ایوان بالا میں جمہوریت کا بول بالا

ایوان بالا میں جمہوریت کا بول بالا
ایوان بالا میں جمہوریت کا بول بالا

  


بہتے ہوئے پانی سے غلاظت دور ہو جاتی ہے۔ جاری و ساری سیاسی عمل بھی گندگی میں کمی کا موجب بنتا ہے۔ سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں دکھائی دینے والا رجحان اس جانب ایک اشارہ ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ وفاقی حکومت نے 22ویں آئینی ترمیم لانی بھی تھی یا نہیں۔ یہ سچ ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف مسلم لیگ (ن) سے لے کر تحریک انصاف تک سب ہی کا موقف ایک تھا۔ ماضی کی ڈرٹی پالیٹکس کے حوالے سے بھی بعض سیاسی جماعتیں سرگرم رہیں لیکن میڈیا کا مؤثر اور مثبت کردار، عوامی شعور کو بیدار کرنے میں کامیاب رہا اور کے پی کے جہاں سب سے زیادہ خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے، ایک ماڈل بن کر سامنے آیا۔

نیاپاکستان بنانے کے دعویدار اور تبدیلی کے علمبردار عمران خان سارا کریڈٹ خود لینے کی کوشش کریں تو شاید یہ مناسب نہ ہو گا۔ قوم اتنی بھی سادہ نہیں کہ یہ نہ جان سکے کہ سینیٹ انتخابات کے موقع پر کس کے چھکے چھوٹ گئے تھے؟ پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے اپنے مخصوص داؤپیچ دکھانے کا ارادہ ظاہر کیا تو کے پی کے میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہو گئی۔ یہ دلچسپ مناظر بھی دیکھنے میں آئے کہ خطرے کی بو سونگھ کر عمران خان خود پشاور جا کر بیٹھ گئے۔ وہ کئی روز تک اپنی ہی جماعت پر بری طرح سے برستے رہے۔ انہوں نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی پر گہرے شک و شبے کا اظہار کرتے ہوئے وارننگ دی کہ کسی نے پیسے پکڑ کر دوسرے امیدوار کو ووٹ دیا تو صوبائی اسمبلی کا ہی خاتمہ کر دیا جائے گا۔ الیکشن سے ایک روز پہلے تک عمران خان اپنی جماعت کے حوالے سے مکمل بداعتمادی میں مبتلا رہے۔ وہ تو بھلا ہو پیپلزپارٹی اور اے این پی میں عملی سیاست سیکھ کر تحریک انصاف کے ذریعے وزیراعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے والے پرویزخٹک کاکہ جنہوں نے جوڑتوڑ کیلئے اپنی مہارت بروئے کار لا کر معاملات کو کنٹرول کیا۔ کہا جاتا ہے کہ پرویزخٹک اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مکمل رابطے میں تھے۔ گورنرکے پی کے سردار مہتاب نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ دونوں جماعتوں نے مل کر ہارس ٹریڈنگ کا منصوبہ ناکام بنایا۔ تحریک انصاف والے اپنے ارکان اسمبلی پر اعتبار کرنے کیلئے آخری وقت تک تیار نہ ہوئے۔ چنانچہ بیلٹ باکس میں سفید کاغذ ڈال کر ووٹوں کی پرچیاں باہر لانے کی حکمت عملی اختیار کی گئی جو کامیاب رہی۔

کے پی کے میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت مطلوبہ نتائج حاصل کئے لیکن بلوچستان میں ایسا نہ ہو سکا۔ سردار یعقوب ناصر کی شکست مسلم لیگ (ن) کیلئے کسی دھچکے سے کم نہیں۔ پنجاب میں چند ایک لیگی ارکان نے پیپلزپارٹی کے ندیم افضل چن کو ووٹ دے کر اپنا غصہ ظاہر کر دیا۔ سندھ میں اگرچہ صوبائی پارلیمانی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کا کچھ خاص کردار نہیں پھر بھی اس کے چند ایک ارکان نے پارٹی گائیڈلائن کی پروا نہیں کی۔ بلوچستان اور سندھ کے حوالے سے جو حلقے یہ اعتراض اٹھا رہے تھے کہ مسلم لیگ (ن) نے وہاں اپنی ہی پارٹی کے ارکان اسمبلی، رہنماؤں اور کارکنوں کو یکسر نظراندازکر رکھا ہے اب ان کی باتوں میں وزن نظر آ رہا ہے۔ پنجاب کے حوالے سے تو یہ شکایت عام تھی کہ شریف برادران سے ارکان اسمبلی تو کجا وزراء تک کو ملاقات کا ’’شرف‘‘ آسانی سے حاصل نہیں ہوتا۔ سو سینیٹ الیکشن میں حکومتی جماعت کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں یہ کہنا ہی مناسب ہو گا کہ ’’یہ تو ہونا ہی تھا۔‘‘۔ فاٹا ارکان کو قابو کرنے کیلئے آدھی رات کو جاری ہونے والا آرڈیننس نہایت بھونڈا فیصلہ تھا۔ حکومت نے خود ہی اپنی بوکھلاہٹ واضح کر دی۔ صحیح کام غلط وقت پر کر کے ثابت کر دیا کہ یہ فیصلہ نیک نیتی پر مبنی نہ تھا۔

