چیئرمین سینٹ کا انتخاب: لگے رہو منا بھائی

چیئرمین سینٹ کا انتخاب: لگے رہو منا بھائی
 چیئرمین سینٹ کا انتخاب: لگے رہو منا بھائی

  


آج کچھ دوستوں نے یہ سوال پوچھا کہ پاکستان میں وزیر اعظم اور صدر کا انتخاب تو متفقہ طور پر ہو جاتا ہے، سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کے انتخاب پر اتنی ہاہا کار کیوں مچتی ہے؟ سوال بڑا مناسب ہے اور آج کل جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان دو عہدوں کے لئے سیاسی جماعتیں ایسی فضا پیدا کر دیتی ہیں کہ انتشار کی کیفیت پوری فضا پر محیط نظر آتی ہے، سینٹ کے انتخابات جس طرح ہوئے اُس کا سب کو اندازہ ہے۔ ایسی ہڑبونگ مچی ہوئی تھی کہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے، صرف کروڑوں روپے کے لین دین کی آوازیں آرہی تھیں۔ خدا خدا کر کے یہ مرحلہ مکمل ہوا، البتہ فاٹا کے ممبران کا انتخاب نہ ہو سکا، جو در حقیقت پورے انتخابی عمل پر حاوی ہوتے ہیں۔ اب بھی اگر وہ میدان میں ہوتے تو حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لئے ہی سونے کا انڈہ دینے والی مرغی ثابت ہوتے، کیونکہ اُن کے ووٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کر سکتے تھے۔ اب بھی فضا کچھ ایسی ہی ہے کہ کوئی ایک چھوٹا گروپ بھی نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اس لئے جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ دو بڑی سیاسی جماعتیں، جو یہ کہتے نہیں تھکتیں کہ وہ ملک میں ہارس ٹریڈنگ اور بلیک میلنگ کے خلاف ہیں، خود ایسی فضا پیدا کرتی ہیں کہ چھوٹے گروپوں کی اہمیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔۔۔ مثلاً آج اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے ناموں پر اتفاق کرلیں تو سارا جھگڑا ہی ختم ہو جائے۔ بڑے بڑے مطالبے بھی سامنے نہ آئیں اور ہارس ٹریڈنگ کے امکانات بھی ختم ہو جائیں، مگر ایسا ہوگا نہیں، کیونکہ یہاں سیاست مفاہمت نہیں، مفادات کا نام ہے۔  پیپلزپارٹی کی اس وقت سینٹ میں سب سے زیادہ نشستیں ہیں، لیکن مسلم لیگ (ن) بھی تقریباً اُس کے برابر کھڑی ہے۔ دونوں میں رسہ کشی جاری ہے۔ آصف علی زرداری خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے ہیں اور ہر صورت میں سینٹ کی چیئرمین شپ پیپلزپارٹی کے ہاں رکھنا چاہتے ہیں یقیناً پیپلزپارٹی کے پاس اعتزاز احسن، رضا ربانی اور فاروق ایچ نائیک جیسے بڑے نام والے سینٹرز موجود ہیں، لیکن اُن پر اتفاق رائے اس لئے نہیں ہو سکتا کہ مسلم لیگ (ن) پورے نظام پر اپنی گرفت چاہتی ہے۔ اگر چیئرمین سینٹ اس کا بن گیا تو پارلیمینٹ کے تمام اداروں پر ان کا راج ہوگا۔ یہی وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کی خواہش ہے اور اس کے لئے اب سارا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اگر کسی مسلم لیگی کو آگے نہ لائی تو چھوٹے صوبے سے اس شخصیت کو سامنے لا سکتی ہے، جس کی مخالفت کرتے ہوئے خود پیپلزپارٹی کو بھی کئی بار سوچنا پڑے، مثلاً اس وقت حاصل بزنجو کا نام لیا جا رہا ہے، وہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر پارلیمینٹرین ہیں، اور اُن کا احترام بھی موجود ہے، تاہم یہ اتنا آسان بھی نہیں کہ حاصل بزنجو کو چیئرمین سینٹ نامزد کیا جائے تو سینٹ کا ماحول ہی بدل جائے اور اُنہیں بلا مقابلہ منتخب کر لیا جائے۔ پیپلزپارٹی کسی صورت میں یہ نہیں چاہے گی کہ مسلم لیگ (ن) یا اس کا حمایت یافتہ کوئی شخص چیئرمین سینٹ بنے۔ آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اُن کا ہے تو سینٹ میں چیئرمین بھی اُن کا ہونا چاہئے تاکہ حکومت پر ایک چیک رکھا جا سکے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ آنے والے دنوں میں سندھ کے اندر جو کچھ ہونے جا رہا ہے، وہ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگا سکتا ہے، کیونکہ امن و امان اور کرپشن کے حوالے سے سندھ کی جو دگرگوں صورت حال ہے، وہ کسی بڑے آپریشن کا تقاضا کر رہی ہے اور ملک کے بڑوں میں اس مسئلے پر اتفاق رائے بھی ہو گیا ہے۔ اپیکس کمیٹیوں کو با اختیار بنانے کا مقصد بھی یہی ہے، ایسے میں آصف علی زرداری چاہتے ہیں کہ مستقبل میں اگر صوبے کے حوالے سے مرکز میں بات اُٹھانے کی نوبت آئے تو اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور کم از کم سینٹ کی حد تک ان کی آواز کو دبایا نہ جائے۔یوں دیکھا جائے تو ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لئے چیئرمین سینٹ کا منصب بڑی اہمیت رکھتا ہے، اس لئے جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ اس سے وہ چھوٹے گروپ فائدہ اٹھا رہے ہیں، جن کی بڑی کلیدی اہمیت ہے، جن کے ووٹ جیتنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ عمران خان نے تو سینٹ الیکشن کے بعد کہہ دیا تھا کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب بھی پیسے کے زور پر لڑا جائے گا۔ یہ پیسہ کون دے گا؟ میرا خیال ہے پیسے سے زیادہ دیگر مفادات کے لئے تگ و دو ہو رہی ہوگی۔ مختلف وزارتیں،مختلف عہدے اور مختلف پلاٹ پرمٹ میں اضافہ کرنے والے اقدامات کے لئے بات چیت ہو رہی ہو گی۔ ظاہر ہے کہ اس معاملے میں حکومت کا پلڑا بھاری ہے، کیونکہ اس کے پاس دینے کو سب کچھ ہے، اس لئے امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چیئرمین سینٹ وہی بنے گا، جسے حکومتی حمایت حاصل ہوگی، تاہم دو تین عوامل ایسے ہیں کہ جنہیں آصف علی زرداری بڑی مہارت سے استعمال کر سکتے ہیں۔ چھوٹے گروپوں کو یہ احساس دلا کر کہ اگر سینٹ میں بھی مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہوگئی تو جمہوری آمریت قائم ہو جائے گی۔ نیز وہ یہ فضا بھی پیدا کر سکتے ہیں کہ اگر چھوٹے صوبے سینٹ میں اپنی مختصر نمائندگی چاہتے ہیں تو انہیں حکومت کی بجائے اپوزیشن کے امیدوار کو چیئرمین بنانا چاہیے۔  ویسے بھی اگر فطری حلیف تلاش کئے جائیں تو پیپلزپارٹی کے زیادہ نکلتے ہیں۔ ایم کیو ایم سندھ میں پیپلزپارٹی کی اتحادی ہے۔ اے این پی بھی اس کے ساتھ ہے، جماعت اسلامی کے سراج الحق بھی غالباً یہی چاہیں گے کہ چیئرمین سینٹ حکومت کا نہ ہو۔ بلوچستان کے قوم پرست سینیٹر بھی پیپلزپارٹی کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اگر زرداری صاحب کسی طرح اپنی جادو اثر شخصیت کے طفیل عمران خان کو سینٹ میں حمایت پر قائل کرلیں تو بات ہی ختم ہو جاتی ہے۔ بظاہر یہ کام ناممکن نظرآتا ہے، مگر یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عمران خان مسلم لیگ (ن) کا کسی صورت ساتھ نہیں دیں گے، کیونکہ اس کے خلاف ان کی اصولی جنگ جاری ہے، البتہ وہ پیپلزپارٹی کی حمایت پر آمادہ ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ کوئی ایسا امیدوار کھڑا کیا جائے جو ان کے معیار پر پورا اترتا ہو۔چیئرمین سینٹ کے لئے سیاسی جوڑ توڑ پر میرے جیسے عام آدمی کی حیرانی اس لئے بجا ہے کہ یہی سیاسی جماعتیں اچانک 21ویں آئینی ترمیم کے لئے اکٹھی ہو جاتی ہیں اور اسے متفقہ طور پر پاس کر دیتی ہیں۔ لیکن ایک قومی ادارے کی سربراہی کے لئے کسی نام پر متفق نہیں ہوتیں اور مچھلی بازار کی طرح کا ماحول پیدا کر دیتی ہیں۔ اگر تو اس سے کوئی عوامی مفاد پورا ہوتا ہو یا قومی فائدے کی بات ہو یا پھر جمہوریت میں بہتری لانے کی کاوش شامل ہو تو اسے کرنے میں کوئی حرج نہیں، جب ہونا ہی سب کچھ اپنے مقاصد کے لئے ہے تو پھر اے آئے یا بی کیا فرق پڑتا ہے، جہاں اشرافیہ نے اکٹھے ہونا ہو، وہاں چیئرمین یا سپیکر کی مرضی کہاں چلتی ہے۔پچھلے دو برسوں سے سینٹ میں پیپلزپارٹی کا چیئرمین سینٹ ہے، ایوان میں اکثریت بھی اس کی تھی، اس کے باوجود مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا کون سا کام رکا ہے، کون سا بل چیئرمین سینٹ نے موخر کیاہے یا کسی قرارداد کو روکا ہے، یہ صرف عوام کو یہ تاثر دینے کے لئے کیا جاتا ہے کہ فلاں پارٹی کی فلاں ادارے میں برتری ہے، تاکہ انہیں ذہنی طورپر زیر بار رکھا جا سکے۔ وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ پانی میں مدھانی کے مصداق ہے اور سب کا ایجنڈا ایک ہی ہے ، یعنی عوام کو طبقہ ء اشرافیہ کا غلام کیسے رکھنا ہے۔ مثلاً اب یہی دیکھئے کہ سینٹ کے انتخابات میں جن لوگوں کو سینیٹرز بنایا گیا ہے، ان میں کتنے آزادانہ سوچنے والے ہیں، کتنے دانشور اور مفکر ہیں۔ ان میں سے بیشتر تو انہی ارکان اسمبلی کی طرح ہیں جو اپنی مرضی سے زبان تک نہیں کھولتے، جو وہی کچھ کہتے ہیں، جو ان کا قائد ایوان کہتا ہے۔ اب ایسے میں سب کام چھوڑ کر ایک چیئرمین سینٹ کے لئے لنگر لنگوٹ کس لینا، ایسا ہی ہے جیسے ہم کوئی نجات دہندہ ڈھونڈ رہے ہوں۔ اب اس ساری گیم میں کیا کچھ اُلٹے پلٹے گا، کہاں کہاں سودے ہوں گے، کہاں کہاں ملک کا مفاد داؤ پر لگایا جائے گا، کہاں کہاں کرپشن سے پردہ پوشی کی جائے گی، کس کس نااہل کو اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی، کیسے کیسے گل کھلائے جائیں گے؟ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔ سب اپنا اپنا الو سیدھا کر کے بیٹھ جائیں گے۔ قوم کے ہاتھ پہلے کچھ آیا ہے اور نہ اب آئے گا۔ بس مکھی پہ مکھی مارنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سینٹ میں نیئر بخاری کی جگہ کوئی اور آ بیٹھے گا اور اسی طرح بھاری مراعات لے کر طبقہ اشرافیہ کے مفادات کو پورا کرنے کی ذمہ داری خضوع و خشوع سے ادا کرتا رہے گا۔ رہے عوام تو اُن کے لئے بس اُتنا ہی کافی ہے کہ اُنہیں گا ہے بہ گاہے ایسے تماشے دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔

مزید : کالم


loading...