ورلڈکپ 2015ء : مہندرا سنگھ دھونی کی چوری پکڑ گئی، سامان بازیاب

ورلڈکپ 2015ء : مہندرا سنگھ دھونی کی چوری پکڑ گئی، سامان بازیاب

 لاہور (کامران اکرم) ورلڈکپ 2015ء کے مقابلے جہاں شائقین کی بھرپور توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں وہیں ان مقابلوں میں وکٹیں اکھڑنے پر جلتی بجھتی LED لائٹس بھی خوب رنگ جماتی ہیں۔ ان سٹمپس کو کریز میں گاڑنے اور سیٹ کرنے کی ذمہ داری ادا کرنے والے ’’نیگل فلیچر‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی نے انتہائی ہوشیاری سے بیلز کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا تاہم لیگ ایمپائر نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور کہا کہ وہ اس کے بجائے اپنے لئے کوئی اور چیز لے سکتے ہیں۔ فلیچر کا کہنا تھا کہ کسی بھی ٹیم کی جانب سے میچ جیتنے کے بعد سٹمپس اور بیلز کو اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے جانا انتہائی سنگین مسئلہ ہے اور کسی بھی کھلاڑی کو ایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے اورہم اس معاملے پر بہت سخت نظر رکھتے ہیں ۔ بھارت کے کپتان مہندرا سنگھ دھونی نے T20 ورلڈکپ کے فائنل میں ایسا پہلی بار کیا تھا جبکہ رواں ورلڈکپ میں بھی پاکستان کے خلاف میچ جیتنے پر انہوں نے سٹمپس کے اوپر موجود بیلز کو قبضے میں لے لیا تھا تاہم لیگ ایمپائر این گولڈ نے دھونی کی اس حرکت کو دیکھ لیا اور فوراً مداخلت کرتے ہوئے یہ ہدایت کی کہ وہ بیلز واپس کریں اور اس کی جگہ کچھ اور لے لیں جبکہ ورلڈکپ میں شامل تمام کھلاڑیوں کو بھی انہیں ہدایات پر عمل کرنا ہو گا جب تک آئی سی سی کی جانب سے ایسا کرنے کی اجازت نہیں مل جاتی۔ فلیچر کا مزید کہنا تھا کہ بنیادی طور پر ایمپائرز ہی اس ساری صورتحال کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور گراؤنڈ سے لے جائی گئی ہر چیز کو واپس کرانے کے مجاز بھی ایمپائرز ہی ہیں جنہوں نے اب تک بہترین کام کیاہے۔واضح رہے کہ گراؤنڈ میں رنگ جماتی یہ جلتی بجھتی لائٹوں والے سٹمپس اور بیلز پر مشتمل ایک سیٹ کی قیمت 40,000 ڈالر (تقریباً 40 لاکھ پاکستانی روپے) بنتی ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی بھی کمپنی اتنی مہنگی سٹمپس اور بیلز کو مفت میں لے جانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...