پتھا لوجسٹ ڈاکٹر طارق اسماعیل(پیما) کے صوبائی صدر منتخب

پتھا لوجسٹ ڈاکٹر طارق اسماعیل(پیما) کے صوبائی صدر منتخب

 لاہور ( جنرل رپورٹر) پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن(پیما) پنجاب کے ممبران کے آئندہ ۲ سال کیلئے میو ہسپتال کے پتھا لوجسٹ ڈاکٹر طارق اسماعیل کو صوبائی صدر منتخب کیا ہے ، انہوں نے ۴۱ویں صوبائی کنونشن میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا، اس موقع پر مختلف سیشن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے پاکستان میں ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر اور مضبوط کرنے کے لئے پیشہ ورانہ مہارت میں اضافے کے ساتھ ساتھ طبی اخلاقیات پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مریض کی بیماری کو دور کرنے کے لئے علاج معالجے کے ساتھ ساتھ ایمان و امانت اور بہترین اخلاق کے مظاہرہ کے ذریعہ اُسکی تکلیف میں کمی لانا ڈاکٹرز کی اولین دینی و پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔کنونشن کے سائیٹیفک پروگرامات سے خواجہ صفدر میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ظفر علی چوہدری ،پروفیسر خبیب شاہد ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے پروفیسر حبیب الرحمن عاصم ، پشاور میڈیکل کالج کے وائس ڈین پروفیسر حفیظ الرحمن، انمول کے پروفیسر ابوبکر شاہد، جناح ہسپتال کے امراض گردہ کے سربراہ پروفیسر حافظ اعجاز احمد،اسلامک انٹرنیشنل میڈیکل کالج کے پروفیسر طاہر چوہدری، پروفیسر آصف بھلی، پروفیسر محمد افضل میاں نے خطاب کیا، جبکہ اختتامی سیشن سے بین الاقوامی امور کے ماہر عبدالغفار عزیز، اوریا مقبول جان، پیما کے مرکزی صدر پروفیسر سہیل اختر، سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے صدر فضل جیلانی اور ڈاکٹر خاور قریشی نے خطاب کیا۔ مقررین نے مریض کے علاج سے متعلق ڈاکٹرز کو مختلف ذمہ داریوں سے آگاہ کیا، انہوں نے کہا کہ پریکٹس کے دوران اسلامی طبی اخلاقیات کی مکمل پیروی کرنا، میڈیکل کے میدان میں ہونے والی نت نئی معلومات اور ریسرچ سے آگہی ہر ڈاکٹر کی بنیادی ذمہ داری ہے، فارما فزیشن گائیڈ لائینز کے حوالے سے پیما کے مرکزی نائب صدر پروفیسر افضل میاں نے کہا کہ سائنسی معلومات کے تبادلے، پروفیشل علم میں اضافے اور معلومات کے تبادلے کے ہونے والی کانفرنس کے ضمن میں تعاون لیا جا سکتا ہے تاہم ذاتی فائدوں کے لئے کسی ست مراعات لینا بالخصوص ڈاکٹرز کے لئے انتہائی ناپسندیدہ ہے جس سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئے۔پروفیسر ابوبکر شاہد نے بریسٹ کینسر میں مبتلا خواتین بالخصوص پاکستان کے حوالے سے مختلف اعدادو شمار بتاتے ہوئے کہا کہ کینسر پاکستان میں اس وقت بہت تیزی کے ساتھ پھیلنے والا مرض ہے جس میں سے بریسٹ کینسر میں مبتلا خواتین میں اموات کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر کی کوئی واضح علامات کی روشنی میں اسکا تدارک ممکن نہیں تاہم تمام خواتین کو چاہئے کہ وہ ۰۲ سال کی عمر سے اپنا خود معائنہ کرنا شروع کر دیں جس کے حوالے سے ڈاکٹر سے راہنمائی لی جا سکتی ہے اور ۰۴ سال کے بعد باقائدہ کلینیکل چیک اپ کروانا چاہئے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...