کبھی کبھار کال نہ بھی آرہی ہو تو وائبریشن کیوں محسوس ہوتی ہے؟دلچسپ حقیقت جانئے

کبھی کبھار کال نہ بھی آرہی ہو تو وائبریشن کیوں محسوس ہوتی ہے؟دلچسپ حقیقت ...
کبھی کبھار کال نہ بھی آرہی ہو تو وائبریشن کیوں محسوس ہوتی ہے؟دلچسپ حقیقت جانئے

  


سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) ہمیں بعض اوقات اپنا فون وائبریٹ کرتا محسوس ہوتا ہے لیکن جب ہم اسے دیکھتے ہیں تو یہ بالکل ساکت ہوتا ہے اور ہم اس سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ شائد فون وائبریٹ ہوا تھا یا شائد یہ محض شک تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا کسی کسی کے ساتھ نہیں بلکہ تقریباً سب کے ساتھ ہوتا ہے اور اس معاملے پر سائنسی تحقیق کے بعد اہم انکشافات بھی سامنے آ چکے ہیں۔

2 سال میں 10 شادیاں، ایرانی لڑکی گرفتار 

امریکہ سے تعلق رکھنے والے کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈیوڈ لارامی نے اسی موضوع پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تقریباً دو تہائی افراد کو تخلیاتی وائبریشن کا تجربہ ہوتا ہے اور وہ اس کی وجہ دماے کے طرز کار کو قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دماغ میں حرکات کو ڈھونڈنے کی صلاحیت قدرتی طور پر پائی جاتی ہے اور جلد میں دو قسم کے عصبائیے وائبریشن کو محسوس کرتے ہیں۔ ایک قسم ہلکی فریکوئنسی جبکہ دوسری قسم تیز فریکوئنسی کو محسوس کرتی ہے۔

زیادہ تر موبائل فون 130 سے 180 ہرٹز کے درمیان وائبریٹ کرتے ہیں اور اتفاق سے یہ فریکوئنسی دونوں اقسام کے عصبائیوں کی فریکوئنسی کے تقریباً درمیان میں ہے۔ جب ہمارے کپڑے جسم کے ساتھ چھوتے ہیں یا ہم کوئی موہوم آواز سنتے ہیں تو دماغ اسے اس آواز کے ساتھ منسلک کر دیتا ہے جو اکثر دماغ کی توجہ کھینچتی رہتی ہے۔ چونکہ موجودہ دور میں موبائل فون اور اس کی وائبریشن زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے لہٰذا دماغ موہوم آوازوں کو وائبریشن کے طور پر پیش کرتا ہے جبکہ اصل میں فون خاموش ہوتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس اشقباہ کو ”فینٹم وائبریشن سنڈروم“ کا نام دیا ہے اور یہ کم عمر اور نوجوان لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...