بلوچستان سے مسلم لیگ ق کی خاتون سینیٹر کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنائے جانے کا امکان

بلوچستان سے مسلم لیگ ق کی خاتون سینیٹر کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنائے جانے کا ...
بلوچستان سے مسلم لیگ ق کی خاتون سینیٹر کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنائے جانے کا امکان

  


اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ملک میں سینیٹ انتخابات کے مرحلے کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے سیاسی جماعتوں میں مشاورت اور سیاسی گٹھ جوڑ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کے لیے پیپلز پارٹی کے رہنماءرضا ربانی کا نام فائنل کر لیا ہے۔چیئرمین سینیٹ کا نام فائنل کرنے کے بعد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اور سینیٹ میں اکثریت لینے والی جناعت پیپلز پارٹی نے تمام جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا عہدہ بلوچستان کو دیا جائے گا۔

پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے رہنماوں کی خفیہ ملاقات،جوڈیشیل کمیشن پرتبادلہ خیال

ذرائع کے مطابق اس فیصلے پر عمل کرنے کے لیے ابھی تک پاکستان مسلم لیگ ق کی خاتون سینیٹر روبینہ عرفان کے نام پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ روبینہ عرفان کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نامزد کرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سربراہ اسرار اللہ زہری بھی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بننے کے خواہشمند ہیں جبکہ جمعیت علماءاسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ان کی جماعت سے منتخب کیا جائے۔اس حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کی جماعتیں جو امید وار لائیں گی اس کی حمایت کی جائے گی جبکہ ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ حکومت اور پیپلز پارٹی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے کوئی امیدوار سامنے نہیں لا رہی اور یہ عہدہ بلوچستان کے امید وار کو ہی دیا جا رہا ہے۔جبکہ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ق کی خاتون سینیٹر روبینہ عرفان کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنانے کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...