چےئرمین و ڈپٹی چےئر مین سینیٹ کا انتخاب

چےئرمین و ڈپٹی چےئر مین سینیٹ کا انتخاب

سینیٹ کے انتخابات توکسی نہ کسی طورمنعقد ہو گئے، نئے منتخب ہونے والے سینیٹرز بھی جلد ہی حلف اٹھا لیں گے لیکن ابھی ایک اہم فیصلہ ہونا باقی ہے جو سیاسی جماعتوں کی سینیٹ میں حیثیت کا تعین کرے گا یعنی جس کے ہاتھ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا عہدہ آئے گا، سینیٹ میں اسی کی برتری مانی جائے گی،اسی لئے سیاسی جماعتیں چےئرمین اور ڈپٹی چےئر مین کے انتخاب کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن)دو بڑی جماعتوں کی حیثیت سے ابھری تو ہیں لیکن دونوں میں سے کسی کے پاس بھی واضح اکثریت نہیں ہے،اپنا حمایت یافتہ چےئر مین اور ڈپٹی چےئر مین لانے کے لئے دونوں کو دوسری جماعتوں کے ساتھ جوڑ توڑ کی ضرورت ہے جس کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ظاہر ہے جس کے اتحادی زیادہ ہوں گے، فیصلہ اسی کے حق میں ہو گا۔پیپلز پارٹی کی طرف سے تو چیئرمین سینیٹ کے متوقع امیدوار سینیٹر رضا ربانی ہیں جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کے مطابق حکومت کے پاس آپشن کھلے ہیں ،سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کا اعلان کیا جائے گا اور اس سلسلے میں آئندہ 48گھنٹوں میں حکومت فیصلہ کر لے گی۔ بعض ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ حکومت حاصل بزنجو کو چیئرمین سینٹ کا امیدوار بنانے کے لئے دوسری جماعتوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ حکمران جماعت تمام جماعتوں کی حمایت سے متفقہ چیئرمین لانے پربھی غور کر رہی ہے۔ پیپلزپارٹی نے رضا ربانی کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے دوسری جماعتوں سے مشاورت کے لئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں خورشید شاہ ، راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ شامل ہیں اور انہوں نے رابطے شروع بھی کر دئیے ہیں۔آصف زرداری نے سراج الحق اور مولانا فضل الرحمان سے ساتھ دینے کی درخواست کی ہے، لیکن مولانا فضل الرحمان نے پیر کو آصف زرداری کی جانب سے چیئر مین سینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے بلائی گئی میٹنگ میں جانے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے اور آزاد اپوزیشن گروپ بنانے پر غور شروع کردیا ہے۔تحریک انصاف نے فاٹا انتخابات کے التوا کو بنیاد بناتے ہوئے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کو روکنے کے لیے اسلا م آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کر دی ہے جسے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیاہے۔اس میں موقف اپنایا گیاہے کہ چونکہ فاٹا کے الیکشن نہیں ہوئے اوراس کی نشستیں خالی ہیں اس لیے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا انتخاب روکا جائے۔اس سے قبل پارٹی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ نہ تو اپنے امیدوار کھڑے کرے گی اور نہ ہی کسی دوسرے کے حق میں ووٹ دے گی کیونکہ وہ اپنے چھ اراکین کو کسی کے بھی مفاد کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہتی ۔چیئرمین کے انتخاب کوعمران خان نے جوڈیشل کمیشن کے قیام سے بھی مشروط کیا ہے۔متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا ہے کہ انہیں اس حوالے سے کوئی جلدی نہیں ہے،وہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور مسلم لیگ (ن) دونوں سے رابطے میں ہیں اورجو بہتر طریقے سے معاملہ کرے گا ،ان کی حمایت کا حقدار ٹھہرے گا۔ متحدہ کا یہ ناز و انداز بے وجہ نہیں ہے کیونکہ اس وقت وہ سینیٹ میں تیسری بڑی جماعت ہے اور مرکز نگاہ بھی ہے۔ چےئر مین و ڈپٹی چےئر مین کے انتخابات 12 مارچ کو ہوناہیں اوراس وقت صورتحال یہ ہے کہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے پاس 27 نشستیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس 26سینیٹرہیں۔ایم کیو ایم کے پاس آٹھ ، اے این پی کے پاس سات، تحریک انصاف کے پاس چھ ، جمعیت علماء اسلام کے پاس پانچ اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے پاس چار سینیٹر ہیں۔فاٹا میں صدارتی آرڈیننس کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہوئے، اس لئے چارنشستیں خالی ہیں۔ بہتر تو یہی ہوگا کہ چےئر مین اور ڈپٹی چےئرمین کے انتخاب سے پہلے فاٹا میں پولنگ کر ا لی جائے تاکہ ان کی شمولیت بھی یقینی ہو سکے اور فاٹا والوں کی بھی یہی خواہش ہے، اس طرح ان کی ناراضی بھی کم ہو سکتی ہے،لیکن ضروری نہیں کہ وہ حکومتی جماعت کے ساتھ ہاتھ ملا لیں۔  اس وقت اگر یہ کہا جائے کہ حالات حکومتی جماعت سے زیادہ پیپلز پارٹی کے حق میں ہیں توکچھ ایسا غلط بھی نہیں ہو گا ،پیپلز پارٹی کو ’بظاہر‘ عوامی نیشنل پارٹی کے سات سینیٹرز اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چار سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے ۔اس کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو سینیٹراور آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے یوسف بادینی کے بارے میں بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ حکومتی جماعت کو زیادہ محنت اور جو ڑ توڑ درکار ہے۔مسلم لیگ (ن) کو ’بظاہر ‘جمعیت علماء اسلام (ف) کے پانچ سینیٹرز،پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے بالترتیب تین ،تین سینیٹرز کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے، فاٹا کے ارکان البتہ خاصے دل گرفتہ نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔یہ میدان سیاست ہے یہاں کب بازی پلٹ جائے ، کب حامی مخالف بن جائے اور کب ساتھ کھڑا شخص سامنے جا کر کھڑا ہو جائے کوئی نہیں جانتا۔ اس گرما گرم سیاسی ماحول میں اہل سیاست کوہوشمندی سے کام لینا ہو گا اور عقلمندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ دھینگا مشتی کی بجائے مل بیٹھ کر تمام الجھنیں سلجھا لیں، باہمی مشاورت سے فیصلہ کریں، تمام سیاسی جماعتیں مل کر ایسے چےئر مین کا انتخاب کریں جس پر سب کو اعتماد ہو،جو سب کو قابل قبول ہو۔اس وقت صدر کا تعلق سندھ سے ہے اور وزیر اعظم پنجاب کے رہنے والے ہیں تو ایسے میں اگر چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹر زکو اعلیٰ عہدوں کے لئے چن لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے،یہی وقت ہے اگر تحریک انصاف بھی منجھے ہوئے کھلاڑی کی طرح اس کھیل کو کھیلے تو بہتر ہو گا۔بائیکاٹ کر نایا ناراض ہو کر ایک کونے میں بیٹھے رہنا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، نظام کو بہتر بنانے کے لئے اس سے باہر کھڑے ہونے کی بجائے اس کا حصہ بننا چاہئے ۔اگر ہمارے سیاستدان باہمی مشاورت اور گفت و شنید سے معاملات حل کرنے کی عادت اپنا لیں گے توہر طرف سکون کی بانسری بجے گی ، عوام کی آنکھوں میں بھی امید کے دیپ روشن تر ہو جائیں گے ۔

مزید : اداریہ


loading...