’’گدھے گھوڑے ‘‘ایک بھاؤ

’’گدھے گھوڑے ‘‘ایک بھاؤ
 ’’گدھے گھوڑے ‘‘ایک بھاؤ

  


 اردو زبان میں گدھوں گھوڑوں کے حوالے سے متعدد محاورے مشہور ہیں، جیسے کہ ایسے غائب ہونا جیسے گدھے کے سر سے سینگ، گدھا کیا جانے زعفران کا بھاؤ، گھوڑے بیچ کر سونا اور گھوڑا لگے بھاؤ بیچ دینا۔ محاورے قریباً ہر زبان کے دلچسپ اور بھرپور معانی کے حامل ہوتے ہیں، ان میں انگریزی کا محاورہ ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کے حوالے سے بھی ہے، ہمارے بعض سیاستدان اور اخبارات اسے ’’گھوڑوں کی خرید و فروخت‘‘ کہتے ہیں، اس طرح اس کا تاثر انگریزی کے الفاظ سے زیادہ بامعنی ہوجاتا ہے۔ گدھوں گھوڑوں کے حوالے سے مذکورہ بالا اردو محاورے کیسے بنے ہوں گے؟ اس بارے میں کچھ اس طرح خیال آرائی کی جاسکتی ہے کہ گدھے کے سرپر تو سینگ ہوتے ہی نہیں، اس لئے کسی نے کسی شخص کے غائب ہوجانے کے حوالے سے کہا ہوگا کہ وہ تو ایسے غائب ہوا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اسی طرح کسی گدھے نے زعفران کے کھیت میں داخل ہوکر اسے اجاڑ دیا ہوگا تو لوگوں نے اسے یہ کہہ کر معاف کردیا ہوگا کہ گدھا کیا جانے زعفران کا بھاؤ۔ اسی مفہوم پر دو اور محاورے بھی ہیں یعنی بندر کیا جانے ادرک کا سواد اور اندھا کیا جانے بسنت کی بہار۔ اندھے ہی کے حوالے سے ایک اور محاوہ بھی مشہور ہے، یعنی ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا سوجھے۔ اس بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسی بینا کو جب نابینائی نے آلیا تھا، تب ساون اور ہریالی کا موسم ہوگا جو اس کے ذہن میں سماگیا۔ گھوڑا لگے بھاؤ بیچ دینے کے محاورے سے ایک دلچسپ مفروضہ منسوب ہے۔۔۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو چور کہیں سے ایک گھوڑا چرا کر لائے، راستے میں ایک آبادی آئی تو ان میں سے ایک وہاں سے کھانے کو کچھ لینے گیا۔ اسی اثناء میں ایک نوسر باز گھوڑا لئے کھڑے چور کے پاس آیا اور اسے خریدنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھوڑے کو چلا کر اس کی آزمائش کرنا چاہتا ہے، وہ مان گیا اور نوسر باز نے گھوڑے کو ایسی ایڑھ لگائی کہ چور بیچارہ دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس کا ساتھی کھانا لے کر واپس آیا تو پوچھا کہ گھوڑا کہاں گیا؟ اس نے کہا بیچ دیا ہے، ساتھی نے پوچھا کتنے کا؟ چور نے کہا: ’’لگے بھاؤ‘‘ یعنی جتنے کا لیا تھا اتنے کا ہی بیچ دیا۔۔۔گھوڑے بیچ کر سونے کا محاورہ کسی شخص کی لاپروائی کو ظاہر کرتا ہے، خود سونے کے حوالے سے بھی کئی محاورے ہیں، ان میں سے ایک ’’جو سوتا ہے، وہ کھوتا ہے‘‘ بھی ہے، لیکن یہاں ’’کھوتا‘‘ پنجابی والا نہیں سمجھنا چاہیے، ورنہ سونے والا ناراض بھی ہوسکتا ہے۔ سونے کے ضمن میں میر تقی میر کا ایک شعر بھی خوب ہے: سرہانے میر کے آہستہ بولو۔۔۔ ابھی ٹُک روتے روتے سوگیا ہے پاکستان میں ’’گھوڑوں‘‘ کا ذکر خاص طور پر اس موقع پر ضرور آتا ہے جب سینیٹ کے انتخابات ہونے والے ہوتے ہیں۔ یہ پاکستان میں قانون سازی کا سب سے اعلیٰ ادارہ ہے اور اسے اس پارلیمنٹ کا ایوان بالا کہا جاتا ہے جو کہ جمہوری نظام کی امین ہے۔ پارلیمنٹ کو جمہوری نظام کا ستون کہا جاتا ہے، مگر اس ستون کو ہلانے کے لئے بہت سے ’’گھوڑے‘‘ بھی سینیٹ میں پہنچ جاتے ہیں، ظاہر ہے یہ ’’گھوڑے‘‘ قانون سازی کی اہلیت کے حامل ہوتے ہیں، نہ ان کا کوئی اخلاقی کردار ہوتا ہے۔ اس مرتبہ سینیٹ کا مرحلہ آیا تو پھر ہارس ٹریڈنگ کی فضا پیدا ہوگئی جس پر حکومت نے عندیہ ظاہر کیا کہ وہ اب کے گھوڑوں کی خرید و فروخت روکے گی، اس مقصد کے لئے اس نے خصوصی قانون سازی کی کوشش کی اور آئین میں بائیسویں ترمیم لانے کے لئے اقدامات کئے، لیکن حکومت میں شامل جمعیت علمائے اسلام (ف) اور فرینڈلی اپوزیشن پیپلزپارٹی نے ترمیم لانے کے وقت اور طریقہ کار سے اتفاق نہ کیا۔ اسی دوران میں آصف علی زرداری اور مولانا فصل الرحمن کے متحد ہونے کے بعد حکومت نے ہتھیار ڈال دئیے، جبکہ وزیراعظم نواز شریف غیر ملکی دورے پر چلے گئے اور گھوڑوں کی خرید و فروخت جاری رہی۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس کا تذکرہ مدینہ منورہ میں پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے بھی کیا اور کہا کہ بعض جماعتوں نے ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لئے آئینی ترمیم لانے کی حمایت نہیں کی۔دوسری طرف آخر وہ مرحلہ بھی آگیا جب سینیٹ کے لئے چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ ہوئی، مگر ’’گھوڑے‘‘ ایوان بالا میں نہ پہنچ سکے کیونکہ صدارتی آرڈیننس نے کچھ رکاوٹ کھڑی کردی تھی۔ یہ رکاوٹ تو دور ہوہی جانی ہے، کیونکہ سینیٹ کے انتخابات تو مکمل کئے ہی جانے ہیں۔ اگر گھوڑے بھی ایوان بالا میں پہنچ گئے تو پھر حقیقی اور مصنوعی ارکان میں کیا فرق رہ جائے گا؟ اس سلسلے میں یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ ہارس ٹریڈنگ میں کروڑوں کا بزنس ہوا ہے، کس نے کھویا؟ کس نے پایا؟ یہ ایک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ عوام اس پورے عرصے میں محو حیرت رہے کہ ان کے وطن میں یہ کیا ہورہا ہے؟ جن لوگوں کو قانون سازی، بلکہ بعض صورتوں میں آئینی ترامیم بھی کرنا ہوتی ہیں، وہ کسی اہلیت کی بجائے محض دولت کے بل بوتے پر سینیٹ میں پہنچ سکتے ہیں وہ ایوان بالا میں ان ارکان کے ساتھ ہی بیٹھیں گے اور انہی جتنے اہم ووٹ کے حامل ہوں گے جو اہلیت کی بنیاد پر سینیٹ کے لئے منتخب ہوئے ہیں، کیا دونوں برابر کی اہمیت رکھتے ہیں؟ یقیناً ایسا ہی ہے تو پھر قوم بیچاری کیا کرے؟ کچھ تو کرے۔

مزید : کالم


loading...