آخری وقت میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کسی فارمولے پر متفق ہو سکتی ہیں

آخری وقت میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کسی فارمولے پر متفق ہو سکتی ہیں
آخری وقت میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کسی فارمولے پر متفق ہو سکتی ہیں

  


تجزیہ :قدرت اللہ چودھر  

اگرچہ اس وقت جو دھما چوکڑی مچی ہوئی ہے ۔ اس میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے کہ سینیٹ کاآئندہ چیئرمین کون ہوگا لیکن اگر آپ کو یہ خبر دی جائے کہ چیئرمین کے معاملے پر بالآخردونوں بڑی جماعتوں یعنی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اتفاق رائے ہو جائیگا اوردونوں میں سے ایک جماعت کا چیئرمین منتخب ہوجائیگااوردوسری جماعت کا ڈپٹی چیئرمین تو آپ کو حیرانی تو ضرور ہوگی لیکن جس انداز میں معاملے کو الجھا دیا گیا ہے اس کا احسن حل اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ویسے دیکھا جائے تو معاملہ الجھا نہیں الجھایا گیا ہے۔ ہر جماعت چاہتی ہے کہ ڈپٹی چیئرمین کا تعلق اس سے ہو، ایم کیو ایم اپنا ڈپٹی چیئرمین لانا چاہتی ہے اور اس نے اعلان کیا ہے کہ الطاف حسین امیدوار کا اعلان کریں گے۔جہاں تک مولانا فضل الرحمن کا تعلق ہے وہ بھی اپنا ڈپٹی چیئرمین چاہتے ہیں اور کچھ عجب نہیں کہ اگر کسی کرشمے کے نتیجے میں انہیں کسی کو نامزد کرنے کا اختیار دیا جائے تو وہ اپنے بھائی کو ہی نامزدکریں، ایسے میں کون ان کی مخالفت کرے گا؟ اگر کسی کو ڈپٹی چیئرمین بنانا ہی ہے تو بھائی میں کیا برائی ہے ؟ایم کیو ایم اور مولانا فضل الرحمن کی خواہشات اپنی جگہ تو کیا سات نشستوں والی اے این پی ایسے موقع پر خاموش رہے گی ؟ اگر آٹھ نشستوں والی جماعت ڈپٹی چیئرمین پر حق جتلا سکتی ہے تو صرف ایک نشست کم رکھنے والی جماعت کیوں نہ یہ دعویٰ کرے، مسلم لیگ (ق) کے پاس بھی چار نشستیں ہیں وہ پیپلزپارٹی کی حلیف ہے اور پارٹی کے دور حکومت میں چودھری پرویز الٰہی نائب وزیراعظم رہ چکے ہیں لیکن اس تعلق کے باوجود مسلم لیگ (ق) نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سارے دروازے بند نہیں کئے،ایسے میں اگر وہ بھی ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ مانگ لے تو کسی کو حیرت نہیں ہوگی۔چھ نشستوں والی پی ٹی آئی تو کسی کو بھی ووٹ نہیں ڈالنا چاہتی بلکہ اس نے انتخاب رکوانے کے لئے قانونی راستہ بھی اپنا لیا ہے۔ ایسے میں اگر انتخاب رک جاتا ہے تو چند دنوں کے لئے ہی ایسا ہوگا، تاہم اگر اس کا موقف اٹل رہا تو اس کے چھ ووٹ کھوہ کھاتے ہی جائیں گے ،باقی جماعتیں جن کے ووٹ ہیں بلوچستان سے تعلق رکھتی ہیں جہاں سے میر حاصل بزنجو کا نام سامنے آ رہا ہے لیکن وہ اس صورت منتخب ہو سکتے ہیں جب دونوں بڑی جماعتیں ان کے نام پر صاد کریں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ دونوں جماعتوں کی طرف سے غیر معمولی ایثار کا مظاہرہ ہوگا کہ وہ اپنے اپنے ہیوی ویٹس کو نظر انداز کرکے چھوٹے صوبے کی دلجوئی کا اہتمام کریں۔ اس وقت نمبر گیم کے مطابق اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اتحاد کر لیں تو وہ بڑی آسانی سے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں پر اپنا ایک ایک امیدوار کامیاب کراسکتی ہیں ایسی صورت میں کسی کو چھوٹی جماعتوں کی ناز برداریاں نہیں کرنی پڑیں گی،اور اس وقت جو بھی کھیل ہو رہا ہے وہ اچانک اپنے اختتام کو پہنچ جائیگا۔دوپارٹی نظام کی مضبوطی کے لئے بھی یہ بہترین فیصلہ ہوگا، اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو جو جماعت بھی اپنا چیئرمین لانا چاہے گی،اسے چھوٹی جماعتوں سے ڈپٹی چیئرمین قبول کرنا ہوگا اور یہ کوئی آسان صورت نہیں ہوگی اس وقت بظاہر جو چھوٹی جماعتیں متحد نظرآ رہی ہیں وہ بھی اپنے موقف پر ڈٹ جائیں گی، پھر جو جماعت اپنا چیئرمین لانا چاہے گی اسے چھوٹی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے میں دشواری ہوگی۔پھر ایک صورت یہ ہے کہ کیا چھوٹی جماعتیں صرف ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر مطمئن ہو جائیں گی یا اس کے پردے میں اقتدار کے کیک میں سے بھی کوئی ٹکڑا طلب کریں گی، جمعیت علمائے اسلام (ف)تو باقاعدہ حکومت کی حلیف ہے۔ اس کے دوارکان وفاقی وزیر بھی ہیں،لیکن وہ جب چاہتی ہے اپنی جماعت کا وزن حکومت کے پلڑے سے اٹھا لیتی ہے اب بھی کوئی ایسی صورت حال جنم لے سکتی ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم ہے کیا وہ محض ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر مطمئن ہو جائیگی یا اس سے آگے بڑھ کر بھی کچھ طلب کرے گی۔چیئرمین پیپلز پارٹی کاہو یا مسلم لیگ (ن) کا وہ اگر چھوٹی جماعتوں کے حمایت سے کامیابی چاہتی ہیں تو ایسی صورت میں انہیں ان جماعتوں کے مطالبات ماننے ہونگے۔ آئیڈل اور منطقی صورت تویہ ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں کسی فارمولے پر اتفاق کرلیں۔وہ اگر چھوٹے صوبے کا امیدوار بھی لانا چاہتی ہیں تو بھی اس پر متفق ہو سکتی ہیں۔ایسی صورت میں چھوٹی جماعتوں کی نازبرداری سے نجات مل جائیگی اس لئے امکان یہی ہے کہ بالآخر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں اتفاق رائے ہو جائیگا۔

مزید : تجزیہ


loading...