اوبامااوراسرائیلی سفارتخانے پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، گرفتا ر شہری

اوبامااوراسرائیلی سفارتخانے پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، گرفتا ر شہری

 واشنگٹن( اظہر زمان، بیوروچیف) داعش کے حامی نو مسلم امریکی شہری نے تسلیم کیا ہے کہ وہ واشنگٹن میں صدر اوبامہ، کانگریس کے متعدد ارکان اور اسرائیلی سفارت خانے پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا کہ گرفتار کر لیا گیا۔ کرسٹوفر کا رینل اس وقت امریکی ریاست کنٹکی کے شہر سنسناٹی میں قید ہے جہاں جیل سے اس نے سی این این کی رپورٹر کو ٹیلی فون انٹرویو دیا۔ یہ انٹرویو اس مبینہ دہشت گرد کی خواہش پر لیا گیا جسے نشر کرنے کے لئے عدالت میں مقدمہ چلا اور بالآخر عدالت سے اجازت مل گئی۔ 20 سالہ کار نیل کی کئی ماہ تک ایف بی آئی نے نگرانی کی اور شواہد حاصل ہونے کے بعد اسے14 جنوری کو گرفتار کر لیا اپنے انٹرویو میں کارنیل نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ وہ کب اور کس طرح خود ساختہ’’ اسلامی مملکت‘‘ سے رابطے میں آیا۔ تاہم اس نے اپنے عزائم پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اگر اسے موقع ملتا تو وہ صدر اوبامہ پر گولی چلاتا۔ اس کے بعد سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے کچھ ارکان اس کی ہٹ لسٹ پر تھے اور وہ اسرائیلی سفارت خانے پر حملے کا بھی ارادہ رکھتا تھا۔ بعدازاں وہ دوسری عمارتوں پربھی حملے کرنا چاہتا تھا جو اس کے خیال میں ایسے کافروں سے بھری ہیں جو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے میں مصروف ہیں کرسٹوفر کارینل نے صدر اوبامہ پر حملے کی وجہ بتائی کہ’’ اوبامہ اللہ کا دشمن ہے اور اس طرح داعش کا بھی دشمن ہے۔اس کا کہنا تھا کہ امریکہ اور خصوصاً اوبامہ داعش کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کی جارحیت جاری ہے اسے لئے وہ اس کا بدلہ لینے کے لئے کیپٹل ہل پر حملہ کرنا چاہتا تھا کارنیل اپنے آپ کو مسلسل داعش کارکن بتاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ اس نے 20 ستمبر کو واشنگٹن میں بہت بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ ایک مرحلے پر اس نے بتایا کہ میں اسلامی مملکت کے ساتھ ہوں اور وہاں میرا اپنے بھائیوں کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے اس نے مزید بتایا کہ وہ داعش کے ساتھیوں سے مشورہ کرتا تھا کہ امریکہ کے خلاف کیسے’’ جہاد‘‘ کرنا چاہئے اور کس طرح ہمیں داعش کی حمایت کرنے کے لئے اپنے گروپ تشکیل کرنے چاہئیں، کارنیل نے انکشاف کیا کہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں داعش کے حامی موجود ہیں جو غیر معمولی حد تک منظم ہیں اور ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...