قومی اداروں کی تباہی

قومی اداروں کی تباہی

 ایسی مقدس مخلوق کے کیا کہنے، جس نے بنجر زمین سے راتوں رات ہری بھری کھیتی اٹھائی ہو ،صحراؤں سے سنگریزوں کی بجائے ہیروں کو نکالا اور کھنگالاہو ۔ان کے نزدیک تعمیرو ارتقا اور ترقی و عروج یہی ہے کہ کوٹھیوں کے نئے نئے ڈیزائنوں اور کاروں کے نئے نئے ماڈلوں کے ذریعے ایک دوسرے پر فوقیت ثابت کی جائے ۔ پرسوں پرلے روز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ریڈیو اور پی ٹی وی کی کارکردگی اور خسارے پر جو ریمارکس دیئے۔۔۔کسے فرصت کہ اس پر قلم اٹھائے یا کلام کرے، مگر ملکی مفاد اور قومی اداروں کے عروج وزوال سے آگاہی و باخبری رکھنے والے محب وطن لوگوں کے لئے اس پر سکوت بھی موت ہے ۔ریڈیواور سرکاری ٹی وی پر ہی کیا موقوف کہ اس سے قبل گزشتہ سے پیوستہ روز اسی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پی آئی اے کے خسارے کی دلخراش اور دلدوز داستاں پر بھی خورشید شاہ،چودھری پرویز الٰہی اورمحمود اچکزئی کو بریفنگ دی گئی ۔6ہزار ملازمین رکھنے والے پی ٹی وی کو بجلی کے بلوں کے ذریعے 6ارب کی آمدن ہوتی ہے ،سوا پانچ ارب تنخواہوں میں دینے کے بعد40کروڑ میڈیکل الاؤنس میں دیئے جاتے ہیں اوریوں اسے 60کروڑ سالانہ خسارہ ہے۔ کمیٹی میں کسی معزز ارکان نے سوال نہیں اٹھایا جو کہ اٹھایا جانا چاہئے تھا کہ آیا پی ٹی وی کونجی اشتہارات نہیں ملتے ؟ یقیناًملتے ہیں اور اصل سوال تو یہ ہے کہ ان کی آمدن کہاں ہے ؟ اور ہے تو اتنی کم کیوں ہے ؟ اور نجی اشتہارات کی بہتری اور بڑھوتری کیوں نہیں کی جاتی بابا ؟ ایک نہیں کئی نجی ٹی وی ہیں جو دوسرے معاصروں سے مسابقت کی دوڑ میں شریک ہونے کے باوجود کامیاب جا رہے ہیں اور ان کے ملازمین، بجٹ، تکنیکی و ٹیکنالوجی اثاثے اور تجربات۔۔۔ پی ٹی وی کی نسبت بہت کم ہیں۔اگر ایک نجی ٹی وی چند پروڈیوسروں سے اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے ،بلکہ بہترین پروگرام بھی پیش کرتا ہے۔۔۔ تو پی ٹی وی کے ایک سینٹر میں 70پروڈیوسر کیوں ؟ کیا پی ٹی وی کے ارباب اختیار و اقتدار کو موٹی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ خسارہ کم کرنے کے لئے یا تو آمدن بڑھائی جائے یا پھر اخراجات کم کیے جائیں۔ہمارا سرکاری ٹی وی کس پالیسی پر عمل پیرا ہے ؟ محمدمالک نے بہت خوبصورت بات کہی.....’’ پی ٹی وی میں کام کرنے والا کوئی بھی دکھی نہیں، مگر ادارہ بہت دُکھی ہے ‘‘۔ مالک صاحب سے سوال اٹھایا جانا چایئے کہ حضورِوالا ! وہ دن کب آئے گا جب پی ٹی وی بھی ملازموں کی مانند سکھی ہو گا ؟ پی آئی اے کو بھی ایک کھرب، 93ارب کے خسارے کا سامنا ہے ۔اس ادارے کو تو ہر ماہ تین ارب کاخسارہ اورایک ارب ہر ماہ سود کی ادائیگی میں دان کرنے پڑتے ہیں۔خورشید شاہ نے حیرت سے کہا کہ پی آئی نے اتنی بڑی رقم ادھار پر لے لی ہے کہ ا ب اسے اریب قریب اپنی ساری رقم سود کی ادائیگی پر ہی خرچ کرنا پڑتی ہے۔ پنجابی کا محاورہ یاد آتاہے ’’ گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا‘‘۔ پی آئی اے کے گوشوارے ، معاملات و تفصیلات،پالیسیاں اور لائحہ عمل دیکھ کر تو سانسیں سہمنے لگتی ہیں ،نبضیں ڈوبنے لگتی ہیں کہ خدایا اس اونٹ کی کون سی کل سیدھی ہے ؟ سچی بات ہے کہ پی آئی اے اور واپڈا اک معمہ ہے ،سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔اعداد وشمارکے گورکھ دھندے کو تو چھوڑیئے کہ یہ تو چکرا کررکھ دیتے ہیں ،یہاں تو کوئی ایک بات بھی سیدھے سبھاؤ سمجھ آنے والی کہاں ۔گماں گزرتا ہے کہ یہ گتھی تو نوکر شاہی نے بڑی سوچ کے الجھائی ہے ۔ دُنیا بھر میں یہ دستور رائج و مروج ہے کہ ایک جہاز پر120سے 170ملازمین کام کرتے ہیں،جبکہ ہماری پیاری پی آئی اے کے ایک جہاز پر 690آدمی کام کیا کئے۔تو بتلایئے ناں صاحب ! اس ادارے کا خسارہ کم ہو تو کیسے ہو ؟ اورکیوں کر ہو ؟ پی آئی اے کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ دنیا میں گراؤنڈ ہینڈلنگ، ٹیکنیکل سپورٹ، فلائٹ کچن، مینٹیننس ریپرئنگ اور ٹریننگ سنٹرز کے کام آؤٹ سورس ہوتے ہیں ،جبکہ یہ سب کام ہم خود کر رہے ہیں ۔ایسی سرگرمیوں پر سالانہ ساڑھے 5ارب خرچ ہو رہے اور 7ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں۔گویا جو تربیت ملازمین کو خود لینی چاہئے،وہ پی آئی اے دے رہی یا خرچ اٹھا رہی ہے۔اب کس پختہ دیوار سے سر ٹکرایئے یا چیخئے، چلایئے کہ ایسا کیوں؟بلکہ نہیں ابھی ٹھہریئے کہ ایک ہاتھ سے سر اور دوسرے سے دل نہ تھامیئے کہ یہ مقام ابھی آگے ہے ۔پی آئی اے کا خسارہ بڑھنے کی اہم وجہ ملازمین کی تعداد اور تنخواہوں میں بے تحاشا اضافہ ہے،ایک برس میں عملے کی تنخواہ میں 50فیصد اضافہ ہوا اور ایگزیکٹو افسران کی تعداد بھی دو گنا ہو گئی۔اب پی آئی اے نے خسارہ کم کرنے کے لئے پلان تیار کیا ہے کہ عمرہ سیزن میں زیادہ سے زیادہ منافع کما یا جائے۔ماشا اللہ! مرحبا ! نہیں معلوم کہ پی آئی اے اور ریڈیو کے لئے کس شہہ دماغ ارسطو اور فیثا غورث ایسے سرمد روزگار نے منصوبہ تیار کیا ہے ۔ ریڈیو نے بھی اپنی زارو زبوں حالی دور کرنے کے لئے جھٹ سے نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور موبائل فون کی خریداری پر ریڈیو ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی ۔بھلا ہو ان لوگوں کا کہ جنہوں نے اس بے تکے منصوبے کی منظوری نہیں دی ورنہ۔۔۔ کچھ بعید نہ تھا کہ نظام سقہ سے ہی پانی چھڑکنے کے پیسے لئے جاتے۔دید نہیں شنید ہے کہ محمود اچکزئی ریڈیو حکام پر خوب گرجے برسے کہ لوگ امریکہ ،بھارت اور چائنہ کے ریڈیو سٹیشن سے حالاتِ حاضرہ سنتے ہیں،افسوس ریڈیو پاکستان ان کی طرح خبریں دینے میں ناکام ہے ۔انہوں نے پوچھا کہ ہمارا ریڈیو بی بی سی کے نقش قدم پر نہیں چل سکتا ؟اچکزئی صاحب کی خیر ہو کہ انہیں یہ سوال وسعت اللہ خان سے پوچھنا چاہئے تھا۔  ہر گز کوئی شک نہیں کہ ریڈیو اپنی کسمپرسی او ردرماندگی کی آخری حدوں کو چھونے چلا ہے اور اس لئے اس کی آسودگی کی سبیل تلاش کی جانی چایئے،لیکن یہ نری سکھا شاہی ہے کہ کسی سرکاری ادارے کی فراخی کے لئے عوام کو تنگی کی جانب دھکیل دیا جائے۔ قومی اداروں کی تباہی و بربادی پر حکومت کی غفلت و سستی اور خاموشی اپنی جگہ، لیکن ان اداروں کو اس حال میں تک پہنچانے میں بالائی بیورو کریسی نے بھی بنیادی و اساسی کردار ادا کیا ہے ۔یہی وہ آسمانی شاہی فیملی ہے کہ جس نے تھوڑے عرصے میں ککھ پتی سے لکھ پتی بننے کی مہم سر انجام دی ہے،قومی ادارے اگر کنگال ہیں تو اسی لئے کہ ان کی توندیں اور تجوریاں بھر بھر گئی ہیں۔

مزید : کالم


loading...