خواجہ سلمان رفیق سے محکمہ صحت پر مکالمہ

خواجہ سلمان رفیق سے محکمہ صحت پر مکالمہ
 خواجہ سلمان رفیق سے محکمہ صحت پر مکالمہ

  


 پنجاب میں صحت کے معاملات بظاہر ٹھیک نہیں لگ رہے۔ روز روز ڈاکٹروں کی ہڑتال۔ ہسپتالوں کے ابتر حالات۔ پرائیوٹ ہسپتالوں کی من مانیاں ۔ سب کوئی اچھی کہانی نہیں سنا رہے۔ اس سب پر بات کرنے کے لئے پنجاب کے محکمہ صحت کے نگران خواجہ سلمان رفیق سے ایک طویل مکالمہ ہوا۔ خواجہ سلمان رفیق ویسے تو وزیر صحت ہیں ۔ لیکن سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے انہیں مکمل وزیر نہیں بنا یا جا سکا۔ وہ میاں شہباز شریف کے گزشتہ دور حکومت میں بھی محکمہ صحت کے انچارج تھے ۔ تب بھی وزیر نہ بن سکے۔ اور اب بھی صحت کے نگران ہیں ۔ چونکہ عام انتخابات میں ہار گئے تھے۔ اور جب کابینہ بنی تب وہ رکن اسمبلی نہیں تھے۔ بعد میں ضمنی انتخاب میں دوبارہ جیت کر آئے لیکن تب سے کابینہ میں تو سیع نہیں ہوئی۔ اس لئے وزیر نہ ہوتے ہوئے بھی وزیر صحت کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ پہلا سوال یہی کیا کہ آپ کے پاس ڈاکٹروں کی ہڑتال کا کوئی حل نہیں ہے۔ تو وہ مسکرائے۔ کہنے لگے اگر میڈیاء ساتھ دے تو حل نکل آئے گا۔ ویسے تو ان کی پہلی ہڑتال کے بعد اس بات کا اہتمام کر دیا گیا ہے کہ ان کی ہڑتال سے ایمرجنسی آؤٹ ڈور یا اپریشن تھیٹر نہ بند ہوں۔ لیکن پھر بھی ہڑتال سے مریضوں کا نقصان تو ہو تا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ یہ ہڑتالیں نہیں ہونی چاہئیں۔ لیکن یہ اب فیشن بن گیا ہے۔ نوجوان ڈاکٹرز بھی ایک پریشر گروپ بن گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ پر الزام ہے کہ آپ نرم ہیں ۔ ان داکٹروں سے سختی نہیں کرتے۔ کہنے لگے میں چاہتا ہوں کہ کام چلتا رہے۔ آپ دیکھیں وہاڑی والے معاملہ میں جب ہم نے ڈاکٹرکے خلاف ایکشن لیا تو پورے وہاڑی میں پورا ایک ماہ ہڑتال رہی۔ ایکشن لینے کا فائدہ ہوا یا نقصان۔ میں نے کہا کہ ان ڈاکٹروں کے مطالبات قسطوں میں کیوں مانے جا رہے ہیں ۔ یہ چارٹر آف ڈیمانڈ ایک ہی دفعہ کیوں نہیں مکمل طور پر نافذ کر دیا جاتا۔ ہر ہڑتال پر ایک شق مان لی جاتی ہے۔ خواجہ سلمان رفیق نے جواب میں کہاکہ یہ تاثر غلط ہے کہ چارٹر آف ڈیمانڈ میں صرف ڈاکٹروں کے مطالبات ہیں۔ اس میں حکومت کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ ان کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔حکومت بھی تو ایک سٹیک ہولڈر ہے۔ اس کے مفادات کا تحفظ بھی تو کرنا ہے۔ جہاں تک ینگ ڈاکٹرز کی بات ہے تو ان کے تو تمام معاملات مانے جا چکے ہیں ۔ وہ تو اب باقیوں کے ٹھیکیدار بن گئے ہیں ۔جو افسوسناک ہے۔ میں نے کہا کہ دور دراز اور چھوٹے شہروں کے ہسپتالوں کی کیا بات کی جائے۔لاہور کے ہسپتالوں کی حالت ہی نا قابل بیان ہے۔ مثال کے طور پر میو ہسپتال میں انجیو گرافی کی مشین بھی کئی ماہ سے خراب ہے۔ اور پی آئی سی میں بھی ایک سال بعد کا انجیو گرافی ٹائم مل رہا ہے۔ وہ کہنے لگے یہ بات دست ہے کہ میو ہسپتال کی مشین دو ماہ سے خراب ہے لیکن چند دنوں میں ٹھیک ہو جائے گی۔مشین کے پرزے باہر سے آنے تھے جس کے لئے ایل سی کھولنے جیسے پیچیدہ معاملات تھے۔ جو اب حل ہو گئے ہیں۔ ان کا یہ جواب مجھے کوئی قابل قدر نہیں لگا۔ مشین کے ٹھیک ہونے میں اتنی تاخیر کسی صورت بھی درست قرار نہیں دی جا سکتی۔ یہ گڈ گورننس نہیں قرار دی جا سکتی۔ خواجہ سلمان رفیق کا موقف ہے کہ جب تک ہم تحصیل اور ضلع کی سطح پر موجود ہسپتالوں کوٹھیک نہیں کریں گے ۔ تب تک بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں رش کم نہیں ہو گا۔ میں نے کہا یہ بات تو درست ہے ۔لیکن یہ بات صرف بات تک ہی رہ جاتی ہے۔ اس پر کوئی قابل عمل حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے۔ وہ کہنے لگے۔ نہیں اب حکمت عملی بنائی ہے۔ حکومت پنجاب نے اس حوالہ سے ڈاکٹرز کو ایک خصوصی پیکج دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیکج بہت پر کشش ہو گا۔ جو ڈاکٹرز کو تحصیل اور ضلع کی سطح پر قائم ہسپتالوں میں کام کرنے کی ترغیب دے گا۔ یہ پیکج اتنا پر کشش ہو گا کہ ڈاکٹر چھوٹے شہر میں جانے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ یہ پیکج صرف تحصیل اور ضلع کے ہسپتالوں کے لئے ہوگا۔ ہمیں امید ہے کہ ا س سے یہ ہسپتال آباد ہو نگے۔ گفتگو طویل ہو گئی ۔ میں نے خواجہ سلمان رفیق سے کہا کہ ڈاکٹروں کی طرح آپ پرائیوٹ ہسپتالوں کے آگے بھی بے بس ہیں۔ پرائیوٹ ہسپتالوں کے ریٹ پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی ابتر حالت کا یہ پرائیوٹ ہسپتال فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ ایک مسئلہ ہے۔ اس مقصد کے لئے ایک ہیلتھ کئیر کمیشن بنا یا گیا ہے۔میں نے کہا کہ اس کاتو ان پرائیوٹ ہسپتالوں نے بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا یہ بھی درست ہے ۔ لیکن ہم اس ہیلتھ کئیر کمیشن کو فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مسئلہ کا حل یہیں سے نکلے گا۔جعلی دوائیوں کے معاملہ پر بھی حکومت کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت خواجہ عمران نذیر کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے۔ وہ صوبہ بھر میں جعلی دوائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے ابھی فیصل آباد میں ایک بڑی ریڈ بھی کی ہے۔ میں نے کہا یہ وہی ریڈ ہے جس کا تنازعہ پیدا ہوا ہے۔ وہ مسکرائے کہنے لگے جو جعلی دوائیاں بناتے ہیں انہیں دو کیا زیادہ تھپڑمارنے چاہئیں۔ میڈیا نے دو تھپڑوں کو ایشو بنا کر جعلی دوائیاں بناے والوں کا حوصلہ بڑھا یا ہے۔ جو درست نہیں ہے۔ جو جعلی دوائیاں بناتے ہیں ان سے کوئی رعائت نہیں ہو نی چاہئے۔

مزید : کالم


loading...