بنکوں سے لیا گیا قرض بجلی کے بلوں میں عوام سے وصول کرنا ظلم ہے، وسیم اختر

بنکوں سے لیا گیا قرض بجلی کے بلوں میں عوام سے وصول کرنا ظلم ہے، وسیم اختر

 لاہور(پ ر) امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب و پارلیمانی لیڈر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سید وسیم اختراور سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ نے حکومت کی جانب سے 136 ارب روپے بنکوں سے لئے گئے قرضے کوبجلی کے بلوں کے ذریعے عوام سے وصول کرنے کی اطلاعات پر انتہائی تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت آئے روز بجلی کے بلوں میں نئے نئے اعلانیہ اور خفیہ ٹیکس عائد کرکے غریب عوام کی زندگی اجیرن کررہی ہے ایک طرف بجلی عوام کومیسرنہیں تودوسری جانب بلوں میں ہوشرباء اضافہ حکمرانوں کی بدترین کارکردگی کامظہر ہے عوام کے خون پسینے کی کمائی لوٹنے کے لئے نت نئے پلان بنائے جارہے ہیں حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے غربت میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت اپنی اوربجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی نااہلی چھپانے کے لئے136ارب روپے قرض کی رقم خفیہ طور پر ٹیرف میں شامل کرکے عوام کودونوں ہاتھوں سے لوٹنے کی منظوری کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی سے حاصل کرچکی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں ہوا،پانی،کوئلے اور شمسی توانائی سے بجلی پیداکرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں مگر بدقسمتی سے ان پر کوئی خاطرخواہ عملدرآمد نہیں ہورہا۔کالاباغ ڈیم کی تعمیر کرکے نہ صرف ہم بجلی کے درپیش سنگین بحران سے نجات حاصل کرسکتے ہیں بلکہ زراعت سے وابستہ لاکھوں ایکڑ زمین کوقابل کاشت اور لاکھوں افراد کوروزگاربھی فراہم کرسکتے ہیں۔پاکستان وسائل سے مالامال ملک ہے ضرورت صرف درست فیصلے کرنے اورغلط ترجیحات کو بدلنے کی ہے۔جماعت اسلامی پنجاب کے رہنماؤں نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ بجلی کے نرخوں میں بنکوں کاقرضہ شامل کرکے عوام سے وصول کرنے کا نوٹس لیں اور عوام دشمن اقدامات کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے۔عوام نے مسلم لیگ(ن)کوووٹ اس لئے دیئے تھے کہ وہ برسراقتدار آکر عوامی مسائل کوحل کریں گے مگر حکومت کو آئے دو سال گزرگئے عوام کوابھی تک کسی قسم کاکوئی ریلیف حاصل نہیں ہوسکا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...