قرطبہ چوک تالبرٹی سگنل فری کوریڈور ،عدالت کا مشینری ہٹانے کا حکم واپس

قرطبہ چوک تالبرٹی سگنل فری کوریڈور ،عدالت کا مشینری ہٹانے کا حکم واپس

 لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے قرطبہ چوک سے لبرٹی چوک تک سگنل فری کوریڈور منصوبے کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ منظوری سے قبل ہی اس منصوبے پر ابتدائی طور پر سرکاری خزانہ سے 6 کروڑ روپے خرچ کر دیئے گئے، سرکاری خزانہ ضائع کرنے والوں کو نتائج بھگتا ہوں گے تاہم فاضل جج نے منصوبہ کی تعمیر کے لئے وہاں نصب مشینری ہٹانے سے متعلق اپنا حکم واپس لے لیا۔مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے سگنل فری کوریڈور منصوبے کے خلاف دائردرخواستوں میں عدالتی حکم امتناعی میں ترمیم کے لئے ایل ڈی اے کی متفرق درخواست پر سماعت کی، پنجاب حکومت کی طرف سے نئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نوید رسول مرزا اور ایل ڈی اے کے وکیل سلمان منصور نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے گزشتہ تاریخ سماعت پر منصوبے کی تعمیر کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ جیل روڈ فوارہ چوک سے منصوبے کی تعمیر کے لئے نصب مشینری کو بھی فوری طور پر ہٹایا جائے، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس جگہ پر مشینری نصب کرنے پر ڈیڑھ کروڑ روپے لاگت آئی ہے اور اب یہاں سے مشینری ہٹانے پر مزید ڈیڑھ کروڑ روپے لاگت آئے گی ،مشینری ہٹانے کی حدتک عدالتی حکم میں ترمیم کی جائے ، عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک اس منصوبے پر کتنی لاگت آ چکی ہے جس پر سرکاری وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ اب تک مجموعی طور پر 6 کروڑ روپے اس منصوبے پر لاگت آ چکی ہے ، عدالت نے سرکاری وکلاء کے بیان پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ منصوبے کی قانون کے مطابق منظوری کے بغیر ہی سرکاری خزانے سے اتنی بڑی رقم خرچ کر دی گئی ، سرکاری خزانہ ضائع کرنے والوں کو نتائج بھگتنا ہوں گے تاہم عدالت نے پنجاب حکومت اور ایل ڈی اے کے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے عدالتی حکم امتناعی میں ترمیم کرتے ہوئے مشینری ہٹانے سے متعلق اپنا حکم واپس لے لیا تاہم منصوبہ کی تعمیر کے خلاف اپناحکم امتناعی برقراررکھا ۔اس کیس کی مزید سماعت 20مارچ کوہوگی۔ سگنل فری منصوبہ

مزید : صفحہ آخر


loading...