بائیو میٹرک سسٹم وکلاء اور ریونیو سٹاف میں اختلاف شدت اختیار کر گئے

بائیو میٹرک سسٹم وکلاء اور ریونیو سٹاف میں اختلاف شدت اختیار کر گئے

لاہور(عامر بٹ سے )بائیومیٹرک سسٹم سے وکلاء اور ریونیو سٹاف کے درمیان پائے جانے والے اختلافات شدت اختیا ر کرگئے،محکمہ ریونیو کی انتظامیہ نے رجسٹریشن برانچیں کچہریوں سے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ،ٹاؤن ہال ،والٹن ،کمپیوٹرسروس سنٹر یا تحصیل شالیمار سنٹر میں رجسٹریشن برانچز قائم کئے جانے پر غور کیا جارہا ہے ،مزید معلوم ہوا ہے کہ صوبائی دارلحکومت میں محکمہ ریونیو کے شعبہ رجسٹریشن برانچوں اور وکلاء رہنماؤں کے درمیان بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے تصدیق کروانے اور رش کی وجہ سے زیادہ سٹاف بٹھانے کی وجہ سے بننے والا تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے ،ذرائع نے بتایا ہے کہ وکلاء صاحبان کی کثیر تعداد بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے تصدیق کروانا چاہ رہی ہے مگر وہ بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے اکٹھے کئے جانے والے رش بدانتظامی اور بائیو میٹرک سسٹم پر تعینات انتظامی عملہ کی وجہ سے پریشان حال ہیں اور اپنے اس موقف کے ساتھ ریونیو کی انتظامیہ سے بات کرنے میں مصروف ہیں کہ بائیومیٹرک سسٹم پر زیادہ سٹاف تعینات کیاجائے ،بدانتظامی کے معاملات ختم کئے جائیں اور لوگوں کی زیادہ اکٹھی ہونے والی تعداد کو بھی سہولت میسر کی جائیں ،دوسری جانب 6روز سے خاموش محکمہ ریونیو کی انتظامیہ بھی وکلاء کی جانب سے کئے جانے والے مطالبات پر نظر ثانی کرنے کی بجائے ایک نئی حکمت عملی کی جانب سوچ بچار کررہی ہے اور اس ضمن میں نیا لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے جس کے مطابق تمام رجسٹریشن برانچوں کو کچہریوں کی حدود سے باہر نکال کر ایل ڈی اے طرز کی عمارت اور سیکیورٹی سسٹم کے ساتھ باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے اس حوالے سے ٹاؤن ہال،والٹن ،کمپیوٹر سروس سنٹر تحصیل شالیمار آفس میں قائم کئے جانے والے کمپیوٹر سروس سنٹرز میں رجسٹریشن برانچ کے سٹاف کو بٹھانے یا پھر بائیومیٹرک کی تصدیق اور پرمیشن کی حد تک سٹاف منتقل کئے جانے پر غور کیا جارہا ہے،اس ضمن میں 9ٹاؤنوں کے سب رجسٹرار اور رجسٹرری محرر صاحبان سمیت پی ایم یو انتطامیہ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر ریونیو اور اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ کلکٹر ؂ جنرل کے درمیان میٹنگیں کی جارہی ہیں ،محکمہ ریونیوکی حکمت عملی اور وکلاء صاحبان کے مطالبات کے نتیجے میں کیا نکلے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم موجودہ حالات میں شہریوں کی کثیر تعداد رجسٹریشن برانچیں بند کئے جانے سے شدید مشکلات اور ذہنی کوفت سے دوچار ہیں ،سینکڑوں جائیدادوں کے بیعانے ،اقرار نامے ،بیع نامے ،مختار ،مختار خاص ،پاور آف اٹارنی ،سیل ڈیڈ ،جیسے اہم کاغذات اور کام بھی ہوا میں تحلیل ہو چکے ہیں ،ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محکمہ ریونیو کی جانب سے رجسٹریشن برانچیں بند کئے جانے کی ایک وجہ ہارس اینڈ کیٹل شو بھی بیان کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں تمام ریونیو سٹاف کی قبل ازیں ہی فوٹریس ڈیوٹیاں لگائی گئیں تھی تاہم شہریوں نے بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ افسران اور لاہور باروم سمیت دیگر سینئر وکلاء انتظامیہ اور محکمہ ریونیو کے اعلیٰ افسران سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں تاکہ عوام الناس کی کثیر تعداد کو درپیش مشکلات سے نجات حاصل ہو۔ وکلا کا جھگڑا

مزید : صفحہ آخر


loading...