں تیزی سے کمی آئی ہے اور لا قانونیت پر آمادہ لوگوں کو جب اپنی جان کے لالے پڑے تو وہ اسے بچانے میں مصروف ہیں۔ جان بچانے کی ایسی ہی کوشش میں حیدرآباد کے احسان جس کے نام کے ساتھ چور کا لاحقہ لگا ہوا تھا، کراچی فرار ہو گیا تھا لیکن پولیس نے حالات ٹھیک ہو گئے ہیں کا جھانسہ دے کر اسے حیدرآباد بلایا اور وہ ایک مقابلے میں مارا گیا۔ احسان کی لاش کی پولیس نے اس علاقے میں نمائش کی تاکہ لوگوں کو یقین ہوجائے کہ احسان چور مارا جا چکا ہے ۔ احسان ایک سفاک جرائم پیشہ شخص تھا۔ مویشی اٹھانا اور چوری کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ ایک بار چوری ہوجانے والا مویشی اس کے مالک کو اس وقت تک واپس نہیں کیا جاتا تھا جب تک احسان منہ بولی قیمت وصول نہیں کر لیتا تھا۔ شہر بھر میں سب ہی جانتے تھے کہ احسان کیا کرتا ہے اور کس طرح جبرا رقم وصول کرتا ہے۔ سندھ بھر میں جرائم پیشہ لوگوں نے جس انداز میں اپنی متوازن حکومت قائم کی ہوئی ہے، اس سے تو یہ ہی قیاس ہوتا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ پولیس ان کے سامنے بے بس، عدالتوں تک کوئی مقدمہ جاتا ہی نہیں تو عدالتیں کیا کریں۔ اگر عدالتوں میں مقدمات جاتے بھی ہیں تو گواہ ملزمان کی شناخت نہیں کرتے۔ کسی بھی حکومت سے عوام اولین طور پر امن و امان چاہتے ہیں۔ فلاح و بہبود کے کام تو بعد کی بات ہیں۔ لوگ زندہ رہیں گے تو فلاح و بہبود کی بات کریں گے۔ یہاں تو ایسا ہو گیا ہے کہ اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں اس تیزی سے اضافہ ہوا کہ خود وزیر اعلی کا آبائی ضلع خیر پور سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ کئی وجوہات میں ایک بنیادی وجہ پولیس افسران کا بار بار اور فوری تبادلہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ کافی عرصے بعد ایسے پولیس افسران کی تقرری کی گئی جنہیں کہا گیا کہ امن و امان چاہئے۔ ایک پولیس افسر نے جرائم پیشہ افراد کو حراست میں لینا شروع کیا۔ ہاف فرائی کے ایک کیس میں وہ الجھ گئے ۔ یہ جرائم پیشہ شخص پیپلز پارٹی کے ایک صوبائی وزیر کے قریبی حلقے سے تعلق رکھتا تھا۔ پولیس افسر کے خلاف کارروائی اور ان کے فوری تبادلہ کا مطالبہ کیا گیا، وزیر اعلی نے وزیر موصوف کے دباؤ پر اس افسر کا تبادلہ کر دیا۔ لیکن اس افسر کو دوبارہ تقرری دینا پڑی ۔ شہر میں ان کے استقبال کے لئے بڑا جلوس نکا لا گیا۔ ثنا اللہ عباسی سمیت پولیس کے کئی افسران کہتے ہیں کہ لوگوں کی ترجیح امن و امان ہے ، قانون ان کی دوسری ترجیح ہے۔  سیاست داں ، وزیرا، اراکین اسمبلی غرض جو جتنا بڑا ہے، قانون ان کی دوسری ترجیح ہے۔ اسی لئے ہم جس صورت حال سے دوچار ہیں وہ قانون کو دوسری ترجیح میں رکھنا ہی وجہ بنا ہے ۔ حکمرانوں کی پہلی ترجیح ان سے وابستہ لوگ ہیں ، ان کے گماشتے ہیں ۔ ان کے وہ قریبی خوشامدی لوگ ہیں جو خواہ کچھ ہی کیوں نہ کر گزریں، قانون اور قانون پر عمل در آمد کرانے والی پولیس بے بس ہوتی ہے۔ پولیس ان کی غیر قانونی ، انسان دشمن، کارروائیوں کی پردہ پوشی کرتی ہے۔ یہ پردہ پوشی ہی جرائم پیشہ افراد کی پرورش کا سبب بنتی ہے۔ سندھ بھر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی سے گریز کیا جاتا رہا۔ اگر کہیں کوئی کاروائی کی بھی گئی تو وہ برائے نام تھی۔ ایسی کارروائی جس کے نتیجے میں جرائم پیشہ افراد عدالتوں سے بھی رہائی یا ضمانتیں حاصل کرنے میں کامیاب رہتے تھے۔ ملک میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے جب نیشنل ایکشن پلان منظور ہوا اور اپیکس کمیٹیاں تشکیل دی گئیں تو اپیکس کمیٹی میں موجود اعلی افسران نے سب کو متنبہ کیا کہ کارروائی کا مطلب کارروائی ہے اور امن وامان کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ اس عزم نے جرائم پیشہ افراد کے لئے دائرہ تنگ کر دیا اور پولیس نے ہاف فرائی اور فل فرائی کا سلسلہ متعارف کرا دیا۔ اصطلاح ضرور نئی ہے لیکن کارروائی نئی نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف اوقات میں ماورائے عدالت کارروائیاں ہوتی رہی ہیں۔ سابق مغربی پاکستان کے دور میں جب ملک امیر محمد خان آف کالا باغ بہت ہی باختیار گورنر ہوا کرتے تھے، لاہور میں بدنام زمانہ ، عام لوگوں کے لئے عذاب بنے ہوئے جگوں کو پولیس پھڑکانے میں کسی تامل کا مظاہرہ نہیں کرتی تھی۔ لاہور میں تو جگا ٹیکس ایسا بھتہ وصول کیا جاتا تھا جس سے انکار کسی کا گریز ہی نہیں تھا۔ جگا ٹیکس لینے والے دن ڈھاڑے لوگوں کو قتل کر دیا کرتے تھے تاکہ دوسرے لوگ سہم جائیں اور انہیں بھتہ دیتے رہیں۔ کراچی بھی اسی قسم کے عذاب سے ابھی تک گزر رہا ہے۔ حیدرآباد میں نصف صدی قبل کمانڈر عارف نام کے ایک ایس پی ہوا کرتے تھے۔ اس زمانے میں بے گار کیمپ چلانے والے سرگرم تھے۔ نوجوانوں کو اغواء کر کے ان کے پاؤں میں زنجیر ڈال ان سے بے گار لی جاتی تھی۔ یہ بے گار سندھ میں زیادہ تھی کیوں کہ یہاں بیراج کی تعمیر ہو رہی تھی جس کے لئے مٹی ڈالنے کا کام بے گار کیمپ میں اغوا کر کے قید کئے گئے لوگوں سے لیا جاتا تھا۔ کمانڈر عارف یہ برداشت نہیں کیا کرتے تھے کہ کہیں کوئی بے گار کیمپ کا وجود ہو۔ وہ اس طرح کے جرائم پیشہ لوگوں کو سڑک پر دوڑا کر جیپ سے کچل دیا کرتے تھے۔ عدالتیں اس زمانے میں بھی موجود تھیں ۔ اس زمانے میں بھی غریب لوگ اور اغوا کئے جانے والوں کے والدین عدالتوں سے رجوع کرنے کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ حیدرآباد میں ہی سلیم اختر صدیقی نام کے ایک پولیس افسر آئے۔ سلیم پولیس ملازمت سے قبل صحافی رہے تھے۔ وہ بھی امن و امان قائم رکھنے کے لئے جرائم پیشہ افراد سے ماورائے عدالت ہی نمٹنے پر یقین رکھتے تھے۔ جیلوں کو وہ بھی آج کے پولیس افسران کی طرح جرائم پیشہ لوگوں کی نرسری یا تربیت گاہ سمجھتے تھے۔ اس تماش گاہ میں امن و امان عارضی طور پر تو قائم ہوتا رہا ہے لیکن اس کے مستقل قیام پر کبھی بھی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی اسباب ختم کرنے کے لئے جتن کئے گئے۔ پولیس کے ذہن کو تبدیل نہیں کیا جاسکا ہے۔ احسان کی بیٹیاں اسپتال میں اس کی لاش پر بین کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ ان پولیس والوں نے ہمارے باپ کو مار ہی دیا۔ حالانکہ ان کے لئے ہم نے کیا کچھ نہیں لٹایا ۔ یہ لوگ (پولیس والے) جب بھی ہمارے گھر آتے تھے کہتے تھے کہ کپڑے اتارو ۔ اس جملے کے بعد بین کرتی ہوئی ان عورتوں نے جو کچھ کہا وہ ضبط تحریر میں نہیں لایا جاسکتا۔ احسان ایک روز میں بدنام جرائم پیشہ نہیں بناتھا۔ احسان کی ڈائری میں ا ن تمام پولیس والوں کے نام درج ہیں جنہیں وہ اپنی کمائی میں حصہ دار بنا تاتھا ۔ اسی لئے تو پولیس احسان کے ہاتھوں لٹنے والوں کی فریاد سنتی تھی نہ داد رسی کرتی تھی۔ احسان کی ڈائری تو اپنی جگہ لیکن اس کی بیٹی نے تو ڈائری میں درج الفاظ سے کہیں زیادہ ہولناک انکشاف کر د ئے ۔ ایسے پولیس والوں کے ہاتھوں ہاف فرائی اور فل فرائی کا وقتی نتیجہ تو نکل جائے گا لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔

مزید : کالم


loading...