سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو ریلیف نہیں ملنا چاہیے ،ترجمان عوامی تحریک

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو ریلیف نہیں ملنا چاہیے ،ترجمان عوامی تحریک

 لاہور(پ ر )سانحہ ماڈل ٹاؤن پر قائم جوڈیشل کمیشن رپورٹ کی کاپی حاصل کرنا آئین کے آرٹیکل 19A کے تحت ہمارا بنیادی حق ہے ،پنجاب حکومت رپورٹ شائع کرنے سے بچنے کیلئے ایک ’’پرائیویٹ پارٹی ‘‘کو بطور ڈھال استعمال کررہی ہے۔ ان خیالا ت کا اظہار عوامی تحریک کے وکلاء نے سانحہ ماڈل ٹاؤن جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ شائع کرنے کے حوالے سے رٹ پٹیشن کی سماعت کے بعد عدالت کے احاطہ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران کیا۔ وکلاء کا پینل علی ظفر ایڈووکیٹ،نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، محمد ناصر اقبال ایڈووکیٹ ، سردار غضنفر، امتیاز چودھری، آصف سلہریا ،محبوب چودھری ،فواد اختر ایڈووکیٹ پر مشتمل تھا۔ علی ظفر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہماری عدالت سے استدعا ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ شائع کرنے کے حوالے سے اپنا حکم سنائے کمیشن کی آئینی حیثیت کے بارے میں بعد میں بھی بات ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے فیصلہ کرنے کے اختیار کو چیلنج نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ11 مارچ کو جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کی کاپی حاصل کرنے کے حوالے سے عوامی تحریک کے وکلاء قانونی دلائل دینگے۔ عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ترجمان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے ،عدالت آئین کے کسٹوڈین کی حیثیت سے اس حق کا تحفظ یقینی بنائے، شہداء کے قاتلوں کو کوئی ریلیف نہیں ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ ایک پرائیویٹ پارٹی کو اپنی ڈھال بنالیا ہے ۔عدالتیں ظالم حکومتوں کی بربریت کے خلاف اللہ کے بعد عوام کی آخری امید ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کے منی لانڈرز حکمرانوں نے ہرآئینی و قانونی فورم کو اکھاڑا بنا رکھا ہے ، لوٹ کھسوٹ اور جنگل کے نظام میں ایک انکوائری رپورٹ کی کاپی حاصل کرنے کیلئے جوئے شیر لانے کے عمل سے گزرنا پڑرہا ہے لیکن بالآخر قاتلوں کی گردنیں پھانسی کے پھندوں تک پہنچیں گی۔ عوامی تحریک

مزید : صفحہ آخر


loading...