برطانیہ نے بچوں کیلئے جنسی تعلقات کی تعلیم لازمی قراردیدی

برطانیہ نے بچوں کیلئے جنسی تعلقات کی تعلیم لازمی قراردیدی
برطانیہ نے بچوں کیلئے جنسی تعلقات کی تعلیم لازمی قراردیدی

  


لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) ممبران پارلیمنٹ کی سفارش پر برطانوی حکومت نے 11 سالہ بچوں کیلئے جنسی تعلقات کے بارے میں تعلیم لازمی قراردیدی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ بعض ممبرانِ پارلیمان کی جانب سے اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ سکولوں میں جنسی تعلیم کو ہر طالب علم کے لیے لازمی بنایا جائے۔

برطانیہ میں تعلیم کے سیکریٹری نک مورگن کا کہنا ہے کہ جنسیت کے معاملے میں بچوں کو بے حد دباو¿ کا سامنا ہوتا ہے اور ہمیں اس سے متعلق خطرات سے بچانے میں ان کی مدد کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہماری لڑکیاں جو تعلیم حاصل کریں وہ انہیں نہ صرف تعلیم کے شعبے میں کامیابی دے بلکہ انہیں جدید برطانیہ میں زندگی بسر کرنے کے لیے بھی تیار کرے۔

بی بی سی کے مطابق اس سے پہلے برطانوی سماج میں جنسیت کبھی اتنے عام نہیں تھی جتنی اب ہے، اس کا ایک اندازہ تب ہوتا ہے جب کم سن بچیوں کے حاملہ ہونے کی تعداد پر نظر ڈالی جائے۔ایک حالیہ تحقیق کے مطابق برطانیہ یورپی یونین کا وہ چوتھا بڑا ملک ہے جہاں کم سن بچیاں سب سے زیادہ حاملہ ہوتی ہیں۔برطانیہ کے سکولوں میں بچوں کو واضح طور یہ بتایا جائے کہ کسی بھی جنسی رشتے کے لیے وہ اپنی رضامندی کب اور کیسے دیں حالانکہ برطانیہ میں ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی قانونی عمر 16 برس ہے۔

مزید : انسانی حقوق


loading...