پاکستان میں پانی کے قحط کا خطرہ ہے بچنے کی کوئی کوئی تیاری نہیں کی گئی :خواجہ آصف

پاکستان میں پانی کے قحط کا خطرہ ہے بچنے کی کوئی کوئی تیاری نہیں کی گئی :خواجہ ...

لاہور(کا مر س رپورٹر) وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانی کے قحط کا خطرہ ہے جس سے بچنے کی کوئی تیاری نہیں کی گئی،بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو معاملہ مناسب فورم پر اٹھائیں گے،آبی ذخائر کا معاملہ سیاست کی بھینٹ چڑھانا قابل افسوس ہے،بجلی بحران پر تین سال میں قابو پا لیں گے،پانی بجلی اور دہشتگردی سمیت تمام مسائل کے حل کے لئے قومی اتفاق رائے ناگزیر ہے۔لاہور کے مقامی ہوٹل میں تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ماضی میں بدانتظامی کے باعث پانی اور بجلی کی قلت کا سامناہے ۔چند سالوں میں پاکستان میں پانی کا قحط ہوگاجسے روکنے کیلیے قومی سطح پر کوئی اقدامات نہیں کیے گئے پاکستان میں پانی کاضیاع بہت زیادہ ہے جسے بند ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ پانی کی قلت عالمی مسئلہ ہے۔بجلی بحران پر تو تین سال میں قابو پالیں گے مگر پانی کا مسئلہ طویل مدتی ہے ۔ دو تین سال میں حل نہیں ہو گا۔ان کا کہناتھا کہ ملک میں ہر سال سیلاب آتے ہیں ، مگر ہمارے پاس آبی ذخائر ہی نہیں۔پانی ،بجلی اور دہشت گردی سمیت تمام مسائل کیحل کیلیے قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت سے پانی تنازع سندھ طاس معاہدے کے تحت حل ہوتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت سے آبی تنازعات سمیت تمام مسائل کا پر امن حل چاہتا ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائے، اگر ہمارے حصے کے پانی پر قبضہ ہوا تو ہم یہ معاملہ مناسب فورم پر اٹھائیں گے۔وزیر پانی و بجلی کا کہنا تھا کہ ٹیوب ویل سے حاصل کئے گئے جتنے پانی پر 3 ہزار روپے کے اخراجات آتے ہیں اتنا سرکاری پانی 100روپے کا پڑتا ہے، پانی بچانے کے لئے ہمیں زراعت کے لیے جدید طریقے اپنانے ہوں گے۔ خواجہ محمد آصف

مزید : صفحہ آخر


loading...