فلمسٹار حبیب ۔۔۔ خوبصورت یادیں

فلمسٹار حبیب ۔۔۔ خوبصورت یادیں
فلمسٹار حبیب ۔۔۔ خوبصورت یادیں

  

1990ء میں روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کا اجراء ہوا اور مَیں دوسرے کئی ساتھیوں کے ساتھ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ آ گیا۔ ہمارے دفتر کے سامنے ہی حبیب کا گھر تھا۔ اس لئے ملاقاتوں میں اضافہ ہو گیا۔ایک دفعہ اداکار حبیب نے بڑی ہی بے تکلفی کے ساتھ مجھے اپنے گھر میں کھانے کی دعوت کا کہا کہ یار اپنے گھر میں کھانا کھلاؤ۔ مجھے پہلے سے ہی اپنے چچا ظفر علی کے ساتھ حبیب کے تعلق کا پتہ تھا، لیکن میں نے حبیب صاحب کے ساتھ اس کا کبھی ذکر نہ کیا تھا۔ میں نے اداکار حبیب اور دیگر دوستوں کو کھانے کی دعوت گوجرانوالہ میں چچا کے گھر دے دی۔ جو انہوں نے بخوشی قبول کرلی۔ قصہ مختصر جب گوجرانوالہ پہنچے تو پرانے گھر کو دیکھ کر ششدر رہ گئے اور مجھے مخاطب کرکے بولے۔ سلیم تم مجھے کہاں لے آئے ہو۔ لگتا ہے مَیں کئی سال پہلے بھی یہاں آ چکا ہوں۔

ہم گھر میں داخل ہوئے تو میرے چھوٹے چچا سکندر علی سے ہاتھ ملایا، پھر میرے دادا جی سے جو صحن میں چارپائی پر بیٹھے تھے۔ سلام دعا ہوئی اس کے بعد میرے چچا ظفر علی نے ان کا استقبال کیا اور بولے یار حبیب تم کہاں اور کتنی دیر کے بعد نظر آئے ہو۔ حبیب نے بھی کچھ ایسا ہی جواب دیا۔ اداکار حبیب نے مجھے کہا کہ تم نے مجھے بتایا ہی نہیں کہ ظفر کے گھر جانا ہے، بہرحال میں نے دونوں کو بے خبر رکھا ہوا تھا کہ کہاں جانا ہے اور کون آیا ہے۔کھانے کی ٹیبل پر گزرے ہوئے دنوں کی باتیں ہوئیں اور اس دوران حبیب صاحب نے بتایا کہ ظفر اور میں لاہور باغ گل بیگم میں کرائے کے ایک فلیٹ میں اکٹھے کئی سال تک رہے ہیں۔ یہ محکمہ کسٹم میں چلے گئے اور میں ایک دفتر میں سٹینو کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ بعد میں ہم ایک فلم ’’لخت جگر‘‘ کی شوٹنگ دیکھنے اکٹھے گئے اور ایک چھوٹے سے کردار کے لئے مجھے ہدایت کار لقمان نے چن لیا بعد میں اس فلم کے ہیرو اسلم پرویز کے لندن چلے جانے سے مجھے نورجہاں اور یاسمین کے ساتھ کاسٹ کر لیا اور یوں میری فلمی زندگی کا آغاز ہو گیا۔

ایک عرصہ بعد ظفر اور میری ملاقات بڑے ڈرامائی انداز میں ہوئی۔ پھر مجھے کہنے لگے کہ سلیم تمہارے ساتھ دوستی تو ہے، لیکن اب تم پہلے بھتیجے ہو، بعد میں کچھ اور۔۔۔ اس کے بعد میں، خالد تبسم اور زید خواجہ ایک پی پی پی کی ایم پی اے تھیں، ان کی دعوت پر قصور گئے (بعد میں ایم پی اے خاتون کا ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا تھا)۔۔۔ کئی اور جگہوں پر حبیب صاحب کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا، لیکن میرے چچا ظفر علی کے تعلق کے حوالے سے تھوڑا سا ریزرو ہو گئے تھے۔ اس کے بعد فلمسٹار حبیب نے ایک پنجابی فلم ’’باغی‘‘ شروع کی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ یہ فلم آصف علی زرداری کے کہنے پر شروع کی ہے۔ یہ فلم اردو اور سندھی میں ڈب ہو گی۔ یہ فلم ’’ونی‘‘ کی رسم کے خلاف ایک جہاد کے طور پر بنائی جا رہی ہے۔ اس کے سارے انتظامی معاملات میرے اور خالد تبسم کے سپرد تھے۔ اس فلم کی کاسٹ کے حوالے سے فلمسٹار حبیب اور ہمارے درمیان اختلاف رائے بھی ہوا، لیکن ان کے زیادہ تجربے کی وجہ سے ہمیں ان کی دلیل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ بہرحال ’’باغی‘‘ بن گئی، پنجاب میں تو اتنی کامیاب نہ ہوئی، لیکن سندھ میں کافی کامیابی سے چلی اور صوبائی گورنمنٹ نے اس کا ٹیکس بھی معاف کر دیا تھا۔بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔یہ کہانیاں تو چلتی اور چھپتی رہیں گی، لیکن فلم سٹار حبیب جیسے جادوئی شخصیت کے حامل بڑے ہی ہمدرد دوست، بھائی دنیا میں کہیں مل نہ پائیں گے۔ اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت میں جگہ عطا فرمائے۔آمین

مزید :

کالم -