اسرائیلی وزیراعظم کی کانگریس میں ایک تقریر(2)

اسرائیلی وزیراعظم کی کانگریس میں ایک تقریر(2)
 اسرائیلی وزیراعظم کی کانگریس میں ایک تقریر(2)

  


 اسرائیلی وزیراعظم نے کانگریس کے دونوں ایوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’آج یہودی قوم کو فارس(ایران) کے اسی طرح کے ایک ا ور مقتدر فرمانروا کی اسی قسم کی ایک اور سازش کا سامنا ہے تاکہ وہ ہمیں تباہ و برباد کرکے رکھ دے۔ ایران کا سپریم لیڈر آئت اللہ خامنائی وہی قدیم ترین نفرت و حقارت آج ہم پر وارد کرنا چاہتا ہے۔۔۔ اسرائیل کی مخالف وہی حقارت و نفرت کہ آج جس کو جدید ترین ٹیکنالوجی کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ وہ ٹویٹ پر کہتا ہے کہ اسرائیل کو تباہ کر دو۔ آپ لوگوں کو معلوم ہی ہے کہ ایران میں انٹرنیٹ آزاد نہیں اور یہ سہولت ہر کسی کو حاصل نہیں، لیکن وہ انگریزی میں ٹویٹ کرتا ہے کہ اسرائیل کو تباہ کرنا لازمی ہے۔ جو لوگ یہ دلیل لاتے ہیں کہ ایران سے اسرائیلی ریاست کو خطرہ ہے، اسرائیلی قوم کو نہیں تو وہ ذرا حسن نصراللہ کو سن لیں کہ جو حزب اللہ کا لیڈر ہے اور ایران کا سب سے بڑا پراکسی دہشت گرد ہے۔ (یعنی نام حسن نصراللہ کا ہے اور کام ایران کا ہے۔ مترجم) وہ کہتا ہے کہ ’’اگر تمام یہودی اسرائیل میں اکٹھے ہو جائیں تو ہمیں آسانی ہو جائے گی کیونکہ ہمیں دنیابھر میں یہودیوں کا تعاقب نہیں کرنا پڑے گا‘‘۔ یہ ایرانی رجیم (حکومت) ایسی یہودی پرابلم نہیں جیسی کہ نازی رجیم تھی۔ 60لاکھ یہودی جو نازیوں نے ذبح کردیئے تھے وہ ان چھ کروڑ یہودیوں کا عشر عشیر بھی نہیں تھے جو دوسری جنگ عظیم میں موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے تھے۔ تو دوستو! حقیقت یہ ہے کہ ایرانی رجیم، صرف اسرائیل کے لئے ہی خطرہ نہیں، بلکہ ساری دنیا کے امن کے لئے شدید خطرہ ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے کہ جب ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ جائیں تو کیا ہوگا اور وہ خطرہ کتنا بڑا خطرہ ہوگا، ہمیں ایرانی رجیم کی نیچر (Nature) کو سمجھنا ہوگا۔ ایران کے لوگ بڑے ذہین اور طبّاع (Talented) لوگ ہیں۔ وہ دنیا کی ایک عظیم ترین تہذیب کے وارث بھی ہیں۔ لیکن 1979ء میں وہ کٹر مذہبی اور متشدد لوگوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہو گئے تھے۔۔۔ ایسے کٹر اور مذہبی اعتبار سے ایسے جنونی لوگ کہ جنہوں نے ایرانی قوم پر سیاہ اور جابر آمریت مسلط کر دی۔۔۔ اسی سال (1979ء میں) ان مذہبی جنونیوں نے ایک نیا آئین وضع کیا ۔ اس آئین نے سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کو نہ صرف ایران کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ سونپا، بلکہ جہاد کے نظریاتی مشن کی تکمیل بھی سونپ دی۔ اس رجیم کے بانی آئت اللہ خمینی نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی کہ : ’’اس انقلاب کو ساری دنیا میں ایکسپورٹ کر دو‘‘ دوستو!مَیں یہاں واشنگٹن ڈی سی میں کھڑا ہوں اور میرے سامنے ایک فرق بہت واضح اور نمایاں ہے۔ امریکہ کی اساسی دستاویز زندگی، آزادی اور حصولِ مسرت کی وعید ہے جبکہ ایران کی اساسی دستاویز مرگ، ظلم و بربریت اور پیرویء جہاد کی وعید ہے۔ اور مشرق وسطیٰ میں جیسے جیسے ایک ایک کرکے ریاستیں دم توڑ رہی ہیں ایران اس خلا کو پُر کرنے کے لئے بھاگم بھاگ چلا آ رہا ہے۔ غزہ میں ایران کے غنڈے، لبنان میں اس کے کاسہ لیس اور گولان کی پہاڑیوں پر اس کے انقلابی گارڈز، اسرائیل کے وجود کے لئے گویا سہ شاخہ دہشت گرد ہیں۔ ایران کی پشت پناہی کے سبب اسد،شامیوں کو ذبح کئے جا رہا ہے، ایران کی پشت پناہی کے سبب عراق کے طول و عرض میں شیعہ عسکریت پسند دندناتے پھرتے ہیں اور ایران کی پشت پناہی کے سبب، یمن کے حوصی اس ملک کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں اور بحیرۂ احمر کے دہانے کی سٹرٹیجک آبنائے کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔ یہ آبنائے،آبنائے ہرمز کے چوک پوائنٹ (Choke-Point) کے بعد دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لئے دوسرا چوک پوائنٹ بن جائے گی۔ ابھی پچھلے ہفتے کی بات ہے کہ ہرمز کے نزدیک ایک ملٹری ایکسرسائز کے دوران، ایران نے ایک نقلی (Mock) امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو بتاہ کرتے دکھایا تھا۔ اوریہ بھی گزشتہ ہفتے ہی کی بات ہے کہ جب یہ ایرانی، امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات بھی کررہے تھے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ گزشتہ 36برسوں میں (1979ء تا 2015ء) امریکہ پر ایران کے یہ حملے نقلی (Mock)حملے نہیں تھے، بلکہ اصلی حملے تھے! اسی ایران نے درجنوں امریکیوں کو تہران میں یرغمال بنایا، سینکڑوں امریکی سولجروں اور میرین کو بیروت میں ہلاک کیا اور ہزاروں امریکی مرد و زن سولجروں کو عراق اور افغانستان میں موت کے گھاٹ اتارا یا اپاہج کر دیا۔ذرا یاد کیجئے! مشرق وسطیٰ سے باہر نکل کر دیکھیں تو ایران نے اپنے گلوبل دہشت گردانہ نیٹ ورک کے ذریعے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر بار بار حملے کئے۔ اس نے بیونس آئرز (جنوبی افریقہ) میں یہودی کمیونٹی سنٹر اور اسرائیلی سفارت خانے کو تباہ کیا، اس نے افریقہ میں امریکی سفارت خانوں کو برباد کرنے میں القاعدہ کی مدد کی، حتیٰ کہ اس نے سعودی سفیر کو اسی واشنگٹن ڈی سی میں کہ جہاں میں کھڑا ہوں، قتل کرنے کی کوشش کی۔ مشرق وسطیٰ میں آج کل ایران چار دارالحکومتوں یعنی بغداد، دمشق، بیروت اور صنعا کو مغلوب رکھتا ہے۔ اگر آج ایران کی اس جارحیت کو لگام نہ دی گئی تو یقیناًمزید دارالحکومت بھی اس کی جھولی میں جا گریں گے۔آج جب بہت سے لوگ یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ایران قوموں کی عتدال پسند برادری میں شریک ہو جائے گا، وہ اُلٹا قوموں کو ہڑپ کرنے کی فکر میں ہے!لہٰذا ہم سب کا فرض ہے کہ اکٹھے ہو کر ایران کی ان فتوحات ،دہشت گردیوں اور دوسرے ممالک پر قبضہ کرنے کے سیلاب کو روکیں۔ ابھی دو برس پہلے کی بات ہے ہمیں کہا گیا تھا کہ ایران کے صدر روحانی اور وزیر خارجہ ظریف کو دو برس کی مہلت دی جائے تاکہ وہ ایران میں اعتدال پسندی کو فروغ دے سکیں یا کوئی تبدیلی لا سکیں۔ لیکن آج روحانی صاحب کی حکومت ہم جنس پرستوں کو تختہ ء دار پر کھینچ رہی ہے، عیسائیوں پر مظالم ڈھا رہی ہے، صحافیوں کو جیلوں میں ٹھونس رہی ہے اور قیدیوں کو پہلے سے بھی زیادہ تعداد میں موت کے گھاٹ اتار رہی ہے۔ گزشتہ برس ایران کے وزیر خارجہ اسی ظریف نے کہ جو مغربی سفارتکاروں کا بہت چہیتا ہے،عماد مغنی کی قبر پر پھول چڑھائے تھے۔ آپ کو شائد یاد نہ ہو کہ یہ عماد مغنی وہی ہے کہ جو اسامہ بن لادن کے بعد سب سے زیادہ امریکیوں کے خون بہانے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس ظریف سے یہ سوال بھی کسی دن پوچھے کہ مغنیاکی قبر پر پھول نچھاور کرنے کا مطلب کیا تھا؟ (امداد مغنی یا امداد مغنیا، حزب اللہ کے ایک شیعہ لیڈر تھے جو 2008ء میں دمشق میں مار دیئے گئے تھے۔ ان کے بارے میں انٹرنیشنل میڈیا میں زیادہ معلومات نہیں دی جاتیں، لیکن وہ حزب اللہ کے ملٹری اینڈ انٹیلی جنس چیف آف سٹاف تھے۔ ان کو حسن نصراللہ کا جانشین بھی سمجھا جاتا تھا۔ اسرائیلی موساد اور امریکی سی آئی اے ان کو بہت سے مغرب مخالف پلاٹوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھتی تھی۔ ان کو الحاج رضوان کے عرفی نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ وہ ایک عرصہ تک FBI کی ہٹ لسٹ پر رہے۔ ایک زمانے میں ان کو یاسر عرفات کا ذاتی محافظ بھی سمجھا جاتا تھا۔ ان کو گرفتار کرنے کی داستانیں بہت دراز ہیں لیکن وہ بار بار بچتے رہے۔ آخر12فروری 2008ء کو وہ ایک کار بم دھماکے میں مارے گئے اور ان کو تہران میں بہشتِ زہرا کے ایرانی قبرستان میں دفن کیا گیا۔۔۔ نیتن یاہو کی تقریر میں ان کی اسی لحد پر گل پاشی کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔مترجم) ایرانی رجیم ہمیشہ کی طرح آج بھی ایک انتہا پسند ریاست ہے۔ اس کا ’’مرگ بر امریکہ‘‘ کا نعرہ بھی وہی ہے اور آئیڈیالوجی بھی وہی ہے کہ ’’امریکہ شیطانِ اعظم ہے‘‘۔ دوستو!یہ بات حیران کن نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ ایران کی انقلابی ریاست کی آئیڈیالوجی عسکریت پسند اسلام پر اساس رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایران ہمیشہ، امریکہ کا ’’دشمن‘‘رہے گا۔ دوستو! بے وقوف نہ بنو۔۔۔ اسلامی خلافت (ISIS) اور ایران کے درمیان بظاہر جو لڑائی ہو رہی ہے وہ ایران کو امریکہ کا دوست نہیں بنا سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران اور اسلامی خلافت (ISIS) کے درمیان یہ لڑائی اسلامی عسکریت پسندی کا تاج چھیننے کے لئے ہے۔ ان میں سے ایک فریق اپنے آپ کو ’’اسلامی ری پبلک‘‘ کہتا ہے تو دوسرا ’’اسلامک سٹیٹ‘‘ کہلوانے پر مصر ہے۔ یہ دونوں مل کر پہلے تو اس خطے (ریجن) میں اور بعد میں پوری دنیا میں ایک عسکریت پسند اسلامی ایمپائر قائم کرنا چاہ رہے ہیں۔ کانٹوں کے اس جان لیوا کھیل میں اسرائیل اور امریکہ کے لئے کوئی جگہ نہیں، ان یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے لئے امن و سلامتی کی کوئی توقع نہیں کہ جو قرون وسطیٰ کے اسلامی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں، ان کی عورتوں کے کوئی حقوق نہیں اور کسی فرد کے لئے کوئی آزادی نہیں۔ چنانچہ جہاں تک ایران اور اسلامک سٹیٹ (ISIS) کا تعلق ہے تو آپ کے دشمن کا دشمن، آپ کا دشمن ہے! ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ اسلامک سٹیٹ (ISIS) قصائی کے چھُروں، دوسروں سے چھینے گئے ہتھیاروں اور یو ٹیوب سے مسلح ہے جبکہ ایران بہت جلد بین البراعظمی میزائلوں (ICBMs) اور جوہری بموں سے مسلح ہو جائے گا۔ ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے اور میں ایک بار پھر آپ کو یاد دلا رہا ہوں کہ دنیا کو سب سے بڑا خطرہ عسکریت پسند اسلام اور جوہری ہتھیاروں کے ’’ازدواجی ملاپ‘‘ سے ہے۔ اگر ہم اسلامک سٹیٹ (ISIS) کو شکست دے دیں اور ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی کھلی چھٹی دے دیں تو گویا ہم لڑائی جیت کر جنگ ہار دیں گے۔ لیکن دوستو!۔۔۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے!! (جاری ہے)

مزید : کالم


loading...