کرکٹ ۔۔۔تنقید تعمیری اور بلاتعصب ہونی چاہئے

کرکٹ ۔۔۔تنقید تعمیری اور بلاتعصب ہونی چاہئے

شعبہ ابلاغ کے حضرات پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ نشر اور تحریر کئے گئے الفاظ حالات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتے ہیں، اس لئے نشریات اور پرنٹنگ کے عمل کو زیادہ سے زیادہ قومی، شفاف اور ذمہ دار بنانے سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا لیکن دکھ کا مقام ہے کہ آج کے دور میں احتیاط نہیں کی جاتی، مختلف امور کے حوالے سے ایسے ایسے حضرات تبصرے کرتے ہیں جن کو اس شعبے کا کوئی علم نہیں ہوتا۔کرکٹ ایک کھیل ہے۔ گو یہ ہمارا قومی کھیل نہیں لیکن دنیا میں تشہیر کی وجہ سے بہت اہم ہو گیا ہے۔ اس مرتبہ ورلڈکپ کے حوالے سے تشہیر کے جو انتظامات ہوئے وہ پہلے سے کہیں زیادہ تھے، الیکٹرونک میڈیا میں بھی پرنٹ میڈیا کی طرح بے تحاشہ توسیع کی وجہ سے ماہرین کی قلت ہو گئی ایسے ہی اخبارات میں بھی کھیل کے رموز سے واقف حضرات کی کمی ہے۔ہر دو میڈیم کے اداروں نے اس کمی کا حل ایسے حضرات کو بھی مدعو کرکے نکالا جن کو کرکٹ کا اتنا تجربہ نہیں جتنا اس کھیل کے لئے ضروری ہے، چنانچہ نشریاتی اداروں اور پرنٹ میڈیا میں ایسے ایسے شگوفے چھوڑے گئے کہ ماہرین سر پیٹ کر رہ گئے ہوں گے۔ ان تجزیوں اور تبصروں میں وہ الزام تھے جو عام شائق کرکٹ لگاتا ہے، اگرچہ ماہرین اسرار و رموز کے حوالے سے بات کرتے رہے۔ جہاں تک کرکٹ بورڈ اور ٹیم انتظامیہ کا تعلق ہے تو یہ ہدف تنقید رہے۔ ماہرین نے ایک ایک اقدام اور ایک ایک کھلاڑی اور کھیل کی صورت حال کے بارے میں اپنی اپنی رائے دی، سازش اورتعصب کا بھی ذکر ہوا، اس میں سرفراز کو نہ کھلانے کی بھی بات ہوتی رہی اور ماہرین نے حفیظ کی عدم موجودگی اور ناصر جمشید کی ناقص کارکردگی کے باعث یہ رائے دی کہ سرفراز کو کھلانا چاہیے، خصوصاً اسے ایک مستند وکٹ کیپر کے طور پر تو شامل کر لینا چاہیے۔ ٹیم مینجمنٹ کیوں نہ کرتی رہی۔ اس کے لئے حقائق جاننا ضروری ہے لیکن اس کے لئے یہ بھی لازم نہیں کہ انداز گالی والا ہو، یہ درست کہ سرفراز کو کھلایا گیا اس نے اچھا کھیل پیش کیا اور مین آف دی میچ بنے۔ اس کے باوجود سکور اتنا کم تھا کہ جنوبی افریقہ کے لئے یہ ہدف پورا کرنا مشکل نہیں تھا، اسے ہمارے باؤلروں نے مل کر ناکام بنایا اور اس میں سب کھلاڑیوں کا حصہ ہے کہ صرف وکٹ کے پیچھے ہی کیچ نہیں پکڑے گئے فیلڈ میں بھی ہوئے اور رنز بھی روکے گئے، تعریفوں کے پل باندھنے اور ٹیم انتظامیہ کو محض اس ایک نکتے پر ہدف بنا لینا مناسب نہیں، تنقید اوور آل ہونا چاہیے۔ ہم نے جب بھی کرکٹ کے بارے میں لکھا کسی بغض، تعصب اور عداوت کے بغیر تحریر کیا اور رائے دی اس میں ٹیم مینجمنٹ اور بورڈ کی کمزوریوں سازش اور کھیل کے امور بھی شامل ہوئے لیکن یہ کیا کہ سرفراز کی اچھی پرفارمنس کی تعریف کو بھی علاقائی رنگ دے دیا گیا اور ایسا ماحول بنایا گیا جیسے ایک خاص حصے سے تعصب برتا جا رہا ہے حالانکہ یہاں ایسا کچھ کبھی نہیں ہوا۔بہتر عمل یہ ہے کہ کھلاڑی اور کھیل کے حوالے سے تعریف اور تنقید کی جائے اور اگر کسی رپورٹر کو کسی سازش کا علم ہو تو وہ خبر ضرور بریک کرے لیکن یہ تو ہوتا نہیں۔ شاید ثبوتوں کی قلت ہو، ہماری استدعا ہے کہ اس کھیل کو علاقائی تعصب سے بچایا جائے۔ بات کھیل اور کھلاڑی کی صلاحیت اور ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ بورڈ کی غلطیوں کے حوالے سے کی جائے۔

مزید : اداریہ


loading...