دہشت گردی کو مدارس اور دینی طبقے سے جوڑنا ناقابل برداشت ہے، حافظ سعید

دہشت گردی کو مدارس اور دینی طبقے سے جوڑنا ناقابل برداشت ہے، حافظ سعید

 کراچی (پ ر) تحفظ ناموس رسالت ایمان کا حصہ ہے، جس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ فرانس میں چالیس سربراہان مملکت جمع ہوسکتے ہیں، تو مسلم حکمران حرمت رسول کے لیے مضبوط کردار ادا کیوں نہیں کرسکتے۔ اگر یورپ چارلی پیدا کریں گے تو مسلمان مائیں غازی علم دین پیدا کریں گی۔ اتحاد امت اور تحفظ حرمت رسول لازم و ملزوم ہے۔ حرمت رسول واحد مسئلہ ہے، جس پر پوری امت کو متحد کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی کو مدارس اور دینی طبقے سے جوڑنا ناقابل برداشت ہے۔ علماء کرام اور دینی زعماء ناموس رسالت کی خاطر اسلام آباد میں اکھٹے ہوکر واضح لائحہ عمل ترتیب دیں۔ تحفظ حرمت رسول کے لیے 17 مارچ کو ملتان اور 26 مارچ کو لاہور میں بڑے علماء کنونشن منعقد کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید، جامعہ احسن العلوم کے مہتمم مفتی زر ولی خان، جامعہ بنوریہ سائٹ کے مہتمم مفتی محمد نعیم، تحریک حرمت رسول کے صدر اور جمعیت علمائے پاکستان کے سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی، جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اسداللہ بھٹو، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالکریم عابد، جمعیت علمائے اسلام (س) کے مرکزی رہنما خواجہ عبدالمنان، تحریک حرمت رسول کے سیکرٹری جنرل مولانا امیر حمزہ، جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما قاری محمد یعقوب شیخ، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما افضل سردار، جماعت غربا اہلحدیث کے رہنما شیخ انس مدنی، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے مفتی شفیق الرحمن، جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما سیف اللہ خالد، جامعہ ستاریہ الاسلامیہ کے شیخ الحدیث محمود احمد حسن، جماعۃ الدعوۃ کراچی کے امیر ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی، جامعہ ابو بکر الاسلامیہ کے استاد ابو عبدالمجید محمد حسین بلتستانی، معروف عالم دین شریف حصاروی، جامعہ الدراسات الاسلامیہ کے مدیر مفتی محمد یوسف طیبی، نائب مدیر مفتی یوسف کشمیری ودیگر نے جماعۃ الدعوۃ کے تحت مرکز تقویٰ گلشن اقبال میں حرمت رسول علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن میں مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، مدارس دینیہ کے مہتمم اور جید علماء کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا کہ فرانس کے شاتمین رسول سے اظہار یکجہتی کے لیے چالیس سربراہان مملکت جمع ہوکر کھلی دشمنی کا اظہار کرسکتے ہیں تو مسلم حکمران ناموس رسالت کے لیے متحد کیوں نہیں ہوسکتے۔ حرمت رسول کے لیے قومی اسمبلی میں محض ایک قرارداد کا منظور ہونا کافی نہیں ہے۔ حکمران حرمت رسول کے مسئلے پر کھڑے ہوجائیں، نتیجتاََ اللہ اس ملک کے مسائل حل کردیں گے۔ کراچی مدارس اور علماء کا شہر ہے۔ علماء کرام اور مذہبی جماعتوں کے قائدین حرمت رسول کے لیے حکمرانوں پر دباؤ ڈال کر انہیں انسداد توہین رسالت کے لیے کردار ادا کرنے پر مجبور کریں۔ حرمت رسول واحد مسئلہ ہے، جس پر پوری امت کو متحد کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنا اور دہشت گردی کا رخ دینی طبقے کی طرف کرنا افسوسناک ہے۔ حرمت رسول کے لیے کردار ادا کرنے سے سیکولر طبقے کی سازشیں ناکام ہوں گی۔ حرمت رسول کا مسئلہ امت مسلمہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ علماء کرام، مذہبی جماعتیں اسلام آباد میں بڑا علماء کنونشن منعقد کرکے تحریک حرمت رسول کے لیے مضبوط لائحہ عمل مرتب کریں۔ جامعہ احسن العلوم کے مہتمم مفتی زر ولی خان نے کہا کہ علماء کرام امت کی رہنمائی کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کریں۔ مدارس اور دینی طبقے کے خلاف سیکولر طبقے کی سازشیں ناقابل برداشت ہیں۔ آپس کے اتحاد سے باطل قوتوں کی خواہشات کو ناکام بنایا جائے۔ رسول اللہﷺ کی ناموس رسالت کی خاطر مذہبی جماعتیں مضبوط کردار ادا کریں، ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ جامعہ بنوریہ سائٹ کے مہتمم مفتی محمد نعیم نے کہا کہ باطل قوتیں مذہبی طبقے کو ختم کرنے میں لگی ہوئی ہیں، لیکن ہمارا اتحاد و اتفاق انہیں ختم کردے گا۔ دشمن ہمیں فروعی مسائل میں الجھاکر ہماری صفوں میں پھوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔ قومیت اور لسانیت کی بنیاد پر قوم کو تقسیم کرنے والے مدارس کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دینی طبقے نے ہمیشہ ایک ہوکر تحفظ ناموس رسالت کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے حکمران مسلم امہ کی ترجمانی کرتے ہوئے مسلمانوں کے مفادات کے لیے کردار ادا کریں۔ تحریک حرمت رسول کے صدر اور جمعیت علمائے پاکستان کے سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی نے کہا کہ تحریک حرمت رسول کے پلیٹ فارم کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستانی قوم ناموس رسالت کی خاطر ہمیشہ متحد ہوکر کردار ادا کرے۔ اگر یورپ چارلی پیدا کریں گے تو مسلمان مائیں غازی علم دین پیدا کریں گی۔ پاکستان کے وزیراعظم کو چاہئے تھا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ناموس رسالت کا کیس پیش کرتے، لیکن وہ پیش نہیں کرسکے۔ ہماری صفوں میں مرکزیت کا رنگ غالب ہونا چاہئے۔ گستاح رسول کی سزا صرف موت ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اسداللہ بھٹو نے کہا کہ ناموس رسالتﷺ ہمارا عقیدہ ہے اور اس کے لیے ہم اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ یورپ نے شاتمین رسول کو ہمیشہ پناہ فراہم کی ہے۔ یورپ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اسلام کا تیزی سے پھیلنا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے۔ مغرب سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد چارلی ہیبڈو پر حملہ مسلمانوں کے خلاف ان کی دوسری بڑی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مکاتب فکر کے علماء متحد ہوکر ناموس رسالت کے لیے کردار ادا کریں۔ ممتاز قادری کی سزائے موت کو برقرار رکھنے سے قوم کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالکریم عابد نے کہا کہ دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کی روک تھام کے لیے جماعۃ الدعوۃ کی کاوشیں لائق تحسین ہے۔ نبی مکرمﷺ کی توہین باطل قوتوں کا ہمیشہ وتیرہ رہا ہے۔ دشمنوں کی امت مسلمہ پر یرغار کی سب سے بڑی وجہ مسلمانوں کا مختلف حصوں میں تقسیم ہونا ہے۔ متحد ہونے کے لیے قربانی کی ضرورت ہے، ہمیں اس سے کسی صورت بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ جمعیت علمائے اسلام (س) کے مرکزی رہنما خواجہ عبدالمنان نے کہا کہ حرمت رسول کے تحفظ کے لیے مسلم امہ ایک ہے۔ مسلمان ملک کے دفاع اور رسول اللہﷺ کے اسوۃ حسنہ کی حفاظت کے لیے ایک ہونے کا ثبوت پیش کریں۔ تحریک حرمت رسول کے سیکرٹری جنرل مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ علماء کنونشن نے اتحاد امت اور تحفظ حرمت رسول کو لازم و ملزوم کردیا ہے۔ فتنہ تکفیر نے ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان سے دوچار کیا ہے۔ پاکستان میں قتل عام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مسلمان حکمرانوں کو گمراہی کی بنا پر دائرہ اسلام سے خارج کرنا خارجیت ہے۔ ہم مسلم امہ کو فرقوں میں بٹنے نہیں دیں گے۔ تحریک حرمت رسول نے تحفظ ناموس رسالت کے لیے ہمیشہ مضبوط کردار ادا کیا ہے۔ میاں نواز شریف مسلمان سربراہوں کو اکھٹا کرکے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیں۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما افضل سردار نے کہا کہ نبی مکرمﷺ کی عزت و احترام ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ یورپ نے ہمیشہ نبی مکرمﷺ کی عزت پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ گستاخانہ رسول کو جواب دینے کے لیے دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ فرانس میں چالیس سربراہان مملکت کے جمع ہونے کے مقابلے میں مسلم حکمرانوں اور جماعتوں کو بھی اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔ مسلمان فرقہ واریت سے نجات پاکر ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہوجائے۔ جماعت غربا اہلحدیث کے رہنما شیخ انس مدنی نے کہا کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ امام کائنات کے مقام و مرتبہ اور عزت و حرمت کے خلاف بلند ہونے والی آواز کو دبانا جانتے ہیں۔ مسلمان نبی مکرمﷺ کی ذات میں گستاخی کسی صورت بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے مفتی شفیق الرحمن نے کہا کہ استعماری طاقتیں امت مسلمہ کے ایمان کو متزلزل کرنے کے لیے ہمیشہ شرارتوں پر اتر آتی ہیں۔ ہمیں حقیقی معنوں میں ایک امت ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے تحفظ ناموس رسالت کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپﷺ کی تعلیمات کا پرچار کرنے کے لیے علمائے امت کو ایک نکتے پر متحد کردیا جائے۔ جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما سیف اللہ خالد نے کہا کہ یہود و نصاری نے افغانستان میں عبرت ناک شکست کے بعد نبی اکرمﷺ اور قرآن کی توہین کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے اندر وحدت پیدا کرکے نبیﷺ کی حرمت و عصمت کی خاطر امت کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کرے۔ نبیﷺ کی حرمت کے لیے دشمن قوتوں سے عالم گیر جنگ بھی کرنی پڑے تو ہمیں دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ جامعہ ستاریہ الاسلامیہ کے شیخ الحدیث محمود احمد حسن نے کہا کہ محمد رسول اللہﷺ کا مقام و مرتبہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ توہین رسالت کے مرتکبین اپنی مذموم حرکتوں سے آپﷺ کی شان کو گٹھا نہیں سکتے۔ جامعہ ابو بکر الاسلامیہ کے استاد ابو عبدالمجید محمد حسین بلتستانی نے کہا کہ معاشرے کے مردہ لوگ حب رسول اور تحفظ ناموس رسالت کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے۔ ہمیں حرمت رسول کے لیے متحد ہوکر مضبوط کردار ادا کرنا ہوگا۔ معروف عالم دین شریف حصاروی نے کہا کہ نبی مکرمﷺ عالم انسانیت کے لیے انتہائی مشفق تھے۔ آپﷺ کی شخصیت سے کسی انسان کو نقصان نہیں پہنچا۔ امام کائنات کی ناموس کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں۔ جامعہ الدراسات الاسلامیہ کے نائب مدیر مفتی یوسف کشمیری نے کہا کہ تحفظ حرمت رسول کی سب سے بڑی ذمہ داری علماء امت پر عائد ہوتی ہیں۔ یہود و نصاریٰ نے سب سے زیاہ انبیاء اور الہامی کتابوں کی توہین کی ہے۔ انبیاء کے وارثین نبی مکرمﷺ کی عزت و حرمت اور شعائر اسلامی کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید : صفحہ اول


loading...