حکومت کی کوشش یہ نظر آ رہی ہے کہ سینیٹ کے عہدے اگر ان کی جماعت کو نہیں مل سکتے تو اتحادی پارٹی کو ہی مل جائیں۔ اس حوالے سے ایک اچھا نام بلوچستان سے میرحاصل بزنجو کی صورت میں سامنے آیا ہے لیکن ابھی یہ فائنل نہیں۔ ادھر آصف زرداری ہیں کہ مسلسل چالیں چل رہے ہیں اور تازہ ترین یہ کہ بلوچستان سے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہونے والے یوسف بادینی حلقہ بگوش پیپلزپارٹی ہو چکے ہیں۔ بعض ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ پیپلزپارٹی نے چیئرمین سینیٹ کا عہدہ اپنے لئے مانگا ہے۔ یہ ایسا نامناسب مطالبہ بھی نہیں کیونکہ ایوان میں سنگل لارجسٹ پارٹی ہونے کا اعزاز اب بھی انہی کے پاس ہے۔ ڈپٹی چیئرمین کے عہدے طلب کرنے میں ایک طرف مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی ہے تو دوسری جانب شہری سندھ کی ’’بے تاج بادشاہ‘‘ ایم کیو ایم کھڑی ہے۔ دیکھیں سودے بازی اور سیاسی جوڑتوڑ کیا رنگ اختیار کرتا ہے؟

دیکھنا ہو گا کہ اس حوالے سے ہونیوالی پیشرفت کسی مفاہمت پر منتج ہوتی ہے یا پھر محاذآرائی کو بڑھاوا دینے کا سبب بنتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بہت محتاط انداز میں فیصلے کرنا ہوں گے۔ کیا یہ مناسب ہو گا کہ عہدہ حاصل کرنے کی کوشش میں پیپلزپارٹی کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز خراب کر لئے جائیں۔ شریف برادران یہ بات کس طرح نظرانداز کر سکتے ہیں کہ یہ آصف زرداری ہی تھے کہ جو دھرنے کے موقع پر حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو گئے تھے۔ پیپلزپارٹی کی تجویز پر ہی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت گرانے کا 100فیصد یقینی منصوبہ لے کر آنے والے الٹے پاؤں واپس لوٹنے پر مجبور ہو گئے۔ پیپلزپارٹی اور حلیف جماعتیں ساتھ نہ دیتیں تو دھرنوں کے دوران حکومت کو ہر صورت دھر لیا جاتا۔ سکرپٹ رائٹر کو دھول چٹانے کا کریڈٹ کس کو ملنا چاہیے یہ راز کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدوں پر امیدوار لانے کیلئے کشادہ دلی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہی حکومتی مفاد میں ہو گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تلخیاں جنم لیں اور تنازعات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے۔ ملک کے معروضی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اگر سب کو ساتھ لے کر چلنا ممکن نہ ہو تو بھی زیادہ سے زیادہ سیاسی سٹیک ہولڈروں کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ حکومت گرانے کے جنون میں مبتلا تحریک انصاف کے ساتھ کے پی کے میں مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے تو سینیٹ عہدوں کیلئے پیپلزپارٹی کے ساتھ اتفاق رائے کیونکر پیدا نہیں کیا جا سکتا؟

سینیٹ الیکشن کے اس سارے عمل میں قوم کیلئے طمانیت کی بات یہ ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کو بڑی حد تک شکست ہو گئی۔ کے پی کے میں جو ہارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے وہ ہاتھ ملتے رہ گئے۔ یہ سب اسی لئے ممکن ہوا کہ لولا لنگڑا ہی سہی لیکن جمہوری عمل جاری و ساری ہے۔ بعض صحافتی ہونق ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے صرف سیاستدانوں کی جانب منہ کر کے زور زور سے آوازیں نکالنے پر لگے ہوئے تھے۔ یہ سب بھی جمہوریت کے باعث ہی ممکن ہوا۔ آج اگر کوئی جرنیل حکمران ہوتا تو بڑے بڑے جری تجزیہ کاروں، لکھاریوں اور اینکروں کی زبانیں گنگ ہو گئی ہوتیں۔ غیرجمہوری دور کی جعلی اسمبلیوں کے دھاندلی زدہ انتخابات کے نتائج الیکشن کمشن کے بجائے کسی ’’سیف ہاؤس‘‘ میں مرتب ہوتے۔ اب تو ہارس ٹریڈنگ کا راستہ بڑی حد تک رک گیا ہے۔ فوجی دور ہوتا تو ایک آدھ گھوڑا نہیں بلکہ پورے کے پورے اصطبل خریدوفروخت کیلئے پیش ہوتے۔ مسلم لیگ (ن) کو کاٹ کر ق لیگ بنائی جاتی، پیپلزپارٹی سے پیٹریاٹ گروپ نکالا جاتا اور ایوان بالا کا وقار بلند ہونے کے بجائے داغ لگ جاتا۔ سطور رقم ہونے تک یہ اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ وزیراعظم نے آج تمام پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کو ملاقات کیلئے مدعو کیا ہے جس میں متفقہ چیئرمین لانے کا امکان روشن ہو گیا ہے۔

مزید : کالم


loading...